علی خامنہ ای

علي خامنئي

–

مشهد

علی خامنہ ای (1939ء–2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے، 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر اور پھر 1989ء سے 28 فروری 2026ء کو ایران جنگ 2026ء کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے قتل تک اس کے دوسرے رہبرِ اعلیٰ رہے — یہ کسی بھی رہبرِ اعلیٰ کی طویل ترین مدت ہے۔ وہ مشہد میں پیدا ہوئے، قم میں روح اللہ خمینی کے دروس میں شریک ہوئے اور انقلابِ ایران کی نمایاں شخصیات میں سے تھے؛ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین چنا گیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: کولیت خوری · طاہر عثمان باؤچی · قمر الدين أحمد الكوركبوري · نبیل عربی · علی حسن موینی

کہانی میں مقام

    shia-twelver (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ مشہد میں خامنہ ای خاندان میں پیدا ہوئے جو آذری اور فارسی النسل تھا، وہاں کے حوزے میں پڑھے اور پھر 1958ء میں قم منتقل ہو کر روح اللہ خمینی کے دروس میں شریک ہوئے۔ ان کی تاریخِ پیدائش متنازع ہے: انگریزی مقالہ اور ویکی ڈیٹا 19 اپریل 1939ء دیتے ہیں، جبکہ فارسی مقالہ لکھتا ہے کہ ان کے شناختی سرٹیفکیٹ میں 24 تیر 1318ء یعنی 16 جولائی 1939ء درج ہے اور وہ خود اسی سال اپریل کی تاریخ کو درست سمجھتے تھے۔ وہ محمد رضا پہلوی کی مخالفت میں سرگرم رہے، چھ بار گرفتار ہوئے اور تین سال جلاوطن رہے؛ انقلاب کے بعد قاتلانہ حملے میں ان کا دایاں بازو مفلوج ہو گیا۔ 1 2

    صدارت اور قیادت

    وہ 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر رہے۔ 1989ء میں خمینی کی وفات پر وہ رہبرِ اعلیٰ چنے گئے اگرچہ — جیسا کہ انگریزی متن نوٹ کرتا ہے — وہ اس وقت مرجع نہیں تھے، جو شیعہ اثنا عشریہ میں اعلیٰ دینی اتھارٹی ہوتی ہے اور جس کا ایرانی آئین تقاضا کرتا تھا؛ یہ شرط ڈھیل دی گئی اور ان کی حیثیت مستحکم ہوئی۔ ان کی خارجہ پالیسی شیعہ اسلام پسندی اور انقلاب برآمد کرنے پر مرکوز رہی۔ 1

    قتل

    وہ 28 فروری 2026ء کو ایران جنگ 2026ء کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں قتل ہوئے؛ عربی مقالے کا آغاز بھی اسی تاریخ اور اسی جنگ میں ان کے قتل کی تصدیق کرتا ہے اور فارسی مقالے کا معلوماتی خانہ اسی دن ان کی قیادت ختم کرتا ہے۔ ان کا سرکاری جنازہ 3 سے 9 جولائی 2026ء تک ہوا، اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای 8 مارچ کو ان کے جانشین منتخب ہو چکے تھے۔ 1 3

    مذہب

    ان کا مذہب شیعہ اثنا عشری درج ہے، مستند، عجائب گھر کی شیعہ تطبیق قاعدے کے تحت اور تطبیق صراحتاً بیان کی گئی ہے: انگریزی اور اردو مقالات کے آغاز انہیں شیعہ عالمِ دین کہتے ہیں — دو آزاد متون جو «شیعہ» کی شہادت دیتے ہیں — اور شاخ اس بیان کردہ تناظر سے ملتی ہے، جس میں انگریزی معلوماتی خانے کا اثنا عشری فرقہ، قم میں خمینی کے دروس میں ان کی تربیت، انگریزی متن کی شیعہ اثنا عشریہ کے اندر ان کے مقام پر بحث، اور اس اسلامی جمہوریہ کی سربراہی شامل ہے جس کا آئین شیعہ اثنا عشری جعفری مذہب کو قائم کرتا ہے۔ ویکی ڈیٹا صرف اسلام اور عمومی شیعہ اسلام رکھتا ہے۔ 1 4 5

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Predecessor of
    اکبر ہاشمی رفسنجانی
    Born in
    مشهد
    Successor of
    روح اللہ خمینی
    Studied under
    روح اللہ خمینی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اکبر ہاشمی رفسنجانی· روح اللہ خمینی· انوشہ انصاری· إبراهيم رئيسي· مریم منصف· میرزا حسین‌خان مشیرالدوله· راجا صاحب محمود آباد· محمد خاتمي

    ماخذ

    1. Ali Khamenei — English Wikipedia
    2. Ali Khamenei — Persian Wikipedia
    3. Ali Khamenei — Arabic Wikipedia
    4. Ali Khamenei — Urdu Wikipedia
    5. Ali Khamenei — Wikidata Q57336
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی خامنہ ای”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-khamenei/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اکبر ہاشمی رفسنجانی

    اکبر ہاشمی رفسنجانی (1934ء–2017ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان اور اسلامی جمہوریہ کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے قم کے حوزے میں بروجردی اور خمینی سے تعلیم پائی، 1980ء سے 1989ء تک پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عراق جنگ میں قائم مقام سپہ سالار رہے، پھر 1989ء سے 1997ء تک ایران کے صدر رہے؛ وہ وفات تک مصلحت کونسل کے چیئرمین اور 2007ء سے 2011ء تک مجلسِ خبرگان کے چیئرمین رہے۔ وہ رفسنجان کے قریب بہرمان میں پیدا ہوئے اور 8 جنوری 2017ء کو تہران میں وفات پائی۔