روح اللہ خمینی

روح الله الخميني

–

النجف

روح اللہ خمینی (1900/1902ء–1989ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے، انقلابِ ایران کے قائد جس نے شاہ محمد رضا پہلوی کا تختہ الٹا، اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی اور 1979ء سے وفات تک اس کے رہبرِ اعلیٰ رہے۔ وہ شیعہ اثنا عشریہ کے فقیہ اور مرجع تھے، قم میں تدریس کی، ترکی اور پھر عراق جلاوطن رہے، فروری 1979ء میں ایران واپس آئے اور فقہ و اسلامی حکومت پر کتابیں چھوڑیں، جن میں «حکومتِ اسلامیہ» اور «تحریر الوسیلہ» شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · فقیہ · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ميرزا هاشم الآملي · حسنین محمد مخلوف · محمد علي الأراكي · عزير كول البشاوري · سعید المفتی

مکان میں

النجف

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    shia-twelver (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور علم

    وہ خمین شہر میں پیدا ہوئے جو آج کے صوبہ مرکزی میں ہے؛ دو سال کی عمر میں ان کے والد قتل ہو گئے، اور انہوں نے کم عمری میں رشتہ داروں کی مدد سے قرآن اور عربی کی تعلیم شروع کی۔ وہ شیعہ اثنا عشریہ کے بلند پایہ عالم، مرجع، مجتہد اور فقیہ بنے۔ ان کی تاریخِ پیدائش متنازع ہے: ان کے پیدائشی سرٹیفکیٹ میں 17 مئی 1900ء درج ہے جسے انگریزی مقالہ اختیار کرتا ہے، جبکہ ان کے بھائی مرتضیٰ پسندیدہ نے 24 ستمبر 1902ء بتائی جسے فارسی مقالہ دائرة المعارف کے حوالے سے اختیار کرتا ہے۔ 1 2

    جلاوطنی اور انقلاب

    محمد رضا پہلوی کے دور میں مخالفت پر گرفتار ہوئے اور 1964ء میں پہلے ترکی کے شہر بورصہ اور پھر عراق کے نجف جلاوطن کر دیے گئے، جہاں 1965ء سے 1978ء تک رہے اور وہ دروس دیے جو «حکومتِ اسلامیہ» کے عنوان سے شائع ہوئے اور جن میں ولایتِ فقیہ کا نظریہ پیش کیا گیا۔ عراق سے نکالے جانے کے بعد وہ فرانس کے نوفل لو شاتو میں رہے اور یکم فروری 1979ء کو پہلوی بادشاہت کے خاتمے کے ساتھ ایران واپس آئے۔ 1 3

    رہبرِ اعلیٰ

    بطور رہبرِ اعلیٰ انہوں نے ایران کو اسلامی جمہوریہ میں ڈھالا جس کی پالیسیاں خمینی ازم کہلائیں؛ فارسی مقالہ نظریاتی طور پر انہیں بنیاد پرست شیعہ اسلام پسند قرار دیتا ہے۔ ان کی کتابوں میں فقہ کی «تحریر الوسیلہ» شامل ہے، اور سلمان رشدی کے خلاف 1989ء کے فتوے نے عالمی توجہ حاصل کی۔ وہ 3 جون 1989ء کو تہران میں وفات پا گئے اور بہشتِ زہرا قبرستان میں ان کے مزار میں مدفون ہوئے۔ 1 2

    مذہب

    ان کا مذہب شیعہ اثنا عشری درج ہے، مستند۔ تین آزاد متون شیعہ اثنا عشریہ کو ان کی اپنی روایت قرار دیتے ہیں: انگریزی متن کہتا ہے کہ وہ شیعہ اثنا عشریہ کے بلند پایہ عالم اور مرجع بنے، عربی مقالے کا آغاز انہیں شیعہ اثنا عشریہ کے دینی رہنما کے طور پر پیش کرتا ہے، اور اردو متن انہیں اصولی شیعہ اثنا عشری اسلام کا عالم بتاتا ہے — «اصولی» کی تخصیص اثنا عشری علم کے اندر کا امتیاز ہے۔ 1 3 4

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Taught
    اکبر ہاشمی رفسنجانی· علی خامنہ ای
    Predecessor of
    علی خامنہ ای
    Lived in
    النجف

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اکبر ہاشمی رفسنجانی· علی خامنہ ای· العتبة العلوية· وادی السلام· بدر بن حسنويه· محمد خاتمي· مشهد· النجف

    ماخذ

    1. Ruhollah Khomeini — English Wikipedia
    2. Ruhollah Khomeini — Persian Wikipedia
    3. Ruhollah Khomeini — Arabic Wikipedia
    4. Ruhollah Khomeini — Urdu Wikipedia
    • Ruhollah Khomeini — Wikidata Q38823
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “روح اللہ خمینی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ruhollah-khomeini/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اکبر ہاشمی رفسنجانی

    اکبر ہاشمی رفسنجانی (1934ء–2017ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان اور اسلامی جمہوریہ کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے قم کے حوزے میں بروجردی اور خمینی سے تعلیم پائی، 1980ء سے 1989ء تک پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عراق جنگ میں قائم مقام سپہ سالار رہے، پھر 1989ء سے 1997ء تک ایران کے صدر رہے؛ وہ وفات تک مصلحت کونسل کے چیئرمین اور 2007ء سے 2011ء تک مجلسِ خبرگان کے چیئرمین رہے۔ وہ رفسنجان کے قریب بہرمان میں پیدا ہوئے اور 8 جنوری 2017ء کو تہران میں وفات پائی۔