انوشہ انصاری

أنوشه أنصاري

مشهد

ایرانی نژاد امریکی انجینئر اور صنعت کار، جو 1966 میں مشہد میں پیدا ہوئیں اور 1984 میں امریکا منتقل ہوئیں، جنہوں نے ٹیلی کام ٹیکنالوجیز (1993) قائم کی جو 2001 میں تقریباً 440 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی، پھر پرودیا سسٹمز (2006) قائم کیا؛ ان کے خاندان نے انصاری ایکس پرائز کی سرپرستی کی، اور 2006 میں وہ چوتھی خود مالی اعانت یافتہ خلائی سیاح اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والی پہلی خود مالی اعانت یافتہ خاتون بنیں؛ اب وہ ایکس پرائز فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
engineer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    انوشہ انصاری (پیدائش انوشہ رئیس یان، 12 ستمبر 1966، مشہد، ایران) ایرانی نژاد امریکی انجینئر اور صنعت کار ہیں، جو ایکس پرائز فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو ہیں، اور 2006 میں چوتھی خود مالی اعانت یافتہ خلائی سیاح اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن جانے والی پہلی خود مالی اعانت یافتہ خاتون بنیں۔ 1

    عربی مقالہ انہیں خلا تک پہنچنے والی پہلی مسلم خاتون اور پہلی ایرانی قرار دیتا ہے؛ عجائب گھر یہ وصف اپنے ماخذ سے منسوب کر کے پیش کرتا ہے۔ 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    انصاری مشہد میں پیدا ہوئیں، کچھ عرصے بعد خاندان تہران منتقل ہوا؛ چھ سال کی عمر میں ان کے والدین میں علیحدگی ہو گئی، اور بچپن میں وہ اپنے دادا دادی کے بالکنی میں سو کر رات کے آسمان کو دیکھا کرتی تھیں اور خلا کے بارے میں بہت متجسّس تھیں۔ 1

    انہوں نے تہران کے فرانسیسی کیتھولک اسکول جان ڈارک میں تعلیم پائی، 1979 کے ایرانی انقلاب کی شاہد بنیں، اور ایران عراق جنگ کے دوران تہہ خانے میں پناہ کے وقت وہاں موجود بچوں میں سب سے بڑی ہونے کے ناطے انہیں کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ 1

    وہ 1984 میں امریکا منتقل ہوئیں، جارج میسن یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس میں بیچلر اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ 1 2

    پیشہ ورانہ زندگی

    ایم سی آئی میں ملازمت کے دوران ان کی ملاقات حمید انصاری سے ہوئی اور 1991 میں دونوں نے شادی کی۔ 1

    1993 میں انہوں نے اپنے شوہر اور ان کے بھائی امیر انصاری کے ساتھ مل کر ٹیلی کام ٹیکنالوجیز قائم کی، جو سوفٹ سوئچ ٹیکنالوجی فراہم کرتی تھی؛ 2001 میں سونس نیٹ ورکس نے اسے تقریباً 440 ملین ڈالر کے شیئر سودے میں خرید لیا اور انصاری سونس کی نائب صدر بنیں۔ 1

    2006 میں انہوں نے پرودیا سسٹمز قائم کیا اور اس کی چیئرمین و سی ای او رہیں، بعد ازاں ایکس پرائز فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو بنیں۔ 1

    5 مئی 2004 میں انہوں نے اور امیر انصاری نے فاؤنڈیشن کو کئی ملین ڈالر کا عطیہ دیا، جس کے بعد اس کے دس ملین ڈالر کے پہلے انعام کا نام «انصاری ایکس پرائز» رکھا گیا۔ 1

    خلائی پرواز

    انصاری نے ڈائیسکے اینوموٹو کے متبادل کے طور پر تربیت پائی؛ 21 اگست 2006 کو اینوموٹو طبی وجوہات کی بنا پر خارج ہوئے تو اگلے دن انہیں مرکزی عملے میں شامل کر لیا گیا۔ 1 2

    وہ 18 ستمبر 2006 کو سویوز TMA-9 میں قازقستان کے بائیکونور سے میخائل تیورین اور مائیکل لوپیز-الیگریا کے ساتھ روانہ ہوئیں، 20 ستمبر کو اسٹیشن سے جڑیں، اور نو دن کے قیام میں یورپی خلائی ایجنسی کے لیے چار تجربات انجام دیے، جن میں خون کی کمی کے اسباب اور عضلات کی تبدیلیوں کا مطالعہ شامل تھا؛ 29 ستمبر 2006 کو وہ سویوز TMA-8 میں قازقستان کے میدانوں میں بحفاظت اتریں؛ عربی مقالہ ان کی پرواز کی لاگت بیس ملین ڈالر بتاتا ہے، جبکہ انگریزی مقالہ کہتا ہے کہ ان کا معاہدہ رقم ظاہر کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ 1 2

    موقف اور تنقید

    اس حصے کو مصادر میں منقول موقف کی نمائش کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    انصاری خود کو «خلائی سیاح» کے بجائے «خلائی پرواز میں شریک» کہنا پسند کرتی ہیں، اور روسی خلائی حکام نے بھی، عربی مقالے کے مطابق، سیاح کا لقب مسترد کیا اور اسٹیشن پر ان کے سائنسی پروگرام کی طرف اشارہ کیا۔ 1 2

    وہ اپنی پرواز میں امریکی پرچم کے ساتھ ایران کا غیر جانبدار سہ رنگا پرچم پہننا چاہتی تھیں، لیکن ناسا اور روسی حکام کے اصرار پر انہوں نے پرچم کے بجائے اس کے رنگ پہنے اور پرچم کو اپنی پرواز کے نشان پر رکھا؛ ان کا اور ان کے شوہر کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی پیغام مقصود نہیں تھا۔ 1

    ایران میں اس پرواز کو وسیع کوریج ملی: سرکاری ٹیلی ویژن نے ان سے ایک گھنٹے کا براہ راست انٹرویو نشر کیا اور ایرانی اخبارات نے ان کے سفر پر روزانہ کالم شائع کیے۔ 1

    تصانیف اور اعزازات

    انہوں نے ہومر ہیکم کے ساتھ اپنی یادداشت «مائی ڈریم آف اسٹارز» (2010) لکھی، اور 2017 کے آسکرز میں انہوں نے فیروز نادری کے ساتھ اصغر فرہادی کی جانب سے ان کی فلم «دی سیلز مین» کا ایوارڈ وصول کیا۔ 1

    ان کے اعزازات میں جارج میسن یونیورسٹی کا انٹراپرینیوریل ایکسیلنس ایوارڈ، جارج واشنگٹن یونیورسٹی کا ڈسٹنگوشڈ ایلومنائی ایوارڈ، ارنسٹ اینڈ ینگ انٹرپرینیور آف دی ایئر اور ہوریشیو الجر ایوارڈ شامل ہیں، اور فارچون نے 2001 میں انہیں «40 انڈر 40» فہرست میں شامل کیا۔ 1

    ذاتی زندگی

    انصاری نے 1991 میں حمید انصاری سے شادی کی اور اب ٹیکساس کے شہر پلانو میں مقیم ہیں۔ 1 2

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین مصادر، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کے بعد کے تراجم اور ترامیم کو واضح تواریخِ تجدید کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزہ درکار ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    مشهد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    علی خامنہ ای· إبراهيم رئيسي· مریم منصف· میرزا حسین‌خان مشیرالدوله· راجا صاحب محمود آباد· محمدتقی بهار· مشهد

    ماخذ

    1. Anousheh Ansari — English Wikipedia
    2. Anousheh Ansari — Arabic Wikipedia
    • Anousheh Ansari — Wikidata Q17519
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “انوشہ انصاری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/anousheh-ansari/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    علی خامنہ ای

    علی خامنہ ای (1939ء–2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے، 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر اور پھر 1989ء سے 28 فروری 2026ء کو ایران جنگ 2026ء کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے قتل تک اس کے دوسرے رہبرِ اعلیٰ رہے — یہ کسی بھی رہبرِ اعلیٰ کی طویل ترین مدت ہے۔ وہ مشہد میں پیدا ہوئے، قم میں روح اللہ خمینی کے دروس میں شریک ہوئے اور انقلابِ ایران کی نمایاں شخصیات میں سے تھے؛ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین چنا گیا۔