نبیل عربی

نبيل العربي

–

القاهرة

نبیل عربی (15 مارچ 1935ء – 26 اگست 2024ء) مصری سفارت کار اور جج تھے۔ انہوں نے قاہرہ اور نیویارک میں قانون کی تعلیم حاصل کی، اقوام متحدہ میں مصر کی نمائندگی کی اور عالمی عدالتِ انصاف کے رکن رہے (2001ء–2006ء)۔ 2011ء کے انقلاب کے بعد وہ وزیرِ خارجہ بنے، پھر عمرو موسیٰ کے جانشین کے طور پر عرب لیگ کے ساتویں سیکرٹری جنرل (2011ء–2016ء) رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · فقیہ
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: کولیت خوری · طاہر عثمان باؤچی · علی حسن موینی · علي يافعي · یوسف قرضاوی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نبیل عربی (15 مارچ 1935ء – 26 اگست 2024ء) مصری سفارت کار اور جج تھے، جو 1 جولائی 2011ء سے 3 جولائی 2016ء تک عرب لیگ کے ساتویں سیکرٹری جنرل رہے۔ اس سے پہلے وہ جنیوا اور نیویارک میں اقوام متحدہ میں مصر کی نمائندگی کر چکے تھے اور 2001ء سے فروری 2006ء تک عالمی عدالتِ انصاف کے جج رہے۔ ان کے بارے میں کوئی اردو ویکیپیڈیا مقالہ موجود نہیں؛ عجائب گھر کا یہ اردو صفحہ انگریزی اور عربی مقالات سے لکھا گیا ہے۔ 1 2

    تعلیم اور ابتدائی کیریئر

    انہوں نے جامعہ قاہرہ سے قانون کی ڈگری (1955ء) اور نیویارک یونیورسٹی کے اسکول آف لا سے ایل ایل ایم (1969ء) اور قانون میں ڈاکٹریٹ (1971ء) حاصل کی۔ وہ مصر کی سفارتی خدمت میں شامل ہوئے اور بین الاقوامی قانون اور تخفیفِ اسلحہ میں مہارت پائی؛ جنیوا میں اقوام متحدہ کے پاس اور 1991ء تا 1995ء نیویارک میں مصر کے مستقل مندوب رہے۔ 1999ء تا 2001ء وہ اقوام متحدہ کے معاوضہ کمیشن کے رکن رہے، پھر 2001ء سے فروری 2006ء تک عالمی عدالتِ انصاف کے جج رہے۔ 1

    وزیرِ خارجہ اور سیکرٹری جنرل

    2011ء کے مصری احتجاج کے دوران وہ مظاہرین اور حکومت کے درمیان رابطہ کاروں میں شامل تھے اور صدر حسنی مبارک کی برطرفی پر زور دیتے رہے۔ مارچ 2011ء میں وہ عصام شرف کی حکومت میں وزیرِ خارجہ بنے اور جون تک رہے۔ 1 جولائی 2011ء کو وہ عمرو موسیٰ کے جانشین کے طور پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور 2011ء کے بعد کی علاقائی ہلچل کے دوران 3 جولائی 2016ء تک اس منصب پر رہے۔ 1 2

    وفات

    26 اگست 2024ء کو 89 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا؛ عربی مقالہ ان کی وفات کی تاریخ پیر 22 صفر 1446ھ دیتا ہے۔ کوئی مقالہ ان کی وفات کا مقام نہیں بتاتا۔ 1 2

    ان کا مذہب، جیسا کہ مصادر دیتے ہیں

    کسی مقالے میں، متن ہو یا معلوماتی خانہ، ان کے مذہب کے بارے میں کوئی بیان نہیں۔ کہیں بھی واحد شہادت ان کے وکی ڈیٹا عنصر کی ایک ہی منظم قیمت ہے: عمومی اسلام۔ اس عجائب گھر کے اصول کے تحت — ایک منظم قیمت کبھی مذہب کی شہادت نہیں بنتی — ان کا مذہب ”نامعلوم“ درج ہے اور یہ قرأت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں بانی کے فیصلے کے لیے محفوظ ہے۔ 3

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّف مصدری اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر حقیقت بدلنے والے مصدر کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Successor of
    عمرو موسیٰ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    احمد عصمت عبد المجید· عمرو موسیٰ· القاهرة· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين

    ماخذ

    1. Nabil Elaraby — English Wikipedia
    2. Nabil Elaraby — Arabic Wikipedia
    3. Nabil Elaraby — Wikidata Q456346
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نبیل عربی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nabil-elaraby/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    احمد عصمت عبد المجید

    احمد عصمت عبد المجید (22 مارچ 1923ء – 21 دسمبر 2013ء) اسکندریہ سے تعلق رکھنے والے مصری سفارت کار تھے۔ نوجوان سفارت کار کی حیثیت سے انہوں نے 1957ء کے اس وفد میں حصہ لیا جس نے فرانس سے تعلقات کی بحالی پر مذاکرات کیے۔ وہ فرانس میں مصر کے سفیر اور پھر وزیرِ خارجہ (1984ء–1991ء) رہے، اس کے بعد عرب لیگ کے پانچویں سیکرٹری جنرل (1991ء–2001ء) بنے؛ ان کے پیش رو الشاذلی القلیبی اور جانشین عمرو موسیٰ تھے۔