نجیب محفوظ

نجيب محفوظ

–

القاهرة

مصری ناول نگار، جو 1911 میں قاہرہ میں پیدا ہوئے اور 2006 میں وہیں وفات پائی۔ انہوں نے ملازمت کے ساتھ ساتھ لکھا اور تیس سے زائد ناول اور سینکڑوں افسانے تخلیق کیے جن میں قاہرہ کی گلی دنیا کی تصویر بن گئی۔ انہیں 1988 میں ادب کا نوبل انعام ملا — وہ یہ انعام پانے والے واحد مصری اور واحد عرب ادیب ہیں — اور 1994 میں اپنے ناول «اولاد حارتنا» کے تنازعے سے جڑے قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
novelist · screenwriter · playwright
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: آدم عبد اللہ عثمان · علي صافي الكلبايكاني · عبد اللطيف تشودري الفلتالي · محمد سرفراز خان صفدر · محمد ظاہر شاہ

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نجیب محفوظ عبد العزیز ابراہیم احمد الباشا مصری ناول نگار، اسکرین مصنف اور ڈراما نگار تھے، جو 11 دسمبر 1911 کو قاہرہ میں پیدا ہوئے اور 30 اگست 2006 کو وفات پائی۔ انہوں نے تقریباً چار دہائی سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ لکھا اور تیس سے زائد ناول اور سینکڑوں افسانے تخلیق کیے، جو سب مصر میں وقوع پذیر ہیں اور قاہرہ کی گلی کو دنیا کی تصویر بناتے ہیں۔ انہیں 1988 میں ادب کا نوبل انعام ملا — وہ یہ انعام پانے والے واحد مصری اور واحد عرب ادیب ہیں — اور سویڈش اکیڈمی نے کہا کہ انہوں نے «باریک بینی سے بھرپور اعمال کے ذریعے ایک عربی قصہ گوئی کا فن تشکیل دیا جو تمام انسانیت پر لاگو ہوتا ہے»۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ قاہرہ قدیم کے الجمالیہ محلے میں ایک نچلے متوسط مسلم خاندان میں پیدا ہوئے اور ان کا نام ان کی مشکل ولادت کی نگرانی کرنے والے طبیب نجیب پاشا محفوظ کے نام پر رکھا گیا۔ وہ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کی والدہ فاطمہ ایک ازہری شیخ مصطفیٰ قشیشہ کی بیٹی تھیں اور ناخواندہ ہونے کے باوجود انہیں عجائب گھروں اور ثقافتی مقامات لے جاتی تھیں۔ خاندان 1924 میں الجمالیہ سے العباسیہ منتقل ہوا، اور دونوں محلے ان کی بہت سی تصانیف کا پس منظر بنے۔ ان کی پرورش سخت اسلامی ماحول میں ہوئی؛ بعد میں انہوں نے کہا: «آپ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس خاندان سے کوئی فنکار نکلے گا۔» انہوں نے 1930 میں جامعہ قاہرہ میں فلسفہ میں داخلہ لیا اور 1934 میں گریجویشن کی، پھر ایک سال ماسٹرز میں گزار کر پیشہ ور مصنف بننے کا فیصلہ کیا۔ 2

    ملازمت اور ادبی سفر

    وہ 1934 میں سرکاری ملازمت میں داخل ہوئے اور 1971 میں ریٹائرمنٹ تک اسی میں رہے: جامعہ قاہرہ میں کلرک، 1938 میں وزارتِ اوقاف میں وزیر کے پارلیمانی سیکرٹری، پھر گوری مقبرے کی لائبریری، پچاس کی دہائی میں فنون کی نگرانی کے سربراہ اور سینما کی حمایت کی فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر، اور آخر میں وزارتِ ثقافت کے مشیر۔ 2

    انہوں نے تین تاریخی ناولوں سے آغاز کیا — «عبث الاقدار» (1939)، «رادوبیس» (1943) اور «کفاح طیبہ» (1944) — پھر عصری قاہرہ کی طرف مڑے: «القاہرۃ الجدیدۃ» (1945)، «زقاق المدق» (1947) اور «بدایۃ و نہایۃ» (1949)۔ ان کی مشہور ثلاثیہ — «بین القصرین»، «قصر الشوق» اور «السکریۃ» (1956–57) — تین نسلوں کی کہانی ہے۔ 1959 سے وہ دوبارہ بکثرت لکھنے لگے: «اولاد حارتنا» (1959)، «اللص والکلاب» (1961)، «ثرثرۃ فوق النیل» (1966) — جسے بعد میں صدر سادات نے پابندی لگائی — «ملحمۃ الحرافیش» (1977) اور ان کی آخری کتاب «احلام فترۃ النقاہۃ» (2004)۔ انگریزی مضمون کی پیشانی 35 ناول گنتی ہے جبکہ اس کا ادبی سفر والا حصہ 34 کہتا ہے؛ دونوں اعداد درج ہیں۔ ان کی بہت سی تصانیف مصری اور بین الاقوامی فلموں میں ڈھلیں۔ 2 3

    «اولاد حارتنا» کا تنازعہ اور قاتلانہ حملہ

    «اولاد حارتنا» اپنے جد جبلاوی اور اس کی اولاد کو استعاراتی انداز میں پیش کرتی ہے؛ اسے مبینہ دینی گستاخی کے الزام پر لبنان کے سوا پورے عرب دنیا میں پابندی کا سامنا رہا، اور مصر میں پہلی بار 2006 میں شائع ہوئی۔ سلمان رشدی کی کتاب کے تنازعے نے اس بحث کو پھر زندہ کیا؛ محفوظ کو قتل کی دھمکیاں ملیں اور ان کا نام انتہا پسندوں کی «فہرستِ قتل» میں شامل ہوا۔ 14 اکتوبر 1994 کو ایک انتہا پسند نے قاہرہ میں ان کے گھر کے باہر ان کی گردن میں چھرا گھونپا؛ وہ بچ گئے مگر ان کے دائیں بازو کے اعصاب کو مستقل نقصان پہنچا، اور اس کے بعد وہ دن میں چند منٹ ہی لکھ سکتے تھے۔ مقدمے میں سولہ افراد پر فوجی مقدمہ چلا اور دو کو پھانسی ہوئی۔ 2

    مواقف اور تنقید

    اس حصے کو ماخذ میں منقول مختلف مواقف کی رپورٹ کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں۔

    محفوظ نے کہا کہ سیاست ان کی تمام تحریروں کا محور ہے۔ نوجوانی میں وہ اشتراکی و جمہوری خیالات اور وفد پارٹی کی طرف مائل تھے؛ سید قطب کو ذاتی طور پر جانتے تھے، بعد میں اپنے ناول «المرایا» میں ان کی منفی تصویر پیش کی۔ انہوں نے 1952 کے انقلاب کے اصولوں کی حمایت کی مگر 1967 کی شکست کے بعد اس کے عمل سے مایوس ہوئے۔ 1978 میں مصر و اسرائیل امن معاہدے کی حمایت پر بہت سے عرب ممالک میں ان کی کتابوں پر پابندی لگ گئی، جو نوبل انعام کے بعد ختم ہوئی۔ انہوں نے 1989 میں رشدی کے قتل کے فتوے کے خلاف رشدی کا دفاع کیا اور خمینی کو دہشت گرد کہا، ساتھ ہی رشدی کے ناول کو اسلام کے لیے «توہین آمیز» بھی قرار دیا، اور اسی موقف پر اسی (80) دانشوروں کے مشترکہ اعلان میں شامل ہوئے۔ 2

    ذاتی زندگی، وفات اور ورثہ

    وہ 43 سال کی عمر تک کنوارے رہے کیونکہ ان کے خیال میں شادی ان کے ادبی مستقبل میں رکاوٹ بنتی۔ 1954 میں انہوں نے عطیۃ اللہ ابراہیم سے شادی کی — رشید العنانی کی سوانح کے مطابق وہ اسکندریہ کی ایک قبطی آرتھوڈوکس خاتون تھیں — اور ان کی دو بیٹیاں فاطمہ اور ام کلثوم ہوئیں۔ وہ 30 اگست 2006 کو دو بار گرنے کی پیچیدگیوں سے وفات پا گئے۔ ان کا ورثہ جدید مصری ثقافت کا سنگِ بنیاد سمجھا جاتا ہے؛ 2019 میں قاہرہ قدیم میں نجیب محفوظ عجائب گھر کھلا، جس میں ان کا نوبل تمغہ رکھا ہے۔ نیوز ویک نے ان کے قاہرہ کو ڈکنز کے لندن سے تشبیہ دی۔ 2

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • انگریزی مضمون ناولوں کی تعداد میں خود متضاد ہے: پیشانی میں 35، ادبی سفر میں 34؛ دونوں درج ہیں۔ نوبل صفحہ ان کی وفات قاہرہ میں بتاتا ہے جبکہ انگریزی مضمون اسے العجوزہ، گیزا میں مخصوص کرتا ہے؛ یہاں دقیق مقام اپنایا گیا ہے۔
    • بعد کی ترمیمات اور تراجم کو واضح تواریخ کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Lived in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ· من جان بلاط إلى طومان باي إلى قانصوه الغوري 905–906هـ

    ماخذ

    1. Naguib Mahfouz — Nobel Prize facts page
    2. Naguib Mahfouz — English Wikipedia
    3. نجيب محفوظ — ويكيبيديا العربية
    • Naguib Mahfouz — Wikidata Q7176
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نجیب محفوظ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/naguib-mahfouz/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.