محمد علی محمد خان

محمد علي محمد خان

–

اودھ کے راجا صاحب محمود آباد (4 جون 1878 – 23 مارچ 1931)، برطانوی ہندوستان کے بڑے زمینداروں اور مشہور سیاست دانوں میں سے ایک۔ 1903 میں والد محمد امیر حسن خان کے جانشین بنے؛ لکھنؤ یونیورسٹی کے قیام میں حصہ لیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر رہے (1920–1923)، مسلم لیگ کے اجلاسوں کی صدارت کی، 1919 میں اپنے بھائی کی یاد میں لکھنؤ میں مدرسۃ الواعظین قائم کیا — اہل تشیع کی تعلیم کا مرکز — اور «محب» تخلص سے مرثیے لکھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · سیاست دان · شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي · عبد العزیز ثعالبی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد علی محمد خان (4 جون 1878 – 23 مارچ 1931) اودھ کے راجا صاحب محمود آباد تھے — 28 جون 1903 سے وفات تک — متحدہ صوبوں کی سب سے بڑی جاگیروں میں سے ایک کے زمیندار اور برطانوی ہندوستان کے مشہور سیاست دان۔ 1 2 اردو مقالہ انگریزی مقالے کا ترجمہ ہے۔ 3

    راجا اور ماہر تعلیم

    وہ راجا سر محمد امیر حسن خان (1849–1903) کے صاحبزادے تھے اور 1903 میں ان کے جانشین بنے؛ انگریزی مقالہ جائے پیدائش محمود آباد (ضلع سیتاپور) اور اردو مقالہ اسی ضلع کا گاؤں امروٹا بتاتا ہے۔ 1 3 وہ لکھنؤ یونیورسٹی کے بانی ارکان میں شامل تھے (1920) اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر رہے (17 دسمبر 1920 – 28 فروری 1923)۔ 1 1919 میں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی محمد علی احمد خان کی یاد میں لکھنؤ میں مدرسۃ الواعظین قائم کیا، جو اہل تشیع کی تعلیم کا مرکز تھا۔ 1

    سیاست

    وہ متحدہ صوبوں کی قانون ساز کونسل (1904–1909)، گورنر جنرل کونسل (1907–1920) اور امپیریل قانون ساز کونسل کے رکن رہے، 1927 میں کونسل آف سٹیٹ کے بلا مقابلہ رکن منتخب ہوئے اور صوبے کے وزیر داخلہ رہے (1920–1926)۔ 1 انہوں نے مسلم لیگ کے 1917، 1918 اور 1928 کے اجلاسوں کی صدارت کی اور عدم تعاون تحریک کے دوران لکھنؤ میں قید کانگریس رہنماؤں — جن میں موتی لال نہرو بھی تھے — کی رہائی میں مدد کی۔ 1

    شاعری اور وفات

    وہ شاعر تھے اور «محب» تخلص سے مرثیے لکھتے تھے۔ 1 23 مارچ 1931 کو وفات پائی اور صاحبزادے محمد عامر احمد خان ان کے جانشین بنے۔ 1 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Parent of
    راجا صاحب محمود آباد
    Predecessor of
    راجا صاحب محمود آباد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مشهد· راجا صاحب محمود آباد

    ماخذ

    1. Mohammad Ali Mohammad Khan — English Wikipedia
    2. Mohammad Ali Mohammad Khan — Wikidata Q16029940
    3. Mohammad Ali Mohammad Khan — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد علی محمد خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammad-ali-mohammad-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مشهد

    City in north-eastern Iran, site of the shrine of Imam Ali al-Rida and a major Shia pilgrimage centre.