ایک نظر میں
- دور
- العصر الأموي
- خطہ
- levant-iraq

مختصر حقائق
- شعبہ
- طب اور جراحی
- قسم
- ادارہ
- پہلا ثبوت
- 706 اور 707 کے درمیان عیسوی · 88 ھ (اخذ شدہ)
- دور
- اسلام کی پہلی صدی
- جس میں بیان ہوئی
- تاريخ الخلفاء · البداية والنهاية
- نسبت
- متنازع
کس نے بنایا
- الوليد بن عبد الملك فرمائش کرنے والا
نسبت اور اس کی بنیاد
ولید بن عبد الملک اسلام میں مارستان بنانے والے پہلے شخص تھے، 88ھ میں۔
ان الفاظ میں دعویٰ مقریزی کا ہے، الخطط میں، جہاں وہ اس سے پہلے اسلام سے قبل کے پہلے شفاخانوں کی روایتیں دیتے ہیں اور انہیں ایک افسانوی قبطی بادشاہ اور بقراط سے منسوب کرتے ہیں۔ جو پرانے مآخذ پڑھے گئے، یعنی ابن کثیر میں مدائنی کی روایت اور سیوطی کا ترجمہ، وہ ولید کے جذامیوں، اپاہجوں اور نابیناؤں کو دیے گئے عطیات کا ذکر کرتے ہیں، مگر نہ کسی عمارت کا ذکر کرتے ہیں نہ طبیبوں کا۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا خندق میں رفیدہ کے خیمے کو پہلا بیمارستان کہتا ہے، پھر ولید کے بارے میں مقریزی کا قول نقل کرتا ہے اور دونوں میں تطبیق نہیں دیتا۔ اختلاف اولیت اور ادارے کی نوعیت میں ہے، اس میں نہیں کہ ولید نے بیماروں اور معذوروں کا انتظام کیا۔
ماخذ: المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) · ابن كثير، البداية والنهاية — المجلد الخامس (الجزءان 9–10)، دار الكتب العلمية، بيروت · تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) · البيمارستان — موسوعة TDV الإسلامية · Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)
اس سے پہلے
- زخمیوں کے علاج کے لیے رفیدہ کا خیمہ
- جندی شاپور کا شفاخانہ
- بقراط سے منسوب بیماروں کا گھر
اس پر جو بنا
- بغداد میں ہارون الرشید کا بیمارستان
- فسطاط میں احمد بن طولون کا مارستان
- دمشق میں نور الدین کا بیمارستان
- قاہرہ میں قلاوون کا منصوری بیمارستان
یہ کیسے کام کرتی ہے
خلاصہ
بیمارستان، یا مارستان جیسا کہ لوگوں نے اسے مختصر کر دیا، وہ گھر ہے جہاں بیماروں کو جمع کیا جاتا اور طبیب ان کی دیکھ بھال کرتے۔ مقریزی الخطط میں کہتے ہیں کہ اسلام میں مارستان، یعنی بیماروں کا گھر، سب سے پہلے ولید بن عبد الملک نے 88ھ میں بنایا: اس میں طبیب مقرر کیے اور ان کے وظیفے جاری کیے، جذامیوں کو روک کر رکھنے کا حکم دیا تاکہ وہ باہر نہ نکلیں، اور ان کے اور نابیناؤں کے لیے وظیفے مقرر کیے 1۔ پرانے مآخذ ولید کے جذامیوں، اپاہجوں اور نابیناؤں کو دیے گئے عطیات کا ذکر کرتے ہیں مگر کسی عمارت کا نہیں 2 4، اور ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا اس سے پہلے رفیدہ کے خیمے کو پہلا بیمارستان کہتا ہے 3۔ یہ گھر پہلا مستقل شفاخانہ ہے جسے مآخذ اسلامی ریاست سے منسوب کرتے ہیں، اور اس کی اولیت میں اختلاف ہے۔
یہ کیا ہے
یہ لفظ فارسی ہے، «بیمار» اور جگہ بتانے والے لاحقے «ستان» سے مل کر بنا: بیماروں کا گھر۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عام بول چال میں یہ «مارستان» ہو گیا اور زیادہ تر پاگل خانے کے معنی میں بولا جانے لگا، اور آج عرب دنیا «مستشفیٰ» کہتی ہے 5۔ مقریزی، جوہری کی الصحاح سے نقل کرتے ہیں کہ مارستان بیماروں کا گھر ہے اور یہ لفظ عربی میں باہر سے آیا ہے 1۔
مقریزی ولید کے لیے جو بیان کرتے ہیں وہ تین حصوں والا ایک ادارہ ہے: بیماروں کے لیے ایک مستقل جگہ؛ طبیب جنہیں تنخواہ مریض سے نہیں بلکہ بیت المال سے ملتی؛ اور ان لوگوں کے لیے جاری وظیفہ جو کما نہیں سکتے تھے، یعنی جذامی اور نابینا۔ اس کے ساتھ جذامیوں کو لوگوں سے الگ رکھنے کا حکم بھی تھا 1۔ یوں یہ اس خیمے سے مختلف ہے جو کسی جنگ میں لگا کر اٹھا لیا جائے، اور اس طبیب سے بھی جو اپنے گھر میں علاج کرے۔
اس سے پہلے کی دنیا
شفاخانہ دنیا کے لیے نئی چیز نہیں تھا۔ مقریزی خود مارستانوں کا باب اسلام سے پہلے کی روایتوں سے شروع کرتے ہیں۔ وہ ابراہیم بن وصیف شاہ کی اخبارِ مصر سے نقل کرتے ہیں کہ قدیم قبطی بادشاہوں میں سے ایک، مناقیوش بن اشمون، نے سب سے پہلے بیماروں کے علاج کے لیے بیمارستان بنائے، ان میں دوائیں رکھیں اور طبیب مقرر کیے؛ اور ابو سعید منصور بن عیسیٰ سے نقل کرتے ہیں کہ مارستان سب سے پہلے بقراط نے ایجاد کیا، جس نے اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں بیماروں کے لیے الگ جگہ بنائی، اس میں ان کے علاج کے لیے خادم رکھے، اور اسے «اصدولین» یعنی بیماروں کا مجمع کہا 1۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا مناقیوش کو ایک اساطیری بادشاہ کہتا ہے اور بقراط کے گھر کا نام «xenodokeion» پڑھتا ہے 3۔
اس سے قریب تر فارس میں جندی شاپور کا شفاخانہ تھا، ساسانی دور کا ایک شفاخانہ اور طب کا مدرسہ، جہاں نبی کے زمانے کے عرب طبیب حارث بن کلدہ نے طب پڑھی تھی۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کا خیال ہے کہ جندی شاپور کو بیمارستان کہا جاتا تھا، اسی لیے یہ لفظ عربوں میں جلد رائج ہو گیا 5۔
خود اسلام میں ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا غزوۂ خندق کے دنوں میں مسجدِ نبوی میں رفیدہ اسلمیہ کے خیمے کو پہلا بیمارستان، ایک متحرک جنگی شفاخانہ، کہتا ہے 3۔
کہانی
ولید اپنے والد عبد الملک بن مروان کی نامزدگی سے شوال 86ھ میں خلیفہ بنے۔ 87ھ میں انہوں نے دمشق کی جامع مسجد کی تعمیر شروع کی اور مسجدِ نبوی کی توسیع اور تعمیر کا حکم لکھا 4۔ ابن جریر، مدائنی سے روایت کرتے ہیں، جیسا کہ ابن کثیر نقل کرتے ہیں، کہ تعمیر ولید کا شوق تھا، اور انہوں نے دمشق میں مسجدیں بنوائیں اور منارے کھڑے کیے 2۔
مقریزی کہتے ہیں کہ 88ھ میں ولید نے مارستان بنایا؛ وہ اسلام میں یہ بنانے والے پہلے شخص تھے، اور مہمان خانہ بنانے والے بھی پہلے۔ انہوں نے اس میں طبیب مقرر کیے اور ان کے وظیفے جاری کیے، جذامیوں کو روک کر رکھنے کا حکم دیا تاکہ وہ باہر نہ نکلیں، اور ان کے اور نابیناؤں کے لیے وظیفے مقرر کیے 1۔ مقریزی نہ اس شہر کا نام لیتے ہیں جہاں یہ بنا، نہ ان طبیبوں کا جو اس میں کام کرتے تھے۔
مدائنی خبر کا دوسرا رخ محفوظ رکھتے ہیں: ولید نے جذامیوں کو عطیہ دیا اور ان سے کہا: «لوگوں سے نہ مانگو»، اور ہر اپاہج کو ایک خادم اور ہر نابینا کو ایک رہنما دیا 2۔ سیوطی لکھتے ہیں کہ وہ یتیموں کے ختنے کرواتے اور ان کے لیے استاد مقرر کرتے، دائمی مریضوں کے لیے خدمت گار اور نابیناؤں کے لیے رہنما مقرر کرتے، اور علماء، فقیروں اور کمزوروں کے وظیفے جاری کرتے، انہیں مانگنے سے منع کرتے اور ان کی ضرورت بھر مقرر کرتے 4۔
بنانے والے
ولید طبیب نہیں تھے، اور شفاخانے کا خیال بھی انہوں نے ایجاد نہیں کیا جو ان سے پہلے فارس اور روم میں موجود تھا۔ اس ریکارڈ میں ان کا کردار تعمیر کا حکم دینے اور خرچ اٹھانے والے کا ہے: مقریزی کے مطابق انہوں نے گھر بنوایا اور طبیبوں اور بیماروں کے وظیفے جاری کیے 1۔
مآخذ خود ولید کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں، اور یہ ریکارڈ ہر رائے اس کے قائل کے نام سے دیتا ہے۔ سیوطی، ابو عکرمہ ضبی سے نقل کرتے ہیں کہ ولید «جابر اور ظالم» تھے، اور عمر بن عبد العزیز سے کہ جب شام میں ولید اور عراق میں حجاج تھے تو زمین ظلم سے بھر گئی؛ پھر لکھتے ہیں: «لیکن انہوں نے اپنے دور میں جہاد قائم رکھا اور ان کی خلافت میں بڑی فتوحات ہوئیں»، اور معذوروں اور نابیناؤں کے لیے ان کے انتظامات گنواتے ہیں 6۔ مدائنی بیان کرتے ہیں کہ اہلِ شام ولید کو اپنے خلفاء میں سب سے بہتر سمجھتے تھے 2۔
یہ کیسے کام کرتا ہے
جو مآخذ پڑھے گئے وہ ولید کے گھر کا اندرونی حال بیان نہیں کرتے۔ وہ اس کا نظام بتاتے ہیں: ریاست سے تنخواہ پانے والے مقیم طبیب؛ جاری وظیفے پر لوگوں سے الگ رکھے گئے جذامی؛ وظیفے اور رہنما والے نابینا؛ اور خادم والے اپاہج 1 2۔
الخطط کے اگلے صفحے پر مقریزی بیان کرتے ہیں کہ تقریباً دو صدی بعد ایک مارستان کیسے چلتا تھا، یعنی فسطاط میں احمد بن طولون کا مارستان۔ جب کوئی بیمار لایا جاتا تو اس کے کپڑے اور پیسے لے کر مارستان کے امین کے پاس رکھ دیے جاتے؛ اسے کپڑے اور بستر دیا جاتا، اور صبح شام دوائیں، غذا اور طبیب اس کے پاس آتے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہو جاتا۔ جب وہ ایک مرغی اور ایک روٹی کھا لیتا تو اسے جانے کو کہا جاتا اور اس کے پیسے اور کپڑے واپس دے دیے جاتے 7۔ یہ ایک بعد کے مارستان کا بیان ہے، ولید کے گھر کا نہیں۔
پھیلاؤ
جو مآخذ پڑھے گئے وہ ولید کے گھر کا اثر بعد کے شفاخانوں تک نہیں دکھاتے۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے کہ جو بیمارستان اموی دور میں بننا شروع ہوئے وہ عباسی دور میں پہلی بار پھلے پھولے، بغداد، فسطاط، قاہرہ اور دمشق میں بڑھتے گئے، اور ان کے بعد سلجوقیوں اور عثمانیوں کے دار الشفاء آئے 3۔ وہ ابن دقماق سے یہ بھی نقل کرتا ہے کہ فسطاط میں قنادیل کی گلی میں ابو زبید کا گھر اموی دور میں بیمارستان بنا دیا گیا 3۔
اس کی بنیاد کیا تھی
- زخمیوں کے علاج کے لیے رفیدہ کا خیمہ: ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا اسے اسلام کا پہلا بیمارستان کہتا ہے، ولید سے تقریباً اسی سال پہلے 3۔ پڑھا گیا کوئی ماخذ اسے ولید کے گھر سے نہیں جوڑتا۔
- جندی شاپور کا شفاخانہ: ایک ساسانی شفاخانہ اور طب کا مدرسہ، جس کے ذریعے بیمارستان کا نام عربوں میں معروف ہوا 5۔
- بقراط سے منسوب بیماروں کا گھر، اور اس کے ساتھ قبطی بادشاہ مناقیوش کی روایت، جیسا کہ مقریزی اسلام سے پہلے کے پہلے شفاخانوں کے بارے میں بیان کرتے ہیں 1۔
اس پر کیا بنایا گیا
- بغداد میں ہارون الرشید کا بیمارستان: ہارون نے جبریل بن بختیشوع سے نہرِ کرخایا کے کنارے جندی شاپور جیسا شفاخانہ بنوایا اور ابو یوحنا ماسویہ کو اس کا سربراہ بنایا، اور یہ بغداد اور دوسری جگہوں کے بعد کے بیمارستانوں کے لیے نمونہ بنا 3۔
- فسطاط میں احمد بن طولون کا مارستان: 259ھ یا 261ھ میں بنا، «اور اس سے پہلے مصر میں کوئی مارستان نہیں تھا»۔ ابن طولون نے اس کے لیے مکانات اور دو حمام وقف کیے، اس پر ساٹھ ہزار دینار خرچ کیے، اور ہر جمعہ وہاں جا کر اس کے ذخیرے، طبیب، مریض اور اس میں بند پاگلوں کا معائنہ کرتے 7۔
- دمشق میں نور الدین کا بیمارستان: 1154ء میں ایک گرفتار فرنگی بادشاہ کے فدیے سے بنا۔ ابن جبیر نے دیکھا کہ اس کے طبیب ہر صبح سویرے مریضوں کا دورہ کرتے اور ہر مریض کی دوا اور غذا مقرر کرتے۔ یہ سلجوقی دور کا سب سے پرانا شفاخانہ ہے جو اپنی اصل شکل میں اب تک کھڑا ہے 3۔
- قاہرہ میں منصوری بیمارستان: سلطان قلاوون نے 1284ء میں نور الدین کے بیمارستان کے نمونے پر بنایا، جس میں طب کی تعلیم اور ایک بڑا کتب خانہ تھا جس میں ابن النفیس کی کتابیں تھیں؛ سترھویں صدی میں بھی یہ اسلامی دنیا کا سب سے مشہور شفاخانہ تھا 3۔
روزمرہ زندگی پر اثر
مقریزی کی روایت کے مطابق اب بیمار کے لیے ایک معلوم جگہ تھی جہاں وہ جا سکتا، اور ایسا طبیب جو اس سے اجرت نہیں لیتا 1۔ مدائنی کی روایت کے مطابق جذامی کے پاس ایسا وظیفہ تھا جو اسے مانگنے سے بچاتا، اپاہج کے پاس خادم اور نابینا کے پاس رہنما 2۔ جو لوگ اپنی دیکھ بھال خود نہیں کر سکتے تھے، ان کی خدمت انفرادی خیرات سے ریاست کے منظم انتظام کی طرف منتقل ہو گئی۔
اس نے تاریخ کو کیسے بدلا
مقریزی ولید کو مارستانوں کے ایک طویل سلسلے کے سرے پر رکھتے ہیں، جسے وہ اس کے بعد ایک ایک کر کے گنواتے ہیں: ابن طولون کا، پھر کافور کا، پھر دوسرے 1 7۔ ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے کہ مسلم شہروں میں بیمارستان ایک ایسا ادارہ بن گیا جس میں ہر طرح کے مریض کا، حتیٰ کہ پاگلوں کا بھی، علاج ہوتا اور طب پڑھائی جاتی، جیسے نور الدین اور قلاوون کے بیمارستانوں میں 3۔
اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟
مآخذ متفق ہیں کہ شفاخانے اسلام سے پہلے معروف تھے، اور اسلام کے پہلے شفاخانے میں اختلاف کرتے ہیں:
- مقریزی کہتے ہیں کہ اسلام میں مارستان سب سے پہلے ولید بن عبد الملک نے 88ھ میں بنایا 1۔
- ابن کثیر کی نقل کے مطابق مدائنی، اور سیوطی، ولید کے جذامیوں، معذوروں اور نابیناؤں کے لیے منظم انتظام کا ذکر کرتے ہیں، مگر نہ کسی عمارت کا ذکر کرتے ہیں نہ طبیبوں کا 2 4۔
- ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا، جو ایک علمی حوالہ ہے، رفیدہ کے خیمے کو پہلا بیمارستان کہتا ہے۔ پھر وہ مقریزی کا قول؛ عثمانی مؤرخ بستان زادہ یحییٰ افندی کا بغیر حوالے کے یہ بیان کہ ولید نے سب سے پہلے دماغی اور جسمانی بیماریوں کے شفاخانے بنوائے؛ اور فسطاط میں ابو زبید کے گھر کے بارے میں ابن دقماق کی روایت نقل کرتا ہے۔ وہ ان میں فیصلہ نہیں کرتا 3۔
اختلاف «پہلے» کے معنی میں ہے: وہ پہلی جگہ جہاں زخمیوں کا علاج ہوا، یا بیماروں کا پہلا مستقل گھر جس میں ریاست سے تنخواہ پانے والے طبیب ہوں۔ اسی لیے یہاں اولیت کو اختلافی درج کیا گیا ہے۔
آج
ولید کے گھر کا کوئی معلوم نشان باقی نہیں، اور جو مآخذ پڑھے گئے وہ اس کی جگہ نہیں بتاتے۔ بیمارستان ایک نام اور ادارے کے طور پر باقی رہا، اور ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کے مطابق آج عرب دنیا «مستشفیٰ» کہتی ہے 5۔
باقی ماندہ شواہد
ولید کے اپنے گھر سے منسوب کی جا سکنے والی کوئی چیز باقی نہیں۔ اس صفحے کی تصویر دمشق میں نور الدین بیمارستان کے دروازے کی ہے، جو آج بھی کھڑا ہے اور ان شفاخانوں میں سے ہے جو اس کے بعد آئے {cite:wikimedia-commons File:Bimaristan_of_nur_al-din,_damascus,_syria,easter_2004(1524490934).jpg} 3۔
ثقافت میں
مآخذ ولید کے دو چہرے محفوظ رکھتے ہیں جیسا کہ ان کے زمانے کے لوگ انہیں دیکھتے تھے۔ ابراہیم بن ابی عبلہ نے کہا: «ولید جیسا کون ہے؟ انہوں نے ہند اور اندلس فتح کیے، دمشق کی مسجد بنائی، اور مجھے چاندی کے پیالے دیتے تھے کہ بیت المقدس کی مسجد کے قاریوں میں بانٹ دوں» 4۔ مدائنی بیان کرتے ہیں کہ وہ سبزی فروش کے پاس رکتے، سبزی کی گڈی اٹھا کر قیمت پوچھتے؛ جب بتایا جاتا کہ ایک فلس، تو کہتے: «اس میں اور ڈالو، پھر بھی تمہیں نفع ہوگا» 2۔ اس کے مقابل وہ آوازیں ہیں، جو اوپر گزریں، جنہوں نے انہیں ظالم کہا۔ کوئی ماخذ مزید جو تصدیق کرے گا وہ شامل کیا جائے گا۔
بچوں کے لیے
تقریباً تیرہ سو سال پہلے خلیفہ ولید کو عمارتیں بنانے کا شوق تھا، اور انہوں نے بڑی بڑی مسجدیں بنوائیں۔
مؤرخ مقریزی بتاتے ہیں کہ انہوں نے بیماروں کے لیے ایک گھر بھی بنایا اور اس میں ڈاکٹر رکھے جو ان کا علاج کرتے اور حکومت سے تنخواہ پاتے۔ ولید نے ہر نابینا کو ایک رہنما دیا اور ہر اس شخص کو جو چل نہیں سکتا تھا ایک مددگار دیا، تاکہ ان میں سے کسی کو لوگوں سے مانگنا نہ پڑے 1 2۔
مراجع
- تقی الدین مقریزی، المواعظ والاعتبار بذکر الخطط والآثار (الخطط)، مکتبہ مدبولی، اسکین صفحات 2336–2337 (مطبوعہ 545–546)، مارستانوں کا باب۔ 1
- ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، دار الکتب العلمیہ، جلد 5، ص 176 (ولید کا ترجمہ، سنہ 96ھ)۔ 2
- جلال الدین سیوطی، تاریخ الخلفاء، دار المنہاج، ص 366–367۔ 6
- ٹی ڈی وی اسلامی انسائیکلوپیڈیا، مادہ «BÎMÂRİSTAN»، آن لائن ایڈیشن۔ 3
- ویکیمیڈیا کامنز، دمشق میں نور الدین بیمارستان کے دروازے کی تصویر، 2004۔ {cite:wikimedia-commons File:Bimaristan_of_nur_al-din,_damascus,_syria,easter_2004(1524490934).jpg}
تعلقات
- Built on
- زخمیوں کے علاج کے لیے رفیدہ کا خیمہ
- Described by
- تاريخ الخلفاء· البداية والنهاية
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
برید (چوکیوں کے ذریعے سرکاری ڈاک)· طراز (کپڑے اور قرطاس پر خلافت کی لکھی ہوئی علامت)· ابن کثیر· رفيدة الأسلمية· الإصابة في تمييز الصحابة· زخمیوں کے علاج کے لیے رفیدہ کا خیمہ· البداية والنهاية· تاريخ الخلفاء
ماخذ
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p. 2336
- ابن كثير، البداية والنهاية — المجلد الخامس (الجزءان 9–10)، دار الكتب العلمية، بيروت , p. 176
- البيمارستان — موسوعة TDV الإسلامية , §İlk Bîmâristan Tesisleri
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , p. 367
- البيمارستان — موسوعة TDV الإسلامية , introduction
- تاريخ الخلفاء — السيوطي (طبعة دار المنهاج) , pp. 366–367
- المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p. 2337
- Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ولید بن عبد الملک کا بیمارستان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/walid-bimaristan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON