ایک نظر میں
- کردار
- واعظ · عالم · writer
- دور
- العصر الحديث
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- WikidataVIAF
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
عبد الحمید بن عبد العزیز کشک ایک نابینا مصری عالم اور داعی تھے، جو صوبہ بحیرہ کے قصبے شبراخیت میں جمعہ 13 ذوالقعدہ 1351ھ، یعنی 10 مارچ 1933ء کو پیدا ہوئے اور جمعہ 25 رجب 1417ھ، یعنی 6 دسمبر 1996ء کو فوت ہوئے۔ 1 2 بہت سے لوگ انہیں «فارس المنابر» (منبروں کا شہسوار) کہتے تھے؛ عربی مضمون انہیں بیسویں صدی کے عرب و اسلامی دنیا کے مشہور ترین خطیبوں میں شمار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے دو ہزار سے زائد ریکارڈ شدہ خطبے ہیں اور انہوں نے چالیس سال خطابت کی۔ 1 انگریزی مضمون کے مطابق وہ اپنی ظرافت، مقبول خطبوں، دینی کتابوں اور ظلم کے خلاف بے باک موقف کے لیے معروف تھے۔ 3
ابتدائی زندگی اور تعلیم
انہوں نے بچپن میں قرآن حفظ کیا، عربی مضمون کے مطابق دس سال سے پہلے اور انگریزی کے مطابق آٹھ سال کی عمر تک، پھر اسکندریہ کے دینی معہد اور جامعہ ازہر کے کلیہ اصول الدین میں داخل ہوئے۔ 1 3 عربی مضمون کہتا ہے کہ وہ ازہری ثانوی سند میں پورے ملک میں اول آئے اور پوری تعلیم کے دوران اپنے کلیے میں اول رہے، اور ان کے اساتذہ نے انہیں طلبہ کو بعض مضامین، خاص طور پر نحو و صرف، سمجھانے کا کام سونپا۔ 1 انگریزی مضمون کے مطابق ان کے والد ان کے اسکول کی عمر کو پہنچنے سے پہلے فوت ہو گئے۔ 3
وہ کم عمری میں بینائی سے محروم ہوئے: عربی مضمون کے مطابق تیرہ سال کی عمر میں ایک آنکھ اور سترہ سال میں دوسری آنکھ گئی؛ انگریزی مضمون کے مطابق بچپن میں ایک بیماری نے ان کی بینائی لے لی اور اس نے انہیں علم کی طرف اور زیادہ مائل کیا۔ 1 3
منبر
1957ء میں وہ کلیہ اصول الدین میں معید مقرر ہوئے، مگر صرف ایک لیکچر دے کر جامعہ کی تدریس چھوڑ دی اور منبر کو ترجیح دی، جس پر وہ پہلی بار بارہ سال کی عمر میں چڑھے تھے جب ان کے گاؤں کی مسجد کا خطیب غیر حاضر تھا۔ 1 1961ء میں انہوں نے عید العلم میں ازہر کی نمائندگی کی، پھر قاہرہ کے علاقے شرابیہ میں مسجد الطحان اور پھر مسجد منوفی کے امام و خطیب رہے، اور 1962ء میں حدائق القبہ کی مسجد عین الحیاۃ کی امامت و خطابت سنبھالی جہاں تقریباً بیس سال خطبے دیے۔ 1 انگریزی مضمون کے مطابق ان کی شہرت کا عروج 1967ء سے اسی کی دہائی کے آغاز تک تھا، جب تقریباً دس ہزار نمازی ان کا جمعہ کا خطبہ سنتے تھے اور وزارت اوقاف نے انہیں سمانے کے لیے مسجد کے ساتھ ملحقہ عمارتیں بنوائیں۔ 3
ان کے دو ہزار سے زائد خطبے کیسٹوں پر مصر اور عرب دنیا میں پھیلے، حالانکہ انور سادات کے دور میں سرکاری ذرائع ابلاغ نے ان کا بائیکاٹ کیا۔ 3 1 اسابیل آرکائیو میں ان کا ایک سلسلہ سات طویل اقساط میں محفوظ ہے: نماز کی قبولیت کی شرطیں۔ 4
قید اور پابندی
1965ء میں وہ گرفتار ہوئے اور ڈھائی سال قید رہے، طرہ، ابو زعبل، قلعہ اور فوجی جیل میں منتقل ہوتے رہے؛ عربی مضمون کے مطابق نابینا ہونے کے باوجود ان پر تشدد ہوا۔ 1 3 اسی مضمون کے مطابق 1976ء سے، خاص طور پر کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد، حکومت سے ان کا ٹکراؤ ہوا، 1981ء میں ستمبر کے فیصلوں کے تحت گرفتار ہوئے اور 1982ء میں رہا ہوئے مگر اپنی مسجد میں واپسی، خطابت اور دروس سے روک دیے گئے۔ 1 انگریزی مضمون کہتا ہے کہ حسنی مبارک نے انہیں عوامی سرگرمی چھوڑنے کی شرط پر رہا کیا اور جس مسجد میں وہ خطبہ دیتے تھے اسے صحت مرکز بنا دیا گیا۔ 3
مآخذ کے مطابق ان کے موقف
دونوں مضامین کے مطابق وہ جمال عبد الناصر کے دور میں مخالف تھے، انہوں نے سید قطب کی پھانسی کی تائید اور اسلام اور اشتراکیت کی ہم آہنگی کا اقرار کرنے سے انکار کیا، مصر کے سماجی حالات پر تنقید کی اور اپنے خطبوں میں ذاتی تقویٰ پر زور دیا۔ 3 1 انہوں نے 1979ء کے عائلی قانون نمبر 44 پر تنقید کی، جس میں شوہر کو دوسری شادی کی صورت میں بیوی کو مطلع کرنے کا پابند کیا گیا تھا، اور اسے شریعت کے خلاف سمجھا۔ 3 انہوں نے نجیب محفوظ کے ناول اولاد حارتنا کا رد لکھا اور اس پر عقیدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ 3 1
تصانیف
وفات
عربی مضمون کے مطابق وہ جمعہ کے دن مسجد جانے سے پہلے نفل نماز پڑھتے ہوئے دوسری رکعت کے سجدے میں فوت ہوئے، اور وہ سجدے کی حالت میں موت کی دعا کیا کرتے تھے۔ 1
ان کے ریکارڈ شدہ دروس میں
سلسلہ «نماز کی قبولیت کی شرطیں» ان کے خطابت کے انداز کو دکھاتا ہے: وہ حمد، نبی پر درود اور طویل مدحیہ کلمات سے آغاز کرتے ہیں، دن کا موضوع اعلان کرتے ہیں، شرح کو قصوں اور اشعار سے ملاتے ہیں، دعا پر ختم کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں: اپنی نماز کے لیے اٹھو۔ 5 6 7 وہ ہفتے کی خبروں پر بھی تبصرہ کرتے ہیں؛ مثلاً کہتے ہیں کہ وہ تین خبروں پر رکے، جن میں سے ایک اخبار «اخبار الیوم» کی خبر تھی کہ ایک بیوی اپنے شوہر کو عدالت لے گئی۔ 8 9
ابو اسحاق حوینی کے «اصداف اللؤلؤ» میں
ابو اسحاق حوینی بیان کرتے ہیں کہ ثانوی کے تیسرے سال وہ قاہرہ میں اپنے بھائی کے پاس ٹھہرے، اور شیخ کشک کی مسجد، مسجد عین الحیاۃ، ان کی رہائش سے دو اسٹاپ دور تھی؛ دیہات کے لڑکے کے طور پر انہوں نے کبھی ان کا نام نہیں سنا تھا، اور جب وہاں نماز پڑھی تو پہلی بار ایسی فصاحت والا خطیب سنا جس کی غمگین آواز رلا دیتی تھی۔ 10 11 12 وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پانچ سال ان کے پیچھے نماز پڑھی، یونیورسٹی سے لوٹنے کے بعد بھی، اور کشک ہی نے ان میں دین کی محبت جگائی اور پہلی اینٹ رکھی۔ 13 14 وہ ذکر کرتے ہیں کہ ان دنوں کشک نے داڑھی کو سنت کے طور پر بیان کیا، ایک فلم کے جواب میں جس نے اس کا مذاق اڑایا تھا، اور تب انہوں نے پہلی بار داڑھی رکھی۔ 15 16
بعد میں جب انہوں نے البانی کی «سلسلة الأحادیث الضعیفة» پڑھی تو اس میں بہت کچھ وہ پایا جو کشک سے سنا تھا۔ 17 وہ بتاتے ہیں کہ کشک نے ابو بکر کے فضائل پر ایک خطبے میں ایک حدیث ذکر کی جس میں ابو بکر کے لیے خاص تجلی کا ذکر تھا؛ لوگ روئے اور وہ بھی ان کے ساتھ روئے، مگر ان کا دل مطمئن نہ ہوا، تو انہوں نے مسجد کے ساتھ ایک کتب خانے میں تلاش کی یہاں تک کہ ابن القیم کو «المنار المنیف» میں اسے موضوع قرار دیتے پایا۔ 18 19 20 خطبے کے بعد شیخ کو سلام کرنے والوں کی قطار میں کھڑے ہو کر انہوں نے یہ بات ان کے کان میں کہی؛ کشک نے جواب دیا کہ ابن القیم غلطی پر ہیں اور کہا: «بیٹا، بولنے سے پہلے سیکھو»۔ 21 22 23 وہ کہتے ہیں کہ اس بات نے انہیں تکلیف دی مگر فائدہ بھی دیا: وہ حدیث سکھانے والے شیخ کی تلاش میں نکلے اور شیخ المطیعی کے ساتھ ہو لیے۔ 23 24 25
وہ کشک کے مکتب کو ایک «نرسری» کہتے ہیں جس سے بہت سے لوگ گزرے جو بعد میں نمایاں ہوئے اور پھر ان کی راہیں جدا ہو گئیں؛ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کشک سے صرف جوش لیا اور یہ کہ خطبے کے بعد کا درس ہلکا ہو، اور خطبے کا فن اور معانی کا استنباط کتابوں سے لیا۔ 26 27 28 ان کے نزدیک کشک کی تفسیر تفسیر سے زیادہ خطابت کے قریب ہے؛ یہ ان کی رائے ہے۔ 29
تعلقات
- Lived in
- القاهرة
- Died in
- القاهرة
- Critic of
- أولاد حارتنا
- Subject of
- اصداف اللؤلؤ: موتیوں کی سیپیاں
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جلال الدين السيوطي· محمد نجیب المطیعی· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· علم مصطلح الحديث· ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء· مقریزی کے والد کی وفات، 779ھ/1378ء· مقریزی کی آخری اولاد کی وفات، 826ھ/1423ء
ماخذ
- عبد الحميد كشك — ويكيبيديا العربية
- عبد الحميد كشك — ويكي بيانات Q2480151
- عبد الحميد كشك — ويكيبيديا الإنجليزية
- عبد الحمید کشک کے دروس کا Assabile آرکائیو , Shorut Kobol Assalat، قسط 1 · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- عبد الحمید کشک کے دروس کا Assabile آرکائیو , Shorut Kobol Assalat، قسط 2, 00:12:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- عبد الحمید کشک کے دروس کا Assabile آرکائیو , Shorut Kobol Assalat، قسط 4, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- عبد الحمید کشک کے دروس کا Assabile آرکائیو , Shorut Kobol Assalat، قسط 3, 01:11:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- عبد الحمید کشک کے دروس کا Assabile آرکائیو , Shorut Kobol Assalat، قسط 2, 00:43:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- عبد الحمید کشک کے دروس کا Assabile آرکائیو , Shorut Kobol Assalat، قسط 2, 00:43:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 3, 00:12:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 3, 00:12:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 13, 00:09:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 3, 00:15:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 16, 00:11:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 4, 00:18:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 4, 00:19:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 13, 00:11:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:10:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:11:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:12:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:13:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:13:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:17:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 14, 00:17:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 21, 00:08:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 21, 00:08:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 21, 00:09:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
- ابو اسحاق الحوینی کے دروس کا Assabile آرکائیو , Asdaf Al Loaloa، قسط 29, 00:04:00 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الحمید کشک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-hamid-kishk/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-02.