ایک نظر میں
- دور
- الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك
- خطہ
- global
spirituality-and-sufismethics-and-character
خلاصہ
ہروی کی تعریف
ابن القیم منازل میں ہروی کا قول نقل کرتے ہیں کہ یہ «نفس کو سچائی قبول کرنے کی مشق کرانا» ہے، اور اس کے دو معنی بیان کرتے ہیں: نفس کو اس کی مشق کرانا کہ جب اس کے اپنے اقوال، افعال اور ارادے میں سچائی اس کے سامنے آئے تو وہ اسے قبول کرے، اور جو کوئی حق پیش کرے اس سے حق قبول کرنا۔ وہ الزمر 33 سے استدلال کرتے ہیں کہ بندے کا اپنا سچا ہونا کافی نہیں جب تک وہ سچوں کی تصدیق بھی نہ کرے، کیونکہ بہت سے لوگ سچے ہوتے ہیں مگر تکبر یا حسد انہیں تصدیق سے روک دیتا ہے۔ محقق بتاتے ہیں کہ ہروی نے اسے فرار کے بعد رکھا ہے، خود ابن القیم کی ترتیب کے مطابق۔ 1
پہلا درجہ: عوام کی ریاضت
ہروی کے نزدیک یہ علم سے اخلاق کی تہذیب، اخلاص سے اعمال کی تصفیہ، اور معاملات میں حقوق کی پوری ادائیگی ہے۔ ابن القیم وضاحت کرتے ہیں: علم سے اخلاق کی تہذیب یہ ہے کہ بندہ کوئی ظاہری یا باطنی حرکت علم کے تقاضے کے بغیر نہ کرے، تاکہ اس کی حرکات شریعت کی میزان میں تُلی ہوں؛ اخلاص سے اعمال کی تصفیہ یہ ہے کہ انہیں اللہ کے سوا ہر محرک سے پاک کیا جائے – «مقصود کو ایک کرنا اور محرک کو خالص کرنا»؛ اور حقوق کی ادائیگی یہ ہے کہ اللہ کا حق اور بندوں کے حقوق پورے پورے ادا کیے جائیں۔ چونکہ یہ تینوں نفس پر بہت بھاری ہیں، اس لیے انہیں اپنانا ریاضت ہے؛ جب عادت بن جائیں تو اخلاق بن جاتی ہیں۔ 2
دوسرا درجہ: خواص کی ریاضت
ہروی کے نزدیک یہ پراگندگی کا خاتمہ، اس مقام کی طرف التفات ترک کرنا جس سے آگے بڑھ چکا ہو، اور علم کو اپنی راہ پر چلنے دینا ہے۔ ابن القیم پہلے کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ جو چیز دل کو اللہ سے منتشر کرے اسے اللہ پر یکسوئی کے ذریعے کاٹ دیا جائے، اور دوسرے کی یوں کہ سالک گزرے ہوئے مقام کے علوم اور لذت کی پسندیدگی میں مشغول نہ رہے، مبادا وہ اس کے لیے پردہ بن جائے جس پر وہ رک جائے – «کیونکہ نہ فطرت میں ٹھہراؤ ہے نہ سفر میں: یا آگے یا پیچھے»۔ 2 علم کو اپنی راہ پر چلنے دینے کی حقیقت ان کے نزدیک علم کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہے، اور یہ کہ سالک اس کا مقابلہ یکسوئی، ذوق یا حال سے نہ کرے: علم کو حال پر حاکم بنایا جائے۔ ان کے بقول بہت سے سالکین جب کوئی چمک دیکھتے ہیں یا کوئی حال ان پر غالب آتا ہے تو علم کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں اور حال کو حاکم بنا لیتے ہیں؛ اسی لیے استقامت والے شیوخ نے علم اور اس سے وابستگی کی بڑی تاکید کی۔ 2 3
تیسرا درجہ: خاص الخاص کی ریاضت
ہروی کے نزدیک یہ شہود کی تجرید، جمع کی طرف صعود، معارضات کو رد کرنا اور معاوضات کو کاٹنا ہے۔ 3
- جمع کی طرف صعود: ابن القیم اسے «قدموں کے پھسلنے اور فہموں کے بھٹکنے کی جگہ» کہتے ہیں اور دو جمعوں میں فرق کرتے ہیں۔ حکمِ کونی میں جمع، یعنی تمام مخلوق آثار کا قضا و قدر میں جمع ہونا؛ اس کا شہود ان کے نزدیک حق ہے مگر ایمان نہیں دیتا، اور اس میں فنا زیادہ سے زیادہ توحیدِ ربوبیت میں فنا ہے جو تنہا کافی نہیں۔ اور ذاتی جمع، یعنی اسماء و صفات کا ذات میں جمع ہونا، جس کا شہود صحیح ہے۔ اسماء و صفات سے بلند ہو کر ان سے خالی ذات تک پہنچنے والے کو زیادہ سے زیادہ تنگیِ دل یا وارد کی قوت کی وجہ سے معذور سمجھا جا سکتا ہے، قابل تعریف نہیں؛ وہ شہود میں اس سلب کو اعتقاد میں جہمیہ کے سلب سے تشبیہ دیتے ہیں، دونوں کے فرق کے ساتھ۔ ان کے نزدیک کمال یہ ہے کہ ذات کو صفاتِ کمال سے موصوف دیکھا جائے، اور جتنا اسماء کے معانی کا شہود زیادہ ہو اتنا ہی کامل؛ وہ کہتے ہیں کہ وہ کشف اور ذوق کا انکار نہیں کرتے، «لیکن اصل بات ان کے مرتبے کی ہے»۔ 3 4 ایک حاشیہ «الفقی» کے نام سے ہے جو اس شہود کو وحدت الوجود کے قول کی طرف پہلا قدم قرار دیتا ہے – یہ حاشیہ نگار کا حکم ہے۔ 4
- معارضات کا رد اور معاوضات کا خاتمہ: ابن القیم پہلے کو اس چیز کے رد پر محمول کرتے ہیں جو جمعی شہود کے معارض ہو، یا – جو زیادہ کامل معنی ہے – ہر اس ارادے کے رد پر جو اللہ کی مراد کے معارض ہو؛ اور دوسرے کو معاملے کو معاوضے کی خواہش سے پاک کرنے پر، کیونکہ اللہ اس لائق ہے کہ اس کی عبادت اس کی ذات کے لیے کی جائے۔ 4 پھر وہ وضاحت کرتے ہیں کہ معاوضے کا لحاظ ہر عمل کرنے والے کے لیے ضروری ہے، اور جس سچے محب نے معاوضوں کا لحاظ چھوڑ دیا اس نے دراصل سب سے بڑے معاوضے کا لحاظ کیا ہے – اللہ کا قرب، اس کی محبت کا لطف اور اس کی ملاقات کا شوق؛ اس کے ساتھ جنت مانگنا کوئی عیب نہیں، جیسا کہ «ہم اسی کے گرد گنگناتے ہیں» اور فردوس مانگنے والی احادیث سے ظاہر ہے۔ وہ اس بارے میں «سفر الہجرتین» میں مقامات کی علتوں پر اپنی بحث کا حوالہ دیتے ہیں۔ 5
جو ابھی شامل نہیں
ہروی کا اپنا متن اور منازل کی دوسری شروح ابھی شامل نہیں کی گئیں۔
تعلقات
- Part of
- مقامات اور احوال
- Related to
- الصدق في الحديث· اخلاص
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
انابت· التصوف· اللہ کی طرف فرار· حزن· اخبات· اعتصام· رعایت· یقظہ (بیداری)
ماخذ
- مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 391
- مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 392
- مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 393
- مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 394
- مدارج السالكين لابن قيم الجوزية، الجزء الأول، ضبط وتحقيق رضوان جامع رضوان (مؤسسة المختار، القاهرة 1422هـ) , p. 395
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ریاضت”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/riyada/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.
گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON