اعجازِ قرآن

خیالات الفاظ

إعجاز القرآن

The doctrine that the Qur'an is inimitable and that humans cannot produce its like; for Sunni scholars it is the Prophet's greatest miracle. In al-Shifa, Qadi Iyad counts four agreed aspects — its eloquence and fine composition, its arrangement unlike Arab forms of speech, its news of the unseen, and its accounts of past nations despite the Prophet being unlettered — and reports the view that the Arabs were turned away from imitating it (sarfa) and the view that its like was within human power in kind but never granted to them.

گہرائی

ایک نظر میں

scripture-and-its-sciencesprophets

خلاصہ

اعجازِ قرآن یہ عقیدہ ہے کہ قرآن ایسا معجزہ ہے جس کی مثل انسان نہیں لا سکتے، اور یہ نبی کی نبوت کی سچائی کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ قاضی عیاض الشفا کے پہلے حصے کے چوتھے باب میں اس پر کئی فصلیں باندھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کتاب اللہ میں اعجاز کی بہت سی وجوہ ہیں جو قسموں کے اعتبار سے چار میں سمٹ جاتی ہیں۔ 1 یہ معجزہ کے تصور اور قرآن کے چیلنج سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

پہلی وجہ: حسنِ تالیف اور فصاحت

عیاض کہتے ہیں کہ عرب بلاغت کے مالک اور «کلام کے شہسوار» تھے — بدوی بھاری بھرکم الفاظ والا اور شہری صاف بلاغت والا — پھر قرآن آیا اور اس کی بلاغت نے عقلوں کو حیران کر دیا، اور «بیس سے زائد برس» انہیں چیلنج کرتا رہا کہ اس جیسی ایک سورت لے آئیں، مگر اسے ناکام کرنے کی شدید خواہش کے باوجود وہ ایسا نہ کر سکے۔ 1 2 3 4 وہ ولید بن مغیرہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ قرآن سن کر اس نے کہا اس میں حلاوت اور رونق ہے، اور ان اعرابیوں کی حکایات جو اس کی فصاحت پر سجدے میں گر گئے۔ 5 اس وجہ میں وہ ایک آیت کے الفاظ کے اختصار اور معانی کی کثرت، یوسف کے قصے جیسے طویل قصوں کے ربط، اور قصے کے تکرار پر عبارت کے فرق کے باوجود یکساں حسن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ 6 7

دوسری وجہ: عجیب نظم

دوسری وجہ اس کا عجیب نظم اور انوکھا اسلوب ہے جو عربوں کے ہر اسلوبِ کلام سے مختلف ہے، اور نثر، نظم، سجع، رجز یا شعر میں اس سے پہلے یا بعد اس کی کوئی نظیر نہیں؛ وہ قریش کے ساتھ ولید بن مغیرہ کی بحث نقل کرتے ہیں جس میں اس نے اس کے شعر، کہانت، جنون یا سحر ہونے کی نفی کی۔ 7 8

تیسری اور چوتھی وجہ: غیب اور گزشتہ قوموں کی خبریں

تیسری وجہ غیب کی وہ خبریں ہیں جو سچ ثابت ہوئیں، جیسے شکست کے بعد رومیوں کی فتح اور لوگوں کا فوج در فوج اسلام میں داخل ہونا۔ 9 چوتھی وجہ گزشتہ نسلوں، مٹ جانے والی قوموں اور ختم شدہ شریعتوں کی خبریں ہیں، حالانکہ آپ کی قوم جانتی تھی کہ آپ امی ہیں، نہ پڑھتے نہ لکھتے؛ اہلِ کتاب سوال کرتے اور وحی جواب لے کر اترتی۔ 10 11 عیاض کہتے ہیں کہ یہ چاروں وجوہ واضح ہیں، ان میں کوئی نزاع یا شک نہیں۔ 12

مزید وجوہ

پھر وہ وہ وجوہ گنواتے ہیں جو دوسرے ائمہ نے شمار کیں: وہ رعب جو سننے والوں پر طاری ہوتا ہے، چاہے وہ معنی نہ سمجھیں؛ ان لوگوں کی خبریں جنہوں نے اس کی نقل کا ارادہ کیا اور ہیبت نے انہیں روک دیا، جیسا کہ ابن المقفع اور یحییٰ بن حکم الغزال کے بارے میں بیان ہوتا ہے؛ زمانوں تک اس کی حفاظت؛ پڑھنے والے کا اس سے نہ اکتانا؛ ایسے علوم کا جامع ہونا جن سے عرب ناواقف تھے؛ اور اس کے حفظ کی آسانی۔ 13 14 15 16 ان کے نزدیک ان میں سے اکثر بلاغت ہی کے تحت آتی ہیں اور انہیں الگ وجوہ شمار نہیں کرنا چاہیے۔ 17

عجز کے سبب میں اختلاف

عیاض دو مذاہب نقل کرتے ہیں: «صرفہ» کے قائلین کا، کہ مقابلہ انسانی قدرت میں تھا مگر انہیں اس سے پھیر دیا گیا؛ اور بعض اہلِ سنت کا، کہ اس کی مثل انسانی قدرت کی جنس سے ہے مگر اللہ نے انہیں نہ پہلے اس پر قادر کیا نہ بعد میں۔ وہ امام الحرمین جوینی سے نقل کرتے ہیں کہ ہر محرک کے باوجود عربوں کا مقابلہ چھوڑ دینا اور اس کی جگہ قتل، قید اور ذلت قبول کرنا عجز کی سب سے واضح نشانی ہے۔ 18

ننھے زائرین کے لیے

عرب اپنی شاعری اور خطابت پر فخر کرتے تھے۔ جب قرآن آیا تو اس نے انہیں چیلنج کیا کہ اس جیسی ایک سورت بنا لائیں، اور وہ نہ لا سکے۔ قاضی عیاض بتاتے ہیں کہ مسلمان اسے نبی کا سب سے بڑا معجزہ کیوں سمجھتے ہیں۔

محققین کے لیے نوٹ

  • نظریۂ اعجاز کی تاریخ پر علمی رائے (باقلانی، جرجانی، معتزلہ) ابھی اس کے اپنے مصادر سے شامل نہیں کی گئی؛ دیکھیے باقلانی کی اعجاز القرآن۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Mentioned in
الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ
Related to
فواصل اور رؤوسِ آیات· المعجزة· قرآن کا چیلنج

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ· المعجزة· نبی پر درود (الصلاۃ علی النبی)· نبی کی محبت· محمد· کیا انبیا سے صغیرہ گناہ ہو سکتے ہیں؟· مزیل الخفاء عن الفاظ الشفاء· نور الیقین فی سیرۃ سید المرسلین

ماخذ

  1. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.265
  2. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.266
  3. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.267
  4. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.268
  5. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.269
  6. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.270
  7. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.271
  8. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.272
  9. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.275
  10. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.277
  11. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.278
  12. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.279
  13. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.281
  14. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.282
  15. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.283
  16. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.286
  17. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.287
  18. الشفا بتعريف حقوق المصطفى — القاضي عياض، وبذيله «مزيل الخفاء عن ألفاظ الشفاء» للشمني (دار الكتب العلمية، بيروت، جزآن) , p.380
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “اعجازِ قرآن”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/ijaz-al-quran/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ

Qadi Iyad ibn Musa al-Yahsubi of Ceuta's (d. 544 AH) book on the Prophet's standing and his rights over his community, arranged in four parts: God's honouring of him in word and deed (with his qualities and miracles); what people owe him — faith, obedience, following, love, reverence, invoking blessings on him and visiting his grave; what is impossible for him and which human states may befall him, which the author calls 'the heart of the book'; and the legal rulings on one who disparages or reviles him. Ibn al-Imad says nothing like it had been written before.