راجا صاحب محمود آباد

محمد عامر أحمد خان

–

مشهد

راجا صاحب محمود آباد (5 نومبر 1914 – 14 اکتوبر 1973)، سیاست دان، مصنف اور شاعر۔ 1931 میں کم عمری میں والد محمد علی محمد خان کی جاگیر کے وارث بنے، مدرسۃ الواعظین کے منتظم متولی رہے (1940–1944)، پہلے آل انڈیا جمہور مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے تقسیم ہند کی مخالفت کی، پھر تحریک پاکستان کے رہنما بنے اور 1937 میں آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کی۔ عراق (1945)، پھر پاکستان (1957) اور پھر لندن منتقل ہوئے، جہاں اسلامک کلچرل سینٹر کے پہلے ڈائریکٹر رہے؛ لندن میں وفات پائی اور مشہد میں مزار امام رضا کے پاس دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · writer · شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحلیم محمود · عبد الله بن الصديق الغماري · عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الحسين دستغيب

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد عامر احمد خان (5 نومبر 1914 – 14 اکتوبر 1973)، راجا صاحب محمود آباد، ہندوستانی رئیس، سیاست دان، مصنف اور شاعر تھے جو تقسیم ہند کی مخالفت سے تحریک پاکستان کی قیادت تک پہنچے۔ 1 2 اردو مقالہ ایک مختصر سٹب ہے۔ 3 انگریزی مقالہ اور ویکی ڈیٹا ان کا نام "Ahmed" لکھتے ہیں جبکہ فہرست میں "Ahmad" ہے؛ دونوں املا ان کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ 1

    وراثت اور مدرسۃ الواعظین

    1931 میں والد مہاراجا محمد علی محمد خان کی وفات پر وہ کم عمری میں جاگیر کے وارث بنے؛ جاگیر کی نگرانی ایک ٹرسٹ کے سپرد تھی جس میں محمد علی جناح نمایاں شخصیت بن گئے۔ 1 1940 سے 1944 تک وہ لکھنؤ کے مدرسۃ الواعظین — والد کے قائم کردہ اہل تشیع کی تعلیم کے مرکز — کے منتظم متولی رہے۔ 1 انہوں نے «بحر» اور «محبوب» تخلص سے اردو و فارسی میں رباعیات، سلام، مرثیے، غزلیں اور نظمیں کہیں۔ 1

    سیاست: تقسیم کی مخالفت سے تحریک پاکستان تک

    1937 میں، مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے کم عمر ترین ارکان میں سے ایک کی حیثیت سے، انہوں نے آل انڈیا مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن قائم کی۔ 1 پہلے وہ تقسیم کے مخالف تھے اور آل انڈیا جمہور مسلم لیگ (1940) کے صدر بنے؛ قرارداد لاہور (1940) کے بعد جناح کے اثر سے الگ مسلم ریاست کے حامی ہو گئے، اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو تحریک پاکستان کے لیے متحرک کیا اور لیگ کے اخبار «ڈان» کی مالی مدد کی۔ 1

    عراق، پاکستان اور لندن

    1945 میں، تقسیم سے پہلے، وہ عراق چلے گئے، 1957 میں پاکستان آئے — وراثتی زمینوں کی آئندہ آمدن ریاست پاکستان کو عطیہ کر کے — اور بعد میں لندن آباد ہو گئے۔ 1 لندن میں وہ اسلامک کلچرل سینٹر کے پہلے ڈائریکٹر رہے اور ریجنٹس پارک مسجد کی تعمیر میں مصروف رہے؛ انگریزی مقالہ انہیں 1976 کے «ورلڈ آف اسلام فیسٹیول» کے محرکین میں شمار کرتا ہے۔ 1

    وفات اور ورثہ

    14 اکتوبر 1973 کو لندن میں وفات پائی اور ایران کے شہر مشہد میں مزار امام رضا کے قریب دفن ہوئے۔ 1 وفات کے بعد حکومت ہند نے ان کی جاگیر «دشمن جائداد» قانون کے تحت ضبط کر لی؛ ان کی بیوہ رانی کنیز عابد اور صاحبزادے و جانشین راجا محمد عامر محمد خان نے اس کی بازیابی کی طویل قانونی جنگ لڑی اور 2005 میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حاصل کیا، جس پر — مقالے کے مطابق — عملدرآمد رکا رہا۔ 1 کراچی کا محمود آباد علاقہ ان کے نام پر ہے اور پاکستان پوسٹ نے 1990 میں «رواد آزادی» سلسلے میں ان کا ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ 1

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    محمد علی محمد خان
    Successor of
    محمد علی محمد خان
    Buried in
    مشهد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    علی خامنہ ای· انوشہ انصاری· إبراهيم رئيسي· مریم منصف· میرزا حسین‌خان مشیرالدوله· محمدتقی بهار· محمد علی محمد خان· مشهد

    ماخذ

    1. Mohammad Amir Ahmed Khan — English Wikipedia
    2. Mohammad Amir Ahmed Khan — Wikidata Q12857694
    3. Mohammad Amir Ahmed Khan — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “راجا صاحب محمود آباد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammad-amir-ahmad-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    علی خامنہ ای

    علی خامنہ ای (1939ء–2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے، 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر اور پھر 1989ء سے 28 فروری 2026ء کو ایران جنگ 2026ء کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے قتل تک اس کے دوسرے رہبرِ اعلیٰ رہے — یہ کسی بھی رہبرِ اعلیٰ کی طویل ترین مدت ہے۔ وہ مشہد میں پیدا ہوئے، قم میں روح اللہ خمینی کے دروس میں شریک ہوئے اور انقلابِ ایران کی نمایاں شخصیات میں سے تھے؛ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین چنا گیا۔