عبلہ الکحلاوی

لوگ آج

عبلة الكحلاوي

–

القاهرة → مكة المكرمة

مصری فقیہہ اور داعیہ (1948–2021)، جامعہ ازہر کے کلیۂ اسلامی و عربی علوم برائے خواتین میں فقہِ مقارن کی استاد اور اس کی ڈین، جنہوں نے 1987 سے 1989 تک مسجد الحرام میں خواتین کے لیے روزانہ درس دیے، «فی حب المصطفیٰ» سمیت ٹیلی وژن پر دینی پروگرام پیش کیے، مقطم میں الباقیات الصالحات خیراتی انجمن قائم کی، اور قاہرہ میں کورونا سے وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ · واعظ · teacher · writer
دور
العصر المعاصر
خطہ
egypt-nile
شناختیں
WikidataVIAF
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزیز بوتفلیقہ · عبد الحميد الأزهري · عبد القدیر خان · عبداللہ احمد بداوی · علی حسن موینی

مکان میں

القاهرةمكة المكرمة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبلہ محمد مرسی عبداللطیف الکحلاوی ایک مصری فقیہہ اور داعیہ تھیں، جو 15 دسمبر 1948 کو قاہرہ کے محلہ زمالک میں پیدا ہوئیں اور 24 جنوری 2021 کو وفات پائی۔ 1 2 3 وہ جامعہ ازہر کے کلیۂ اسلامی و عربی علوم برائے خواتین میں فقہ کی استاد اور اس کی ڈین تھیں، اور اپنے سامعین میں «ماما عبلہ» کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ 1 3

    خاندان

    وہ مصری دینی نعت خواں محمد الکحلاوی کی سب سے بڑی بیٹی تھیں، اور اسلامی فنِ تعمیر کے استاد محمد الکحلاوی اور نعت خواں احمد الکحلاوی کی بہن۔ 1 3 عربی مضمون کے مطابق ان کی شادی کم عمری میں محمد یاسین بسیونی سے ہوئی، جو انجینئر اور فوجی افسر تھے اور جنہیں ان کے والد نے ان کے لیے چنا، اور جو جنگِ اکتوبر میں مارے گئے؛ پھر انہوں نے اپنی تین بیٹیوں کی پرورش اور کفالت تنہا کی۔ 1

    تعلیم اور تدریس

    عربی مضمون کے مطابق وہ سفیر بننا چاہتی تھیں، مگر والد کی خواہش پر جامعہ ازہر کے کلیۂ اسلامی علوم میں داخل ہوئیں اور 1969 میں فارغ ہوئیں۔ 1 انہوں نے 1974 میں «شوریٰ، اسلامی حکومت کا قاعدہ» کے موضوع پر مقالے کے ساتھ فقہِ مقارن میں ایم اے اور 1978 میں ڈاکٹریٹ کی۔ 1 3 2 انہوں نے ریاض کے کالج آف ایجوکیشن برائے طالبات میں پڑھایا، 1979 میں مکہ کے کالج آف ایجوکیشن میں شعبۂ شریعہ کی سربراہ رہیں، اور پھر ازہر کے کالج برائے خواتین میں فقہِ مقارن کی استاد اور کلیۂ اسلامی و عربی علوم کی ڈین بن کر لوٹیں۔ 1 3

    دعوت اور نشریات

    1987 سے 1989 تک انہوں نے مسجد الحرام میں خواتین کے لیے روزانہ درس دیے جن میں دنیا بھر سے آئی ہوئی حاجی خواتین شریک ہوتیں۔ 3 1 قاہرہ لوٹ کر انہوں نے البساتین میں اپنے والد کی مسجد، جامع ازہر اور مقطم میں بیت الحمد میں خواتین کے لیے اپنے درس جاری رکھے۔ 1 3 انہوں نے اقرأ، الرسالہ اور الناس چینلوں پر ٹیلی وژن پروگرام پیش کیے، جن میں «فی حب المصطفیٰ» بھی ہے جو رمضان 1428ھ میں الرسالہ پر نشر ہوا اور اسابیل آرکائیو میں فی حب المصطفیٰ کے نام سے محفوظ ہے۔ 1 4 عربی مضمون ان کے انداز کو نرم اور سادہ بتاتا ہے، کہتا ہے کہ انہوں نے سیرتِ نبوی اور اخلاقی و روحانی پہلو پر توجہ دی اور متنازع مسائل سے گریز کیا، اور یہ بھی ذکر کرتا ہے کہ بعض ناقدین کے خیال میں وہ دینی خطاب کو یکسانیت سے نہ نکال سکیں۔ 1

    انگریزی مضمون کے مطابق وہ 2009 میں «500 سب سے بااثر مسلمان» کی پہلی اشاعت میں شامل ہوئیں، 2006 میں ان 41 علما میں تھیں جنہوں نے ڈنمارک کے کارٹونوں کے بعد ہونے والے تشدد کی مذمت کی اور ساتھ ہی کارٹونوں کو رد کیا، اور «ہمارے اور آپ کے درمیان ایک مشترک کلمہ» نامی خط پر دستخط کرنے والوں میں تھیں۔ 3

    خیراتی کام

    انہوں نے مقطم میں الباقیات الصالحات انجمن قائم کی جو یتیموں، بزرگوں اور سرطان و الزائمر کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہے، اور اس کے ساتھ بزرگ مردوں اور عورتوں اور علاج کے لیے صوبوں سے آنے والے سرطان زدہ بچوں کے لیے مراکز بنائے۔ 1 3 عربی مضمون کے مطابق 2020 میں انہیں مصر کی مثالی ماں چنا گیا۔ 1

    تصانیف

    دونوں مضامین ان کی جن کتابوں کا ذکر کرتے ہیں ان میں «الخلع، لا علاج کا علاج: فقہِ مقارن کا مطالعہ» (2000)، «مسافر بلا طریق» (2003)، «قرآن و سنت کی روشنی میں فرزندی اور پدری» (2005)، «حج و عمرہ میں عورت کے مسائل» (2005)، «احبوہ کما احبکم» اور «قلبی معاک» (2011)، اور معیشت و ترقی کے تحفظ میں زکوٰۃ کے کردار پر ایک کتاب (1996) شامل ہیں۔ 1 3

    وفات

    عربی مضمون اور ویکی ڈیٹا کے مطابق وہ 24 جنوری 2021 کو بہتر سال کی عمر میں کووڈ-19 سے فوت ہوئیں؛ انگریزی مضمون 25 جنوری بتاتا ہے۔ 1 2 3

    ان کے پروگرام «فی حب المصطفیٰ» میں

    پروگرام میں وہ مصری عامیانہ عربی میں، جس میں فصیح عربی گھلی ملی ہے، گفتگو کرتی ہیں، ہر قسط نبی پر سلام سے شروع کرتی ہیں اور ناظرین کو سلام پر ختم کرتی ہیں۔ 5 6 7 محبت سیرت میں ان کا دروازہ ہے: ان کے بقول نبی محبت کا پیغام لائے، اور محبت تب ہی خالص ہوتی ہے جب اللہ سے گزرے۔ 5 8 وہ سیرت کی خواتین پر خاص توجہ دیتی ہیں: دو اقساط نبی کی ماؤں اور دودھ پلانے والیوں کے لیے رکھتی ہیں اور کاش کہتی ہیں کہ وہ ان میں سے ہوتیں، کہتی ہیں کہ عورت کو حقیقی آزادی نبی نے دی، اور ایک قسط عورت کے بطور ماں، بیٹی، بیوی اور بیوہ حقوق کے لیے رکھتی ہیں۔ 9 10 11 12 13 بعض مقامات پر وہ اس پر تنقید کرتی ہیں جسے وہ «برا زمانہ» کہتی ہیں: جنگیں، عالمگیریت، اقدار کی تجارت اور اخلاق سے خالی معیشت۔ 14 15 16 وہ پروگرام اس دعوت پر ختم کرتی ہیں کہ نبی سے محبت ان کے منہج کی پیروی ہو، صرف مدحیں اور میلاد نہیں، اور لوگ ایک دوسرے سے محبت کریں، خونریزی روکیں، اور تعلیم اور سائنسی برتری پر خرچ کریں۔ 17 18 19 20

    پیشہ ورانہ سفر

    ان عہدوں کی تاریخیں درج نہیں، اس لیے یہ نیچے الفاظ میں دیے گئے ہیں۔

    • فقیہ · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ
    • مدرس · ایک اور پیشہ · بغیر تاریخ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Died in
    القاهرة
    Lived in
    مكة المكرمة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء· ابن الفارض· محمد ماکین صینی· محمد متولی الشعراوی· وانگ جنگژائی· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· دار الندوة

    ماخذ

    1. عبلہ الکحلاوی — عربی ویکیپیڈیا
    2. عبلہ الکحلاوی — ویکی ڈیٹا Q5104483
    3. عبلہ الکحلاوی — انگریزی ویکیپیڈیا
    4. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو
    5. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 1, 00:00:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    6. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 4, 00:07:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    7. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 4, 00:07:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    8. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 2, 00:04:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    9. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 6, 00:00:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    10. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 7, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    11. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 7, 00:09:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    12. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 11, 00:02:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    13. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 23, 00:00:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    14. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 1, 00:03:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    15. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 11, 00:02:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    16. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 17, 00:01:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    17. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 27, 00:08:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    18. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 27, 00:08:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    19. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 27, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    20. عبلہ الکحلاوی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Fi Hub Al Mustapha، قسط 27, 00:10:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبلہ الکحلاوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abla-al-kahlawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء

    ذہبی نے طلبِ حدیث میں سفر کیا: بعلبک میں ابن خلیک بن علوان اور زینب بنت عمر بن الکندی سے، مکہ میں توزری سے، حلب میں شوکر زینی سے، نابلوس میں عماد بن بدران سے، اسکندریہ میں ابو الحسن عراقی اور یحیی صواف سے سنا، اور قاہرہ میں سب سے زیادہ قیام کیا جہاں ابن منصور افریقی اور خصوصاً تقی الدین ابن دقیق العید سے پڑھا — یہاں تک کہ ان کے شیوخ تیرہ سو سے تجاوز کر گئے جن کی تراجم انہوں نے اپنے «معجم» میں جمع کیں ۔ ابن حجر کے مطابق انہوں نے اپنے لیے تقریباً تیس سفری جزوے مرتب کیے ۔