ایک نظر میں
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
سندِ روایت
- مالك بن أنس
- زيد بن أسلم
- القعقاع بن حكيم الكناني
- أبو يونس مولى عائشة
- محمد
موجز
باب الصلاۃ الوسطی کی پہلی حدیث۔ یحییٰ مالک سے، وہ زید بن اسلم سے، وہ قعقاع بن حکیم سے، وہ عائشہ کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت کرتے ہیں: عائشہ نے انہیں حکم دیا کہ ان کے لیے ایک مصحف لکھیں اور جب وہ سورۃ البقرۃ کی آیت «المحافظة على الصلوات والصلاة الوسطى» تک پہنچیں تو انہیں بتائیں؛ جب وہ وہاں پہنچے تو عائشہ نے انہیں آیت اس اضافے کے ساتھ املا کرائی کہ «الصلاة الوسطى» کے بعد «صلاة العصر» کا ذکر ہو، اور کہا کہ انہوں نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا؛ یہ ایک تفسیری قراءت ہے جو واضح کرتی ہے کہ ان کے نزدیک «الوسطی» عصر ہے۔ محقق اسے مسلم (2/112)، ابو داؤد (410)، ترمذی (2982)، نسائی (1/236)، احمد اور بیہقی کے ہاں مالک کے شاگردوں کے طرق سے تخریج کرتے ہیں، اور تمہید (4/273) کا حوالہ دیتے ہیں۔ 1 2
موضعه في المتحف
یہ الموطأ، كتاب الصلاۃ میں شامل ہے۔ مصدرہ الموطأ۔ یذکر محمد، وعائشہ بنت ابی بکر، وابو یونس مولیٰ عائشہ، والقعقاع بن حکیم، وزید بن اسلم۔ ویُبنی علیه فی ابواب الصلاۃ۔
تعلقات
- Part of
- الموطأ، كتاب الصلاة
- Mentions
- محمد· عائشة بنت أبي بكر· أبو يونس مولى عائشة· القعقاع بن حكيم الكناني· زيد بن أسلم
- Basis for
- الصلاة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الموطأ 2 — عائشة: كان يصلي العصر والشمس في حجرتها· الموطأ 3 — ما بين هذين وقت: سؤال رجل عن وقت الصبح· الموطأ 4 — النساء ينصرفن من الصبح متلفعات بمروطهن· الموطأ 5 — من أدرك ركعة من الصبح قبل طلوع الشمس· الموطأ 26 — النوم عن الصبح بطريق مكة وقصة بلال· الموطأ 27 — الإبراد بالصلاة: شدة الحر من فيح جهنم· الموطأ 157 — فاطمة بنت أبي حبيش: إنما ذلك عرق وليست بالحيضة· الموطأ 252 — إذا شك أحدكم أثلاثاً صلى أم أربعاً فليصل ركعة وليسجد سجدتين
ماخذ
- الموطأ، رواية يحيى بن يحيى الليثي (تحقيق بشار عواد معروف) , p.200
- الموطأ، رواية يحيى بن يحيى الليثي (تحقيق بشار عواد معروف) , p.201
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “الموطأ 367 — عائشة تملي في مصحفها: والصلاة الوسطى وصلاة العصر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/passage/muwatta-1-367/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-17.