ایک نظر میں
- دور
- العصر النبوي
- خطہ
- global
- جائزہ
- مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
ethics-and-characterislam-and-judaism
خلاصہ
شعراوی «تلبیس» کا مطلب یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک چیز کو دوسری میں ملا دیا جائے، جیسے آدمی لباس پہنتا ہے اور اس سے اس کی ظاہری شکل بدل جاتی ہے۔ وہ اس آیت (آل عمران 71) کو اہلِ کتاب کے ایک طبقے کے بارے میں سمجھتے ہیں جو حق کو باطل میں ملاتے تھے اور جانتے ہوئے اسے چھپاتے تھے 1۔
ان کے نزدیک تلبیس کی صورتیں
شعراوی کے نزدیک تلبیس میں تورات و انجیل میں تحریف بھی شامل ہے، جس میں وہ باتیں داخل کی گئیں جو نہ موسیٰ لائے تھے نہ عیسیٰ۔ ان کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ان کی کتابوں میں موجود نبی کی بشارت کا انکار کیا گیا، حالانکہ وہ موسیٰ اور عیسیٰ پر ایمان کا اعلان کرتے تھے۔ ان کے بیان کے مطابق وہ جانتے تھے کہ اسلام ہی دینِ حق ہے 12۔
آیت کا سیاق
شعراوی بتاتے ہیں کہ اہلِ کتاب میں سے بعض نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دن کے آغاز میں اس پر ایمان لاؤ جو مومنوں پر اتارا گیا، اور دن کے آخر میں انکار کر دو۔ وہ اسے اَن پڑھ مومنوں میں شک پھیلانے کی چال سمجھتے ہیں۔ اگلی آیت کو وہ اس چال کا جواب قرار دیتے ہیں، کہ ہدایت اللہ کی ہدایت ہے اور فضل اسی کے ہاتھ میں ہے 23۔
اس مدخل پر نوٹ
یہ صرف شعراوی کی قراءت ہے، ایک اسکین شدہ نسخے سے لی گئی جس کا ایڈیشن ابھی تصدیق شدہ نہیں، اور اسی کی طرف منسوب کر کے پیش کی گئی ہے۔ ان کتابوں کی متنی تاریخ پر علمی مراجع سے کوئی بیان ابھی شامل نہیں، اور تلبیس کے معنی پر کوئی دوسری تفسیر پیش نہیں کی گئی (needs_source)۔ مزید دیکھیں: گمراہ کرنا اور اس کا بوجھ اور اہلِ کتاب۔
سوال پر آراء
سوال: Does the verse refer to altering scripture and concealing its tidings? How should its context among the People of the Book be read?
پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · sunniبنیادی حوالہ
Talbis is mixing truth with falsehood, including concealing the tidings of the Prophet
قائل: محمد متولی الشعراوی
مزید آراء (1)
academic نقطۂ نظرثانوی رائے
Historical readings of the scriptures of the People of the Book and their alteration
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عهد الله والأيمان ومَن يشتري بها ثمناً قليلاً· إضلال الغير وحمل وزره· أداء الدين· أداء الشهادة· حاملِ قرآن کے آداب· کاٹنا (عض)· اذی (معمولی تکلیف: نقصان دہ چیزوں کو ہٹانا اور تکلیف نہ دینے کا حکم)· عدل اور فضل
ماخذ
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1537
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1538
- خواطر الشعراوي حول القرآن الكريم، المجلد الأول (نسخة ممسوحة) , p.1539
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “التلبيس بين الحق والباطل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/talbis-al-haqq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-23.