عبداللہ احمد بداوی

عبد الله أحمد بدوي

–

ملائیشیائی سیاست دان، جو 1939ء میں بایان لیپس، پینانگ میں پیدا ہوئے۔ ایک سرکاری افسر کے طور پر 1978ء میں پارلیمنٹ میں داخل ہوئے، کئی وزارتیں اور نائب وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالا، پھر 2003ء میں مہاتیر محمد کے جانشین کے طور پر پانچویں وزیرِ اعظم بنے اور اصلاحات اور اپنے تصور «اسلام حضاری» کو فروغ دیا؛ 2008ء کے بھاری انتخابی نقصانات کے بعد 2009ء میں مستعفی ہوئے اور 2025ء میں کوالالمپور میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علی خامنہ ای · کولیت خوری · طاہر عثمان باؤچی · مائیکل بمبانگ ہارٹونو · صنع اللہ ابراہیم

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبداللہ احمد بداوی (1939ء–2025ء) ملائیشیائی سیاست دان تھے جو 2003ء سے 2009ء تک ملک کے پانچویں وزیرِ اعظم رہے۔ وہ بایان لیپس، پینانگ میں ایک ممتاز دینی خاندان میں پیدا ہوئے، سرکاری ملازمت کے بعد 1978ء میں پارلیمنٹ میں داخل ہوئے، کئی وزارتوں سے گزر کر نائب وزیرِ اعظم بنے اور پھر مہاتیر محمد کے جانشین ہوئے اور اپنا تصور «اسلام حضاری» پیش کیا۔ وہ عوام میں «پاک لاہ» کے نام سے معروف ہیں؛ «تن» جس سے وہ مخاطب کیے جاتے ہیں اعزازی لقب ہے، ان کے نام کا حصہ نہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    عبداللہ بن احمد بداوی 26 نومبر 1939ء کو بایان لیپس، پینانگ کے گاؤں کامپونگ پرلس میں ایک ممتاز دینی خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا شیخ عبداللہ بداوی فہیم حضرمی نژاد عالم تھے، حزب المسلمین — وہ تحریک جس سے بعد میں پان ملائیشین اسلامک پارٹی (پاس) بنی — کے بانیوں میں شامل اور آزادی کے بعد پینانگ کے پہلے مفتی تھے؛ ان کے والد احمد بداوی دینی استاد اور امنو کے رکن تھے۔ پینانگ میں تعلیم کے بعد عبداللہ نے 1964ء میں یونیورسٹی آف ملایہ سے اسلامیات میں ڈگری حاصل کی۔ 3 4

    سرکاری ملازمت اور ابتدائی کیریئر

    عبداللہ 1964ء میں ملائیشیا کی انتظامی و سفارتی سروس میں شامل ہوئے، وزارتِ نوجوانان و کھیل اور قومی آپریشنز کونسل میں خدمات انجام دیں، پھر 1978ء میں مستعفی ہو کر کیپالا باتاس سے رکنِ پارلیمنٹ بنے — وہی نشست جس کی نمائندگی ان کے والد نے بھی کی تھی — اور 2013ء تک اس پر فائز رہے۔ انھوں نے تعلیم، دفاع اور خارجہ سمیت کئی وزارتیں سنبھالیں، اور جنوری 1999ء میں انور ابراہیم کی برطرفی کے بعد مہاتیر نے انھیں نائب وزیرِ اعظم مقرر کیا۔ 3

    وزیرِ اعظم

    اکتوبر 2003ء میں مہاتیر کے جانشین بن کر عبداللہ اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ برسرِ اقتدار آئے: ان کے اتحاد باریسن نیشنل نے 2004ء کے انتخابات میں بھرپور کامیابی حاصل کی، انھوں نے پولیس بدعنوانی پر شاہی کمیشن قائم کیا، وزرا کے لیے اثاثے ظاہر کرنا لازم کیا، اور «اسلام حضاری» متعارف کرایا، جو رواداری اور جدت پر زور دینے والی اسلام کی ایک معتدل تعبیر تھی۔ اصلاحات کی رفتار ماند پڑ گئی اور 2008ء کے انتخابات میں اتحاد دو تہائی اکثریت اور چار ریاستی حکومتیں کھو بیٹھا؛ وہ مستعفی ہوئے اور 3 اپریل 2009ء کو ان کے نائب نجیب رزاق ان کے جانشین بنے۔ 3 5

    وفات اور خاندان

    عبداللہ 14 اپریل 2025ء کو کوالالمپور کے قومی ادارۂ قلب میں متعدد اعضا کی ناکامی سے پچاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے؛ ان کی سرکاری آخری رسومات ادا کی گئیں اور وہ قومی مسجد کے قریب مقبرۂ ہیروز میں دفن ہوئے۔ اس سجل کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ نے عبداللہ احمد بداوی کے لیے کوئی مذہبی مکتبِ فکر نہیں بتایا — ان کا دینی خاندان، ان کی ڈگری اور ان کی عوامی پالیسیاں مکتب کی نسبت کا بدل نہیں — اور یہ سجل بھی کوئی مکتب درج نہیں کرتا۔ 3 4 2

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Abdullah Ahmad Badawi — Urdu Wikipedia
    2. Abdullah Ahmad Badawi — Wikidata Q272588
    3. Abdullah Ahmad Badawi — English Wikipedia
    4. Abdullah Ahmad Badawi — Indonesian Wikipedia
    5. Abdullah Ahmad Badawi — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبداللہ احمد بداوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdullah-ahmad-badawi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔