مینار (مسجد کا)

المئذنة

مسجد کے اندر یا اس کے پہلو میں بنایا جانے والا ایک برج جس پر مؤذن چڑھ کر اوپر سے اذان دیتا ہے۔ مآخذ کے مطابق اسے سب سے پہلے معاویہ کے والیِ مصر مسلمہ بن مخلد انصاری نے بنوایا: جب انہوں نے 53ھ (673ء) میں فسطاط کی جامع عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو وسیع کیا تو اس میں منار بنوائے جو پہلے نہیں تھے، پھر مصر کی مسجدوں کے لیے منار بنانے کا حکم دیا۔ عالمِ اسلام کے سارے مینار انہی چھوٹے کونے کے برجوں سے نکلے۔

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر الأموي
خطہ
egypt-nile
نیچے سے دکھائی دیتی جامع عمرو بن العاص کی ہلکے رنگ کی پتھریلی دیوار، جس میں اینٹوں کے فریم والی دو محراب دار کھڑکیاں اور اوپر سیڑھی نما کنگورے ہیں۔ اس کے پیچھے نیلے آسمان کے سامنے لکڑی کی بالکونی اور نوکیلی چوٹی والا ایک گہرے رنگ کا مینار بلند ہے؛ نیچے سفید گولے والا ایک بجلی کا کھمبا کھڑا ہے
تصویر: فسطاط میں جامع عمرو بن العاص کی دیوار پر ایک مینار، 2011ء. Photograph by Protious, 10 December 2011 (December 2011 photowalk in Cairo), CC0 on the file page. Wikimedia Commons: https://commons.wikimedia.org/wiki/File:December_photowalk_-_%27Amr_ibn_al-%27As_mosque_5.jpg

مختصر حقائق

شعبہ
فنِ تعمیر اور تعمیراتی طریقے
قسم
تعمیر
پہلا ثبوت
673 عیسوی · 53 ھ
دور
اسلام کی پہلی صدی
مقام
الفسطاط
جس میں بیان ہوئی
فتوح مصر والمغرب · الإصابة في تمييز الصحابة
نسبت
اصل

کس نے بنایا

نسبت اور اس کی بنیاد

مسلمہ بن مخلد پہلے شخص ہیں جنہوں نے کسی مسجد میں منار بنوائے: 53ھ میں فسطاط کی جامع عمرو میں، جہاں پہلے کوئی منار نہ تھا، پھر مصر کی مسجدوں کے لیے ان کا حکم دیا۔

پڑھے گئے مآخذ ان کی اولیت پر متفق ہیں۔ ابن عبد الحکم ان کے حکم کی تاریخ 53ھ دیتے ہیں۔ مقریزی کہتے ہیں کہ انہوں نے جامع میں منار بنوائے «اور اس سے پہلے نہیں تھے»۔ ابن حجر ابن السکن کا قول نقل کرتے ہیں کہ وہ «اہلِ مصر پر منار کی تعمیر لازم کرنے والے پہلے شخص» تھے۔ یومنز کے بقول کریزویل اسے مینار بنانے کا پہلا درج شدہ ذکر کہتے ہیں، اور TDV کا مقالہ کہتا ہے کہ مسلمہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کسی جامع میں مینار کا اضافہ کیا۔ اس سے پہلے بلال کا اسطوانہ اور اونچی جگہیں اذان کے مقامات تھے، اس کے لیے بنائے گئے برج نہیں۔

ماخذ: فتوح مصر والمغرب — ابن عبد الحکم (تحقیق عبد المنعم عامر، الہیئۃ العامۃ لقصور الثقافۃ) · المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) · الإصابة في تمييز الصحابة — ابن حجر العسقلاني · ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) · المنارة — موسوعة TDV الإسلامية · Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences)

اس سے پہلے

  • مسجدِ نبوی میں بلال کا اسطوانہ
  • دمشق کے پرانے معبد کی چار دیواری کے کونوں کے برج
  • نگرانی، اشارے اور روشنی کے مینار

اس پر جو بنا

  • دمشق کی جامع اموی کے مینار
  • قیروان کی جامع مسجد کا مینار
  • جامع ابن طولون کا مینار
  • کلاسیکی عثمانی مینار

یہ کیسے کام کرتی ہے

مینار کس پر بنا اور اس پر کیا بنا

خلاصہ

مینار وہ برج ہے جو مسجد میں اس لیے بنایا جاتا ہے کہ مؤذن اس پر چڑھ کر اوپر سے اذان دے۔ مآخذ کے مطابق اسے سب سے پہلے مسلمہ بن مخلد انصاری نے بنوایا، جو معاویہ بن ابی سفیان کی طرف سے مصر کے والی تھے۔ انہوں نے فسطاط کی جامع عمرو بن العاص کو وسیع کیا «اور اس میں منار بنوائے جو اس سے پہلے نہیں تھے» 1۔ پھر 53ھ میں انہوں نے اہلِ مصر کو اپنی مسجدوں کے لیے منار بنانے کا حکم دیا، اور منار بنا تو اس پر ان کا نام لکھا گیا 2۔ یومنز اس کی تاریخ 673ء دیتے ہیں اور ان پہلے میناروں کو مسجد کے کونوں پر ایسے برج بتاتے ہیں جو اس کی چھت سے ذرا ہی اونچے تھے 3۔

یہ کیا ہے

یہ ایک تعمیر ہے، کوئی مشین یا آلہ نہیں۔ مآخذ کے بیان کے مطابق پہلے میناروں کی تین خصوصیات تھیں:

  • مسجد کے کونوں پر برج جو چھت کی سطح سے بس تھوڑا سا اونچے تھے 3۔
  • ان پر باہر کی سیڑھیوں سے چڑھا جاتا تھا 3۔
  • ان کا مقصد یہ تھا کہ مؤذن ان پر چڑھ کر اذان دے؛ شرحبیل بن عامر پہلے شخص تھے جو اذان کے لیے مصر کے منار پر چڑھے 1۔

یہ لفظ عربی «منارہ» سے ہے، یعنی وہ جگہ جہاں روشنی یا آگ دکھائی دے؛ بعض علاقوں میں اسے «مئذنہ»، یعنی اذان کی جگہ، بھی کہتے ہیں 4۔

اس سے پہلے کی دنیا

عمرو بن العاص نے 641–642ء میں فسطاط میں اپنی مسجد پچاس ذراع لمبی اور تیس ذراع چوڑی، کچی اینٹوں اور کھجور کے تنوں سے بنائی، بالکل پہلی مسجدِ نبوی کی طرح۔ اس میں نہ منار تھا نہ صحن، اور فرش پر کنکریاں بچھی تھیں 3۔

نبی کے زمانے میں مسجدِ نبوی کی قبلہ کی سمت «اسطوانہ» نام کی ایک جگہ تھی جس پر بلال رسی کے سہارے چڑھ کر اذان دیتے تھے۔ اسے مینار کی پہلی شکل سمجھا جا سکتا ہے؛ مسجد کے آس پاس کی اونچی جگہیں بھی استعمال ہوتی تھیں 5۔ فتحِ مصر کے وقت اذان صرف جامع مسجد میں ہوتی تھی۔ وہاں مؤذنوں کے پہلے نگران ابو مسلم سالم بن عامر مرادی تھے، جو عمر بن خطاب کے لیے اذان دے چکے تھے اور عمرو کے ساتھ ان کے مؤذن بن کر مصر آئے؛ عمرو نے ان کے ساتھ نو آدمی ملا دیے اور دسویں وہ خود تھے۔ ان کے بعد ان کے بھائی شرحبیل بن عامر نگران بنے 1۔

کہانی

معاویہ نے مسلمہ بن مخلد کو مصر اور مغرب دونوں کا والی بنایا، اور وہ پہلے شخص تھے جنہیں دونوں ایک ساتھ ملے؛ وہ یزید کے دور تک والی رہے 6۔ مسلمان بہت بڑھ گئے تھے، چنانچہ مسلمہ نے عمرو کی بنائی ہوئی جامع مسجد کو وسیع کیا 2۔ یومنز کہتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ کے حکم سے اسے اتنا وسیع کیا کہ سارے مسلمان اس میں سما سکیں، اور اس کے کونوں پر منار بنوائے 3۔

پھر 53ھ میں انہوں نے اہلِ مصر کو اپنی مسجدوں کے لیے منار بنانے کا حکم دیا۔ منار پر ان کا نام لکھا گیا۔ انہوں نے خولان کو اس سے مستثنیٰ رکھا کیونکہ ان سے ان کی سسرالی رشتہ داری تھی 7۔ مقریزی بیان کرتے ہیں کہ جب خطبے والی مسجدیں بہت ہو گئیں تو مسلمہ نے تُجیب اور خولان کی مسجدوں کے سوا سب مسجدوں میں منار بنانے کا حکم دیا 8۔

مقریزی یہ واقعہ بھی بیان کرتے ہیں کہ مسلمہ نے ایک بار جامع کے منار میں اعتکاف کیا اور فسطاط میں گرجا گھروں کی گھنٹیوں کی اونچی آوازیں سنیں۔ انہوں نے اس کی شکایت شرحبیل بن عامر سے کی، جنہوں نے کہا کہ وہ آدھی رات سے فجر کے قریب تک اذان کو لمبا کریں گے۔ پھر مسلمہ نے اذان کے وقت گھنٹیاں بجانے سے منع کر دیا، اور شرحبیل رات کا بڑا حصہ اذان لمبی کرتے رہے یہاں تک کہ 65ھ میں ان کا انتقال ہو گیا 9۔

بنانے والے

مسلمہ بن مخلد بن صامت انصاری خزرجی، جنہیں زُرَقی بھی کہا جاتا ہے، ابو سعید۔ ابن حجر نے الاصابہ میں ان کا تذکرہ نمبر 8248 پر کیا ہے۔ ابن السکن، ابو نعیم اور دوسروں نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے؛ وہ نبی کے مدینہ آنے کے وقت پیدا ہوئے اور نبی کی وفات کے وقت دس برس کے تھے۔ وہ معاویہ کی طرف سے مصر اور مغرب کے والی رہے اور 62ھ میں مصر میں فوت ہوئے۔ ابن حجر ابن السکن کا قول نقل کرتے ہیں: «وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اہلِ مصر پر منار کی تعمیر لازم کی» 6۔

مآخذ کہتے ہیں کہ انہوں نے منار کا حکم دیا اور لوگوں سے بنوائے؛ وہ معماروں کے نام نہیں بتاتے۔ اس لیے یہاں ان کا کردار بنوانے والے کا درج کیا گیا ہے، خود بنانے والے کا نہیں 2۔

یہ کیسے کام کرتا ہے

خیال آواز کو بلند کرنے کا ہے۔ مؤذن سیڑھیوں سے برج پر چڑھتا ہے اور مسجد کی چھت سے اوپر سے اذان دیتا ہے، تو اس کی آواز زمین سے دی گئی اذان سے زیادہ دور تک پہنچتی ہے 3۔

فسطاط میں اذان کا ایک نظام بن گیا: پہلے جامع کے مؤذن اذان دیتے، اور جب وہ فارغ ہوتے تو فسطاط کا ہر مؤذن ایک ہی وقت میں اذان دیتا، اور ان کی اذان کی زبردست گونج ہوتی 8۔ اس صفحے کا خاکہ دکھاتا ہے کہ مینار کس پر بنا اور اس پر کیا بنا، جیسا کہ مآخذ بتاتے ہیں، اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

پھیلاؤ

پھیلاؤ خود مصر سے شروع ہوا: مسلمہ نے تجیب اور خولان کے سوا مصر کی سب مسجدوں میں منار بنانے کا حکم دیا 8۔ پھر مینار پتھر، اینٹ اور لکڑی سے بنے: اندلس اور مصر میں پتھر، شمالی افریقہ میں اینٹ، اور جزیرۂ عرب، شام اور اناطولیہ میں پتھر اور اینٹ دونوں 5۔ شمالی افریقہ اور اندلس سے شام تک مینار کئی منزلہ چوکور برج بنے؛ مشرق میں وہ زیادہ تر گول اور پتلے تھے 5۔

اس کی بنیاد کیا تھی

  • مسجدِ نبوی میں بلال کا اسطوانہ، وہ جگہ جس پر وہ اذان کے لیے چڑھتے تھے، اور جسے TDV انسائیکلوپیڈیا مینار کی پہلی شکل سمجھتا ہے 5۔
  • دمشق کے پرانے معبد کی چار دیواری کے کونوں کے برج۔ یومنز کریزویل کی رائے نقل کرتے ہیں کہ مسلمہ کے کونے والے منار غالباً انہی کے نمونے پر بنے؛ یہی دیواریں دمشق کی بڑی مسجد کی بیرونی دیواریں بنیں 3۔
  • نگرانی، اشارے اور روشنی کے مینار۔ انسائیکلوپیڈیا مختلف آرا درج کرتا ہے جو مینار کو وسطی ایشیا اور ایران کے اشارے کے برجوں، شام کے نگرانی اور گھنٹی کے برجوں، بحیرۂ روم کے روشنی کے میناروں یا ہندوستان کی فتح کی یادگاروں سے جوڑتی ہیں 4۔ یہ شکل کی اصل کے بارے میں آرا ہیں، کوئی سلسلہ نہیں جسے مآخذ مسلمہ تک لے جاتے ہوں۔

اس پر کیا بنایا گیا

  • دمشق کی جامع اموی کے مینار (705–714ء)۔ جب شام کے گرجا گھر مسجدیں بنے تو ان کے گھنٹی کے برج مینار بن گئے، اور اموی دور میں چوکور مینار ظاہر ہوئے؛ مسجد کے دو جنوبی میناروں کے نچلے حصے پرانے کلیسائے یوحنا کے تھے 10۔
  • قیروان کی جامع مسجد کا مینار (105ھ/724ء)، تین منزلہ اور 31.5 میٹر اونچا، مغرب کا سب سے پرانا مینار 10۔
  • جامع ابن طولون کا مینار، پہلی منزل میں چوکور، دوسری میں گول اور بعد میں جوڑی گئی تیسری میں ہشت پہلو؛ اس نے اندلس اور مغرب کے فنون پر اثر ڈالا 10۔
  • کلاسیکی عثمانی مینار۔ مینار سولہویں اور سترہویں صدی میں اپنی سب سے پختہ شکل کو پہنچا 5۔

روزمرہ زندگی پر اثر

اذان کو مسجد کے اوپر ایک مستقل، تعمیر شدہ جگہ مل گئی، جبکہ پہلے وہ کسی ستون یا قریب کی چھت سے دی جاتی تھی 5۔ فسطاط میں اذان اب جامع سے شروع ہوتی اور شہر کی ہر مسجد ایک ہی وقت میں اس کا جواب دیتی 8۔

اس نے تاریخ کو کیسے بدلا

مینار مسجد کی سب سے نمایاں پہچان بن گیا، اور مدرسوں، مقبروں اور خانقاہوں پر بھی ملتا ہے 11۔ یہ شام، مغرب، مصر، عراق، ایران، وسطی ایشیا، اناطولیہ اور ہندوستان میں چوکور، گول اور ہشت پہلو شکلوں میں پھیلا 12۔ یومنز کے بقول کریزویل مسلمہ کے میناروں کو مینار بنانے کا پہلا درج شدہ ذکر کہتے ہیں 3۔

اسے حقیقتاً کس نے ایجاد کیا؟

پڑھے گئے مآخذ مسلمہ کی اولیت پر اختلاف نہیں کرتے:

  • ابن عبد الحکم فتوح مصر میں مسلمہ کے منار بنوانے کے حکم کی تاریخ 53ھ دیتے ہیں 2۔
  • مقریزی کہتے ہیں کہ انہوں نے جامع میں منار بنوائے «اور اس سے پہلے نہیں تھے» 1۔
  • ابن حجر ابن السکن کا قول نقل کرتے ہیں کہ وہ «اہلِ مصر پر منار کی تعمیر لازم کرنے والے پہلے شخص» تھے 6۔
  • کریزویل، یومنز کے بقول، اسے مینار بنانے کا پہلا درج شدہ ذکر سمجھتے ہیں 3، اور TDV انسائیکلوپیڈیا کہتا ہے کہ مسلمہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کسی جامع میں مینار کا اضافہ کیا 5۔

اس سے پہلے بلال کا اسطوانہ اور اونچی جگہیں اذان کے مقامات تھے، اس کے لیے بنائے گئے برج نہیں 5۔ مسلمہ کا حصہ تعمیر کا حکم دینا تھا؛ مآخذ معماروں کے نام نہیں بتاتے۔

آج

آج کا مینار ایک برج ہے جو کرسی (بنیاد) سے تنے کے ذریعے ایک یا زیادہ بالکونیوں تک اٹھتا ہے جہاں مؤذن گھوم کر اذان دیتا ہے، اور اس کے اوپر ایک مخروطی ٹوپی اور کلس ہوتا ہے 13۔ عالمِ اسلام کا سب سے اونچا معلوم مینار الجزائر کی جامع امیر عبد القادر کا ہے، جو 1971ء میں بنا اور 107 میٹر اونچا ہے 10۔

باقی ماندہ شواہد

مسلمہ کے اپنے منار باقی نہیں رہے۔ عبد العزیز بن مروان نے 77ھ میں مسجد گرا کر دوبارہ بنائی، اور قرہ بن شریک نے خلیفہ ولید بن عبد الملک کے دور میں، تقریباً 90ھ میں، اسے پوری طرح گرا کر نئے سرے سے بنایا 14۔

مسجد خود آج بھی قائم ہے۔ اس صفحے کی تصویر 2011ء میں اس کی دیوار اور بعد کے دور کے ایک مینار کو دکھاتی ہے؛ یہ مسلمہ کا منار نہیں 15۔

ثقافت میں

پڑھے گئے مآخذ مسلمہ کے میناروں کو ادب یا فن میں، ان کے منار میں اعتکاف اور شرحبیل کی اذان کے واقعے کے سوا، کوئی جگہ نہیں دیتے 1۔ جو کچھ کسی ماخذ سے ثابت ہو، شامل کیا جائے گا۔

بچوں کے لیے

تقریباً چودہ سو سال پہلے مؤذن کسی ستون یا چھت پر چڑھتا تھا تاکہ لوگ اذان سن سکیں۔

پھر مصر کے والی مسلمہ بن مخلد نے فسطاط کی جامع عمرو کے کونوں پر چھوٹے برج بنوائے تاکہ مؤذن ان پر چڑھے۔ آج آپ جو بھی مینار دیکھتے ہیں وہ انہی برجوں سے آیا ہے 3۔

مراجع

  • ابن عبد الحکم، فتوح مصر والمغرب، تحقیق عبد المنعم عامر، ص 178–179 («جامع مسجد کی توسیع»)۔ 7
  • مقریزی، المواعظ والاعتبار بذکر الخطط والآثار، اشاعت 1998، اسکین ص 1996–1997۔ 9
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، المکتبۃ العصریہ، ص 1413 (مسلمہ بن مخلد، نمبر 8248)۔ 6
  • رچرڈ یومنز، The Art and Architecture of Islamic Cairo، ص 20۔ 3
  • فلیز گوندوز، «MİNARE»، TDV انسائیکلوپیڈیا آف اسلام، آن لائن اشاعت۔ 5
  • وکی میڈیا کامنز، 2011ء میں جامع عمرو کی دیوار اور مینار کی تصویر۔ 15

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Described by
فتوح مصر والمغرب· الإصابة في تمييز الصحابة

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

زخمیوں کے علاج کے لیے رفیدہ کا خیمہ· ابن عبد الحکم مصری· شيخ الإسلام ابن حجر العسقلاني· رجال حول الرسول· الإصابة في تمييز الصحابة· فتوح مصر والمغرب

ماخذ

  1. المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p. 1996
  2. فتوح مصر والمغرب — ابن عبد الحکم (تحقیق عبد المنعم عامر، الہیئۃ العامۃ لقصور الثقافۃ) , p. 178
  3. ريتشارد يومانز، «فن القاهرة الإسلامية وعمارتها» (2006) , p. 20
  4. المنارة — موسوعة TDV الإسلامية , ¶1
  5. المنارة — موسوعة TDV الإسلامية , ¶2
  6. الإصابة في تمييز الصحابة — ابن حجر العسقلاني , p. 1413
  7. فتوح مصر والمغرب — ابن عبد الحکم (تحقیق عبد المنعم عامر، الہیئۃ العامۃ لقصور الثقافۃ) , pp. 178–179
  8. المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , p. 1997
  9. المواعظ والاعتبار بذكر الخطط والآثار (الخطط المقريزية)، تحقيق محمد زينهم ومديحة الشرقاوي، مكتبة مدبولي (القاهرة، 1998) , pp. 1996–1997
  10. المنارة — موسوعة TDV الإسلامية , ¶5
  11. المنارة — موسوعة TDV الإسلامية , ¶4
  12. المنارة — موسوعة TDV الإسلامية , ¶5–¶8
  13. المنارة — موسوعة TDV الإسلامية , ¶3
  14. فتوح مصر والمغرب — ابن عبد الحکم (تحقیق عبد المنعم عامر، الہیئۃ العامۃ لقصور الثقافۃ) , p. 179
  15. Wikimedia Commons (file pages, CC BY-SA and CC BY licences) , File:December_photowalk_-_'Amr_ibn_al-'As_mosque_5.jpg
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مینار (مسجد کا)”. islam.museum، https://islam.museum/ur/invention/minaret/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-05.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

تخلیقات

مسلمان آج جو بناتے اور جن کے مالک ہیں: کتب فروشی، ناشر، ایپس، اسٹوڈیو، برانڈز اور خیراتی ادارے۔
متعلقہ

زخمیوں کے علاج کے لیے رفیدہ کا خیمہ

صحابیہ رفیدہ انصاریہ اسلمیہ کا ایک خیمہ جو مدینہ میں مسجدِ نبوی میں لگا تھا، جہاں وہ زخمیوں کا علاج کرتیں اور ضرورت مند مسلمانوں کی خدمت خود اپنے ذمے لیتی تھیں۔ جب 5ھ میں غزوۂ خندق کے دن سعد بن معاذ کو تیر لگا تو نبی نے انہیں اسی خیمے میں رکھوایا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں ۔ ٹی ڈی وی اسلامی انسائیکلوپیڈیا اسے اسلام کا پہلا بیمارستان اور ایک متحرک جنگی شفاخانہ کہتا ہے، جبکہ مقریزی اسلام کے پہلے شفاخانے کو 88ھ میں ولید بن عبد الملک سے منسوب کرتے ہیں ۔