الإذن بالقتال ونشاط السرايا قبل بدر

الإذن بالقتال ونشاط السرايا قبل بدر

تقریباً 623 عیسوی · تقریباً 1 ھ† †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

المدينة المنورة

The permission to fight was revealed after the Hijra in Medina, meant only to lift oppression and to uphold the rites of God; the Prophet sent scouting parties and raids to secure Quraysh's trade route and made alliances with the tribes along it, beginning with the expedition of Sif al-Bahr in Ramadan of the second year of the Hijra, and the raids continued until Badr.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
العصر النبوي
خطہ
arabia
جائزہ
مسودہ تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں

610عیسوی620عیسوی630عیسوی640عیسوی تقریباً
شبه الجزيرة العربية قبل الإسلام · العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين

مکان میں

المدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

خلاصہ

ہجرت کے بعد مدینہ میں لڑائی کی اجازت نازل ہوئی، اور اس کا مقصد مومنوں سے ظلم دور کرنا اور اللہ کے شعائر قائم کرنا تھا، نہ کہ زیادتی کرنا۔ 1 2 اس وقت مدینہ پر عرب قبائل ایک ہی کمان سے تیر برساتے تھے، اور مسلمان ہتھیار لے کر ہی رات گزارتے تھے۔ 1

منصوبہ

نبی نے یہ طے کیا کہ مسلمان قریش کے تجارتی راستے پر، مکہ سے شام تک، اپنا کنٹرول قائم کریں، اور اس کے لیے دو طریقے اختیار کیے: اس راستے کے ساتھ رہنے والے قبائل سے حلف یا عدم جارحیت کے معاہدے کرنا، اور یکے بعد دیگرے چھوٹے دستے بھیجنا۔ 1 3 ان اقدامات کا مقصد جائزہ لینا، معاہدے کرنا، قریش کو خبردار کرنا اور قبائل کو مسلمانوں کی قوت سے آگاہ کرنا تھا۔ 3

عبد اللہ بن جحش کی سریہ کے بعد

سنہ دو ہجری کے رجب میں سریۂ نخلہ پیش آیا، پھر اسی سال شعبان میں اللہ نے مسلمانوں کو لڑائی کا حکم دیا، اور اس بارے میں جو آیات اتریں وہ واضح کرتی ہیں کہ یہ فتنے کو دین سے ہٹانے کے لیے تھا۔ 2 کتاب کے مطابق ان آیات کا مفہوم بتاتا ہے کہ آخرکار فتح مسلمانوں کی ہو گی، اور یہ بات چھپا کر رکھی گئی تاکہ ہر شخص اللہ کی راہ میں جوش سے آگے بڑھے۔ 2

محققین کے لیے نوٹس

  • سرایا کی ترتیب اور تعداد کی زیادہ تر تفصیل مصنف کی تحقیق پر مبنی ہے، اور ماخذ اس بارے میں مختلف ہیں۔ 4
  • کتاب کا رجحان یہ ہے کہ لڑائی کی اجازت مکہ میں نہیں بلکہ مدینہ میں نازل ہوئی، اگرچہ وہ نزول کی تاریخ کو یقینی نہیں کہتی۔ 1

چھوٹے زائرین کے لیے

ہجرت کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو اجازت دی کہ جو ان پر ظلم کرے اس کے خلاف اپنا دفاع کریں۔ اس کے بعد نبی نے قریش کے تجارتی راستے کو محفوظ کرنے کے لیے چھوٹے چھوٹے گروہ بھیجنا شروع کیے۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Occurred at
المدينة المنورة
Had participant
محمد
Led to
سرية سيف البحر
Part of
العصر النبوي

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

غزوة الأحزاب (الخندق)· غزوة أحد· ولادة الحسن بن علي وتسميته وعقيقته· المؤاخاة بين المهاجرين والأنصار· دفن النبي· أسر ثمامة بن أثال الحنفي وإسلامه· تحويل القبلة· صحيفة المدينة

ماخذ

  1. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , p.196
  2. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , p.202
  3. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , p.197
  4. الرحيق المختوم — صفي الرحمن المباركفوري , p.201
  • زاد المعاد في هدي خير العباد — ابن قيم الجوزية
  • السيرة النبوية — ابن هشام
  • رحمة للعالمين — المنصور فوري
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “الإذن بالقتال ونشاط السرايا قبل بدر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/event/permission-to-fight/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-19.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

زمانہ

ادوار، زمانی خاکے، تاریخ میں یہ دن، اسلامی دنیا کا کوئی بھی سال۔
متعلقہ

غزوة الأحزاب (الخندق)

In Shawwal 5 AH (February-March 627 CE), a confederate army of 10,000 Meccans and Bedouin allies besieged Medina; upon Salman al-Farisi's advice the Muslims dug a protective trench on their northern boundary; the siege endured for nearly a month amidst cold, hunger, and the treachery of Banu Qurayza, until broken by Nu'aym ibn Mas'ud's stratagem and a violent night windstorm.