زین العابدین بن علی

زين العابدين بن علي

–

جدة → المدينة المنورة

زین العابدین بن علی (1936ء–2019ء) تیونس کے افسر اور سیاست دان تھے جو سکیورٹی اداروں اور فوج میں ترقی کر کے وزیر داخلہ اور پھر وزیر اعظم بنے، اور 7 نومبر 1987ء کو بورقیبہ کے جانشین کے طور پر تیونس کے صدر بن گئے۔ انہوں نے تقریباً چوبیس برس حکومت کی حتیٰ کہ جنوری 2011ء کے انقلاب نے انہیں سعودی عرب فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ وہ جدہ میں وفات پا گئے اور مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · military
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد القدیر خان · شیخ احمد لیمو · علی حسن موینی · علي يافعي

مکان میں

جدةالمدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    زین العابدین بن علی (3 ستمبر 1936ء – 19 ستمبر 2019ء) تیونس کے افسر اور سیاست دان تھے جو 7 نومبر 1987ء سے 14 جنوری 2011ء تک تیونس کے صدر رہے، حتیٰ کہ تیونس کے انقلاب نے انہیں ملک سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اردو مضمون مختصر ہے، اس لیے تفصیلات انگریزی اور عربی مضامین سے لی گئی ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور عسکری کیریئر

    وہ 1936ء میں حمام سوسہ میں ایک متوسط آمدنی والے خاندان میں پیدا ہوئے اور گیارہ بچوں میں چوتھے تھے۔ انہوں نے فرانس کی سینٹ سیر عسکری اکیڈمی اور توپ خانے کے اسکول اور امریکا کے انٹیلی جنس اسکولوں میں تربیت حاصل کی۔ وہ 1964ء سے 1974ء تک عسکری انٹیلی جنس کے سربراہ رہے، دو مرتبہ قومی سلامتی کے ڈائریکٹر جنرل بنے، 1980ء سے 1984ء تک پولینڈ میں سفیر رہے، اپریل 1986ء میں وزیر داخلہ بنے اور 2 اکتوبر 1987ء کو صدر بورقیبہ نے انہیں وزیر اعظم مقرر کیا۔ 2

    صدارت تک رسائی

    7 نومبر 1987ء کو بورقیبہ کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی اسی دن ان کے جانشین کے طور پر صدر بن گئے؛ انگریزی اور عربی دونوں مضامین بورقیبہ کو ان کا براہِ راست پیشرو نامزد کرتے ہیں اور درمیان کوئی عبوری عہدے دار نہیں تھا۔ 2 3

    دورِ حکومت

    ان کی جماعت، جس کا نام 1988ء میں آئینی جمہوری ریلی ہوا، ریاست پر حاوی رہی۔ وہ لگاتار انتخابات میں نوے فیصد سے زائد ووٹوں سے دوبارہ منتخب ہوتے رہے، آخری مرتبہ 25 اکتوبر 2009ء کو۔ مضامین ان کی حکومت کے استحکام اور معاشی ترقی کے دعوؤں کے ساتھ ساتھ جبر، بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی درج کرتے ہیں؛ عجائب گھر یہ آرا ان کے مصادر کی نسبت سے پیش کرتا ہے۔ کوئی مصدر بن علی کے لیے کوئی مذہب یا ذاتی وابستگی نامزد نہیں کرتا: عربی مضمون کے خانہ معلومات اور ویکی ڈیٹا میں ان کا دین عمومی طور پر ”اسلام“ ہے، اور اردو مضمون کے زمرے انہیں ”تونسی سنی مسلم“ میں فائل کرتے ہیں، جو محض فائلنگ ہے، شہادت نہیں۔ 2 3 1

    انقلاب، جلاوطنی اور وفات

    اپنے خلاف ایک ماہ کے احتجاج کے بعد وہ 14 جنوری 2011ء کو اہلیہ لیلیٰ اور بچوں کے ہمراہ سعودی عرب فرار ہو گئے۔ تیونس کی عدالتوں نے انہیں اور ان کی اہلیہ کو غیر حاضری میں چوری اور نقدی و زیورات کی غیر قانونی ملکیت پر پینتیس برس قید، پھر 2012ء میں قتل و تشدد پر اکسانے پر عمر قید، اور 2013ء میں ایک فوجی عدالت سے ایک اور عمر قید کی سزا سنائی؛ ان میں سے کوئی سزا نافذ نہ ہوئی۔ وہ 19 ستمبر 2019ء کو 83 برس کی عمر میں جدہ میں وفات پا گئے اور مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ 2

    مصادر

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مصادر، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی بعد کی ترمیمات کی تاریخ درج ہونی چاہیے، اور ہر تبدیلی شدہ حقیقت کے مصدر کا نام ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    حبیب بورقیبہ
    Died in
    جدة
    Buried in
    المدينة المنورة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مسجد القبلتين· المسجد النبوي· حرم المدينة· اليهودية في جزيرة العرب قبل الإسلام· المجتمع في المدينة عند الهجرة· آطام يثرب· إعادة الخطبة العباسية بالحرمين سنة 479· إمامة أبي بكر في مرض النبي

    ماخذ

    1. Zine El Abidine Ben Ali — Urdu Wikipedia
    2. Zine El Abidine Ben Ali — English Wikipedia
    3. Zine El Abidine Ben Ali — Arabic Wikipedia
    • Zine El Abidine Ben Ali — Wikidata Q204487
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “زین العابدین بن علی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/zine-el-abidine-ben-ali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مسجد القبلتين

    The Banu Salama mosque of Medina, named 'of the two qiblas' because the qibla was turned in it: Ibn Zabala reports that a man of Banu Salama reached them at dawn prayer with word of the change and they turned mid-prayer to the Kaaba — while al-Zamakhshari and the sira tradition make the change fall at zuhr when the Prophet had prayed two rak'as with his Companions, then turned to face the Mizab, the men and women exchanging places; Ibn Hajar reconciles the reports, and al-Majd notes that on Ibn Zabala's version Quba mosque would better deserve the name. Ibn Zabala ascribes the mosque to Banu Sawad ibn Ghanm of Banu Salama by al-Midhad, against al-Matari's ascription to Banu Haram.