ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي
- خطہ
- arabia

مختصر حقائق
- شعبہ
- طب اور جراحی
- قسم
- ادارہ
- پہلا ثبوت
- 626 اور 627 کے درمیان عیسوی · 5 ھ (اخذ شدہ)
- دور
- اسلام کی پہلی صدی
- مقام
- المدينة المنورة
- جس میں بیان ہوئی
- الإصابة في تمييز الصحابة
- نسبت
- متنازع
کس نے بنایا
- رفيدة الأسلمية موجد
نسبت اور اس کی بنیاد
مسجدِ نبوی میں رفیدہ کا خیمہ، جہاں وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھیں، اسلام کا پہلا بیمارستان اور ایک متحرک جنگی شفاخانہ تھا۔
واقعات صحابہ کی کتابوں میں ثابت ہیں: خیمہ رفیدہ کا تھا، مسجد میں تھا، وہ اس میں زخمیوں کا علاج کرتی تھیں، اور خندق کے دن سعد بن معاذ کو اسی میں رکھا گیا؛ ابن حجر اس روایت کی سند کو صحیح کہتے ہیں۔ اسے «پہلا بیمارستان» کہنا ٹی ڈی وی انسائیکلوپیڈیا کا بیان ہے، اور اسی مقالے میں مقریزی کا قول بھی نقل ہے کہ اسلام کا پہلا شفاخانہ 88ھ میں ولید بن عبد الملک نے قائم کیا۔ اختلاف اس میں ہے کہ شفاخانہ کسے کہا جائے اور اولیت کس کی ہے، واقعات میں نہیں۔
ماخذ: الإصابة في تمييز الصحابة — ابن حجر العسقلاني · البيمارستان — موسوعة TDV الإسلامية · Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)
اس سے پہلے
- جندی شاپور کا شفاخانہ
اس پر جو بنا
- ولید بن عبد الملک کا بیمارستان
- بغداد میں ہارون الرشید کا بیمارستان
- زیریں عراق کے دیہات میں بھیجا گیا متحرک بیمارستان
یہ کیسے کام کرتی ہے
خلاصہ
رفیدہ انصاریہ اسلمیہ کا مدینہ میں مسجدِ نبوی کے اندر ایک خیمہ تھا۔ اس میں وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور ضرورت مند مسلمانوں کی خدمت خود اپنے ذمے لیتی تھیں۔ جب غزوۂ خندق میں سعد بن معاذ زخمی ہوئے تو نبی نے حکم دیا کہ انہیں اسی خیمے میں رکھا جائے تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں 2۔ ترکی دیانت اسلامی انسائیکلوپیڈیا (TDV) اسے اسلام کا پہلا بیمارستان، یعنی ایک متحرک جنگی شفاخانہ، قرار دیتا ہے۔ لیکن مقریزی اسلام کا پہلا شفاخانہ ولید بن عبدالملک سے منسوب کرتے ہیں 3۔
یہ کیا ہے
یہ زخمیوں کے علاج اور دیکھ بھال کی جگہ ہے، کوئی مشین یا آلہ نہیں۔ مآخذ کے بیان کے مطابق اس کے تین اجزا تھے:
- ایک خیمہ جو اپنی مالکہ کے نام سے معروف تھا اور شہر کے بیچ، خود مسجد میں لگا تھا۔
- ایک خاتون جو زخمیوں کے علاج اور ضرورت مندوں کی خدمت کے لیے وقف تھیں۔
- میدان سے اٹھا کر لایا گیا زخمی، جو قریب ہی رہتا اور صبح و شام اس کی عیادت ہوتی۔
اس سے پہلے کی دنیا
TDV انسائیکلوپیڈیا بتاتا ہے کہ «بیمارستان» فارسی لفظ ہے: «بیمار» یعنی مریض، اور «ستان» جگہ کے لیے لاحقہ۔ اس کے مطابق ایران میں جندی شاپور کا شفاخانہ اور طبی مدرسہ اسی نام سے جانے جاتے تھے۔ نبی کے زمانے کے مشہور طبیب حارث بن کلدہ نے وہیں تعلیم پائی تھی، اس لیے عرب اس لفظ سے جلد واقف ہو گئے 4۔
انسائیکلوپیڈیا کے مطابق جندی شاپور کا مدرسہ تقریباً 260ء میں اور اس کا شفاخانہ تقریباً 350ء میں قائم ہوا۔ یہ کسریٰ نوشیروان کے دور میں اپنے عروج پر تھا، یعنی انہی برسوں میں جب نبی کی ولادت ہوئی۔ مگر یہ کوئی اسلامی ادارہ نہیں تھا 3۔
کہانی
5ھ میں احزاب نے مدینہ کا محاصرہ کیا، اور خندق کے دن اوس کے سردار سعد بن معاذ کو ایک تیر لگا 1۔ ابن اسحاق کی روایت میں، جسے ابن حجر نقل کرتے ہیں، نبی نے فرمایا: «انہیں رفیدہ کے اس خیمے میں رکھو جو مسجد میں ہے تاکہ میں قریب سے ان کی عیادت کروں»۔ وہ رفیدہ کو ایسی خاتون بتاتے ہیں جو زخمیوں کا علاج کرتیں اور اللہ کی رضا کے لیے ہر ضرورت مند مسلمان کی خدمت میں لگی رہتیں 2۔
بخاری الادب المفرد میں محمود بن لبید سے یہی واقعہ ایک اور سند سے روایت کرتے ہیں۔ جب خندق کے دن سعد کے بازو کی رگ کٹ گئی تو انہیں رفیدہ نامی ایک خاتون کے پاس منتقل کیا گیا، جو زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔ نبی شام کو ان کے پاس سے گزرتے تو پوچھتے: «شام کیسی گزری؟» اور صبح کو: «صبح کیسی ہوئی؟»، اور سعد آپ کو بتاتے 2۔ ابن حجر مزید کہتے ہیں کہ بخاری نے اسے التاریخ میں سعد کی وفات کے ذکر میں بھی نقل کیا ہے، اور اس کی سند صحیح ہے 5۔
زخمی ہونے کے بعد سعد ایک مہینہ زندہ رہے، یہاں تک کہ بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ دیا۔ پھر ان کا زخم کھل گیا اور 5ھ میں ان کا انتقال ہوا 1۔
بنانے والے
رفیدہ انصاریہ، جنہیں اسلمیہ بھی کہا جاتا ہے، صحابیہ تھیں۔ ابن حجر نے الاصابہ کے خواتین والے حصے میں نمبر 11222 کے تحت ان کا ترجمہ لکھا ہے 2۔ خیمہ انہی کا تھا اور اس میں زخمیوں کا علاج وہی کرتی تھیں۔ اسی لیے یہاں انہیں بنانے والی درج کیا گیا ہے، یعنی اس جگہ کی مالکہ اور منتظمہ۔
TDV انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے کہ نبی نے سعد اور دوسرے زخمیوں کے لیے ان کے خیمے میں پہلا بیمارستان قائم کیا 3۔ دونوں مآخذ واقعات پر متفق ہیں: خیمہ رفیدہ کا تھا، اور سعد کو وہاں لے جانے کا حکم نبی کا تھا۔
یہ کیسے کام کرتا ہے
اس کی بنیاد قربت پر ہے۔ زخمی کو میدانِ جنگ سے مسجد لایا جاتا اور ایسے خیمے میں رکھا جاتا جس کی نگران زخموں کا علاج جانتی تھیں۔ وہ شہر کے بیچ رہتا، اور نبی جب بھی گزرتے، صبح و شام، اس کی عیادت کرتے 2۔
اس اندراج کے لیے پڑھے گئے مآخذ نہ وہ اوزار یا دوائیں بتاتے ہیں جن سے رفیدہ علاج کرتی تھیں، نہ یہ کہ ان کے خیمے میں کتنے لوگوں کا علاج ہوا۔ اس صفحے کا خاکہ خندق سے خیمے تک کا راستہ اسی طرح دکھاتا ہے جیسے روایت بیان کرتی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
پھیلاؤ
اس اندراج کے لیے پڑھے گئے مآخذ اس خیمے سے کسی دوسری جگہ تک اس خیال کے سفر کا سراغ نہیں دیتے۔ TDV انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بیمارستان اموی دور میں بننے لگے اور عباسی دور میں ان کا پہلا سنہری زمانہ آیا 3۔
اس کی بنیاد کیا تھی
مآخذ یہ نہیں بتاتے کہ رفیدہ نے یہ کام کسی سے سیکھا۔ TDV انسائیکلوپیڈیا جندی شاپور کے شفاخانے کو بیمارستانوں کی تاریخ کے پس منظر میں رکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ حارث بن کلدہ نے وہاں تعلیم پائی، مگر اسے رفیدہ کے خیمے سے نہیں جوڑتا 4۔
اس پر کیا بنایا گیا
خیمے کے بعد TDV انسائیکلوپیڈیا بڑے اور زیادہ پائیدار اداروں کا ذکر کرتا ہے:
- ولید بن عبدالملک کا شفاخانہ، 88ھ / 707ء۔ مقریزی الخطط میں بتاتے ہیں کہ ولید نے اس میں تنخواہ دار طبیب مقرر کیے، جذامیوں کو الگ رکھنے کا حکم دیا، اور جذامیوں اور نابیناؤں کے لیے وظیفے جاری کیے 3۔
- بغداد میں ہارون الرشید کا بیمارستان۔ یہ جندی شاپور کے نمونے پر بنا اور بعد میں بغداد اور دوسری جگہوں کے شفاخانوں کے لیے نمونہ بنا 3۔
- متحرک بیمارستان۔ عباسی وزیر علی بن عیسیٰ نے طبیبوں کے ساتھ ایک متحرک شفاخانہ عراق کے سواد کے دیہات میں بھیجا، جس نے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کا علاج کیا۔ اسی لیے انسائیکلوپیڈیا اس دور کے بیمارستانوں کو متحرک اور ثابت میں تقسیم کرتا ہے 3۔
انسائیکلوپیڈیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ ان میں سے کوئی براہِ راست رفیدہ کے خیمے سے لیا گیا تھا۔
روزمرہ زندگی پر اثر
زخمی کے لیے اب ایک معروف جگہ تھی جہاں اسے لے جایا جاتا، اور ایک خاتون جو اس کی دیکھ بھال کے لیے وقف تھیں۔ یہ جگہ خود مسجد میں، لوگوں کے قریب تھی، جہاں ہر صبح و شام مریض کی عیادت ہوتی 2۔
اس نے تاریخ کو کیسے بدلا
TDV انسائیکلوپیڈیا اسلام میں بیمارستانوں کی تاریخ کا آغاز اسی خیمے سے کرتا ہے۔ پھر وہ امویوں اور عباسیوں کے شفاخانوں اور سلجوقیوں اور عثمانیوں کے دار الشفا تک جاتا ہے 3۔ بہت سے لکھنے والوں کے نزدیک یہ خیمہ وہ نقطۂ آغاز بن گیا ہے جہاں سے یہ تاریخ بیان کی جاتی ہے۔
اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟
واقعات میں کوئی اختلاف نہیں۔ خیمہ رفیدہ کا تھا، مسجد میں تھا، وہ اس میں زخمیوں کا علاج کرتی تھیں، اور خندق کے بعد سعد بن معاذ کو وہیں رکھا گیا 6۔ اختلاف نام اور اولیت میں ہے:
- ابن حجر الاصابہ میں، جو اہلِ سنت کا ماخذ ہے، خیمے اور رفیدہ کے کام کو بیان کرتے ہیں۔ وہ اسے شفاخانہ نہیں کہتے، نہ اس کے پہلا ہونے کا حکم لگاتے ہیں 2۔
- مقریزی، جو اہلِ سنت کے مؤرخ ہیں، اسلام کا پہلا شفاخانہ 88ھ میں ولید بن عبدالملک سے منسوب کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک «پہلا» وہ مستقل ادارہ ہے جس میں تنخواہ دار طبیب ہوں 3۔
- TDV انسائیکلوپیڈیا، جو ایک علمی مرجع ہے، کہتا ہے کہ اسلام کا پہلا بیمارستان نبی نے رفیدہ کے خیمے میں ایک متحرک جنگی شفاخانے کی صورت میں قائم کیا۔ یہ ابن ہشام اور احمد عیسیٰ کی تاریخِ بیمارستان پر انحصار کرتا ہے۔ پھر مقریزی کا قول نقل کرتا ہے اور دونوں میں تطبیق نہیں دیتا 3۔
اگر شفاخانہ زخمیوں کے علاج کی ایک معروف جگہ ہے جس کا کوئی منتظم ہو، تو اولیت رفیدہ کے خیمے کی ہے۔ اگر اس کے لیے مستقل عمارت اور تنخواہ دار طبیب شرط ہیں، تو اولیت ولید کی ہے۔ عجائب گھر ان دونوں میں فیصلہ نہیں کرتا۔
آج
خیمہ خود باقی نہیں رہا۔ جو کام وہ کرتا تھا اس کا آج ایک اور نام ہے: TDV انسائیکلوپیڈیا کے مطابق عرب دنیا آج «مستشفیٰ» کا لفظ استعمال کرتی ہے، جو بیمارستان، دار الشفا اور دار الصحہ کے بعد آیا 4۔
باقی ماندہ شواہد
ثقافت میں
اس اندراج کے لیے پڑھے گئے مآخذ ادب، فن یا عوامی ثقافت میں اس خیمے کا کوئی ذکر نہیں کرتے۔ جو بات کسی ماخذ سے ثابت ہو گی، شامل کی جائے گی 2۔
بچوں کے لیے
تقریباً چودہ سو سال پہلے مدینہ میں رفیدہ نام کی ایک خاتون نے مسجد میں ایک خیمہ لگایا۔ اس میں وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور ان کا خیال رکھتیں۔
جب سعد بن معاذ لڑائی میں زخمی ہوئے تو انہیں ان کے خیمے میں لایا گیا۔ نبی ہر صبح اور ہر شام ان کے پاس سے گزرتے اور پوچھتے: کیسے ہو؟ 2
مراجع
تعلقات
- Invented by
- رفيدة الأسلمية
- Enabled
- ولید بن عبد الملک کا بیمارستان
- Described by
- الإصابة في تمييز الصحابة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
غزوة الأحزاب (الخندق)· الأنصار· أسلم· مینار (مسجد کا)· شيخ الإسلام ابن حجر العسقلاني· المدينة المنورة· البداية والنهاية· رجال حول الرسول
ماخذ
- الإصابة في تمييز الصحابة — ابن حجر العسقلاني , p. 566
- الإصابة في تمييز الصحابة — ابن حجر العسقلاني , p. 1871
- البيمارستان — موسوعة TDV الإسلامية , §İlk Bîmâristan Tesisleri
- البيمارستان — موسوعة TDV الإسلامية , introduction
- الإصابة في تمييز الصحابة — ابن حجر العسقلاني , p. 1872
- الإصابة في تمييز الصحابة — ابن حجر العسقلاني , pp. 1871–1872
- Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences) , File:Old_Al-Masjid_Al-Nabawi_1908.jpg
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “زخمیوں کے علاج کے لیے رفیدہ کا خیمہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/rufayda-medical-tent/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON