عمرو موسیٰ

عمرو موسى

القاهرة

عمرو موسیٰ (پیدائش 3 اکتوبر 1936ء) مصری سفارت کار اور سیاست دان ہیں۔ وہ اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر اور پھر دس سال وزیرِ خارجہ (1991ء–2001ء) رہے، اس کے بعد عرب لیگ کے چھٹے سیکرٹری جنرل (2001ء–2011ء) بنے۔ 2011ء کے انقلاب کے بعد وہ 2012ء کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بنے اور 2013ء میں آئین میں ترمیم کرنے والی پچاس رکنی کمیٹی کی صدارت کی؛ وہ اب بھی قاہرہ میں اپنے دفتر سے کام کرتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عمرو موسیٰ (پیدائش 3 اکتوبر 1936ء) مصری سفارت کار اور سیاست دان ہیں: اقوام متحدہ میں مصر کے سفیر، پھر دس سال وزیرِ خارجہ (1991ء–2001ء)، اور عرب لیگ کے چھٹے سیکرٹری جنرل (2001ء–2011ء)۔ 2011ء کے انقلاب کے بعد وہ 2012ء کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بنے اور 2013ء میں مصر کے آئین میں ترمیم کرنے والی پچاس رکنی کمیٹی کی صدارت کی۔ ان کے بارے میں کوئی اردو ویکیپیڈیا مقالہ موجود نہیں؛ عجائب گھر کا یہ اردو صفحہ انگریزی اور عربی مقالات سے لکھا گیا ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور سفارتی کیریئر

    وہ 3 اکتوبر 1936ء کو قاہرہ میں پیدا ہوئے؛ عربی مقالہ مزید بتاتا ہے کہ انہوں نے وہاں دو سال گزارے پھر بچپن میں خاندان کے ساتھ صوبہ غربیہ کے دیہی علاقے منتقل ہو گئے۔ انہوں نے جامعہ قاہرہ میں قانون پڑھا اور سفارتی خدمت میں شامل ہوئے؛ ان کے مناصب میں بھارت میں سفارت اور 1990ء سے نیویارک میں اقوام متحدہ کے پاس مصر کے مستقل مندوب کا عہدہ شامل ہے۔ 1 2

    وزیرِ خارجہ اور سیکرٹری جنرل

    20 مئی 1991ء کو وہ احمد عصمت عبد المجید کے جانشین کے طور پر وزیرِ خارجہ بنے اور تین وزرائے اعظم کے دور میں 15 مئی 2001ء تک اس منصب پر رہے۔ پھر 1 جون 2001ء کو وہ دوسری بار عبد المجید کے جانشین بنے، اس مرتبہ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے۔ لیگ میں ان کی دہائی میں عراق جنگ اور اس کے بعد کے حالات اور 2011ء کی عرب بغاوتوں کے ابتدائی مہینے آئے؛ 1 جولائی 2011ء کو انہوں نے منصب نبیل عربی کے سپرد کیا۔ 1

    2011ء کے بعد

    وہ 2012ء کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بنے — حسنی مبارک کے سقوط کے بعد یہ پہلا انتخاب تھا۔ 2013ء میں وہ آئین میں ترمیم کی ذمہ دار پچاس رکنی کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے۔ بعد کے برسوں میں وہ قاہرہ میں اپنے دفتر سے کام کرتے رہے، جامعہ نیل کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی صدارت کی اور افریقی و بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے، جیسا کہ عربی مقالہ بیان کرتا ہے۔ 1 2

    ان کا مذہب، جیسا کہ مصادر دیتے ہیں

    کسی مقالے کا متن ان کے لیے کوئی مذہب نام نہیں لیتا، اور عربی مقالے کے معلوماتی خانے میں مذہب کا خانہ خالی چھوڑا گیا ہے۔ کہیں بھی واحد شہادت ان کے وکی ڈیٹا عنصر کی ایک ہی منظم قیمت ہے: عمومی اسلام۔ اس عجائب گھر کے اصول کے تحت — ایک منظم قیمت کبھی مذہب کی شہادت نہیں بنتی — ان کا مذہب ”نامعلوم“ درج ہے اور یہ قرأت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں بانی کے فیصلے کے لیے محفوظ ہے۔ 3 2

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّف مصدری اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر حقیقت بدلنے والے مصدر کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Successor of
    احمد عصمت عبد المجید
    Predecessor of
    نبیل عربی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    القاهرة· احمد عصمت عبد المجید· نبیل عربی· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين

    ماخذ

    1. Amr Moussa — English Wikipedia
    2. Amr Moussa — Arabic Wikipedia
    3. Amr Moussa — Wikidata Q381113
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عمرو موسیٰ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/amr-moussa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    القاهرة

    Capital of Egypt; al-Qahira was founded by the Fatimids in 969 CE beside Fustat and became home to al-Azhar.