اکبر ہاشمی رفسنجانی

أكبر هاشمي رفسنجاني

–

اکبر ہاشمی رفسنجانی (1934ء–2017ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان اور اسلامی جمہوریہ کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے قم کے حوزے میں بروجردی اور خمینی سے تعلیم پائی، 1980ء سے 1989ء تک پارلیمنٹ کے اسپیکر اور عراق جنگ میں قائم مقام سپہ سالار رہے، پھر 1989ء سے 1997ء تک ایران کے صدر رہے؛ وہ وفات تک مصلحت کونسل کے چیئرمین اور 2007ء سے 2011ء تک مجلسِ خبرگان کے چیئرمین رہے۔ وہ رفسنجان کے قریب بہرمان میں پیدا ہوئے اور 8 جنوری 2017ء کو تہران میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · احمد کیتھراڈا · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی · علي يافعي

کہانی میں مقام

    shia-twelver (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تربیت اور عروج

    وہ رفسنجان کے قریب بہرمان میں پیدا ہوئے، چودہ سال کی عمر میں قم گئے اور وہاں حوزے میں ان اساتذہ سے پڑھا جن میں حسین بروجردی اور روح اللہ خمینی شامل تھے؛ خمینی کے اثر سے وہ سیاست اور محمد رضا پہلوی کی مخالفت کی طرف آئے، اور خمینی کی جلاوطنی کے بعد ملک کے اندر ان کے نمائندے بنے۔ 1

    بااثر شخصیت اور صدر

    رفسنجانی نے چالیس برس میں وسیع اثر جمع کیا: پارلیمان کے اسپیکر (1980ء–1989ء)، عراق جنگ میں قائم مقام سپہ سالار، اور — انگریزی مقالے کے الفاظ میں — وہ شخص جس نے 1989ء میں علی خامنہ ای کو رہبرِ اعلیٰ چنا؛ عربی اور اردو معلوماتی خانے بھی لکھتے ہیں کہ وہ اسی سال صدارت میں خامنہ ای کے جانشین بنے۔ انہوں نے 1989ء اور 1993ء کے صدارتی انتخابات جیتے، 2005ء کے رن آف میں محمود احمدی نژاد سے ہارے، 1989ء سے وفات تک مصلحت کونسل کے چیئرمین اور 2007ء سے 2011ء تک مجلسِ خبرگان کے چیئرمین رہے، اور 2009ء میں اپوزیشن کی حمایت کے بعد سیاسی تنہائی کا سامنا کیا۔ وہ 8 جنوری 2017ء کو تہران کے تجریش میں دل کے دورے سے وفات پا گئے۔ 2 3 4

    مذہب

    ان کا مذہب شیعہ اثنا عشری درج ہے، مستند، عجائب گھر کی شیعہ تطبیق قاعدے کے تحت اور تطبیق صراحتاً بیان کی گئی ہے: انگریزی اور فارسی مقالات کے آغاز انہیں شیعہ عالمِ دین کہتے ہیں — دو آزاد متون جو «شیعہ» کی شہادت دیتے ہیں — اور شاخ اس بیان کردہ تناظر سے ملتی ہے: قم حوزے میں بروجردی اور خمینی کے ہاں ان کی تربیت، خمینی کی طرف سے تہران کے امامِ جمعہ کی تقرری، اور مجلسِ خبرگان کی چیئرمین شپ، جو وہ اثنا عشری دینی ادارہ ہے جو رہبرِ اعلیٰ کو منتخب کرتا ہے۔ ویکی ڈیٹا صرف عمومی شیعہ اسلام رکھتا ہے۔ 2 1 5

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    علی خامنہ ای
    Studied under
    روح اللہ خمینی
    Predecessor of
    محمد خاتمي

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    علی خامنہ ای· روح اللہ خمینی· محمود أحمدي نجاد· مشهد· النجف· محمد خاتمي

    ماخذ

    1. Akbar Hashemi Rafsanjani — Persian Wikipedia
    2. Akbar Hashemi Rafsanjani — English Wikipedia
    3. Akbar Hashemi Rafsanjani — Arabic Wikipedia
    4. Akbar Hashemi Rafsanjani — Urdu Wikipedia
    5. Akbar Hashemi Rafsanjani — Wikidata Q186111
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اکبر ہاشمی رفسنجانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/akbar-hashemi-rafsanjani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    علی خامنہ ای

    علی خامنہ ای (1939ء–2026ء) ایرانی شیعہ عالمِ دین اور سیاست دان تھے، 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر اور پھر 1989ء سے 28 فروری 2026ء کو ایران جنگ 2026ء کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں اپنے قتل تک اس کے دوسرے رہبرِ اعلیٰ رہے — یہ کسی بھی رہبرِ اعلیٰ کی طویل ترین مدت ہے۔ وہ مشہد میں پیدا ہوئے، قم میں روح اللہ خمینی کے دروس میں شریک ہوئے اور انقلابِ ایران کی نمایاں شخصیات میں سے تھے؛ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا جانشین چنا گیا۔