تاج الدین احمد

تاج الدين أحمد

–

دكا

بنگلہ دیشی سیاست دان (23 جولائی 1925ء – 3 نومبر 1975ء)، بنگلہ دیش کے پہلے وزیر اعظم۔ انھوں نے چھ نکات کا پہلا مسودہ تیار کیا، 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران شیخ مجیب الرحمان کی قید میں عبوری حکومت کی جلا وطنی میں قیادت کی، پھر 1972ء سے 1974ء تک مجیب کی کابینہ میں وزیر خزانہ و منصوبہ بندی رہے اور استعفیٰ دیا، اور 1975ء میں مجیب کے قتل کے بعد گرفتار ہوئے اور ڈھاکہ مرکزی جیل کے اندر عوامی لیگ کے تین دیگر رہنماؤں سمیت قتل کر دیے گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    تاج الدین احمد (23 جولائی 1925ء – 3 نومبر 1975ء) بنگلہ دیشی سیاست دان تھے جنھوں نے 1971ء کی جنگ آزادی کے دوران بنگلہ دیش کی پہلی حکومت کی وزارت عظمیٰ کی قیادت کی، اور انھیں ملک کی پیدائش کی سب سے مؤثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ شیخ مجیب الرحمان کے قریبی ساتھی، انھوں نے چھ نکات کا پہلا مسودہ تیار کیا، عوامی لیگ کی 1970ء کی انتخابی مہم کو منظم کیا، اور — جب مجیب مغربی پاکستان میں قید تھے — جلاوطنی میں عبوری حکومت قائم کر کے اس کی سربراہی کی۔ آزادی کے بعد وہ 1972ء سے 1974ء تک وزیر خزانہ و منصوبہ بندی رہے، آئین کی تدوین میں حصہ لیا اور کابینہ سے مستعفی ہو گئے۔ 1975ء میں مجیب کے قتل کے بعد انھیں گرفتار کر کے جیل کے اندر قتل کر دیا گیا۔ انھیں «بنگا تاج» یعنی بنگال کا تاج کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    تاج الدین احمد خان 23 جولائی 1925ء کو موجودہ غازی پور ضلع کے کپاسیہ کے گاؤں درداریہ، بنگال، برطانوی ہندوستان میں مولوی محمد یاسین خان اور مہر النساء خانم کے نو بچوں میں سب سے بڑے پیدا ہوئے۔ مضمون ان کے خاندان کو ایک قدامت پسند، متوسط طبقے کا مسلمان خاندان بیان کرتا ہے۔ بائیس برس کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا تو خاندان کی ذمہ داری ان پر آ گئی۔ انھوں نے 1944ء میں ڈھاکہ کے سینٹ گریگری ہائی اسکول سے میٹرک کیا، 1948ء میں پرائیویٹ امیدوار کے طور پر انٹرمیڈیٹ پاس کیا، اور ڈھاکہ یونیورسٹی سے معاشیات میں آنرز کی ڈگری لی، جہاں قانون بھی پڑھا۔ 1

    مسلم لیگ، زبان تحریک اور عوامی لیگ

    ڈھاکہ کے اسکول کے طالب علم کے طور پر تاج الدین 1943ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور ابوالہاشم اور حسین شہید سہروردی کے ترقی پسند موغل ٹولی گروہ سے وابستہ ہوئے۔ تقسیم کے بعد انھوں نے گنو آزادی لیگ اور جوبو لیگ کی بنیاد میں حصہ لیا اور بنگالی کو ریاستی زبان بنانے کی 1952ء کی زبان تحریک میں شریک ہوئے۔ 1953ء میں وہ عوامی مسلم لیگ (بعد ازاں عوامی لیگ) میں شامل ہوئے اور 1954ء میں متحدہ محاذ کے ٹکٹ پر مشرقی پاکستان صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبائی مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری کو شکست دی۔ 1966ء سے عوامی لیگ کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے انھوں نے ساٹھ کی دہائی کے آخر کے ہنگامہ خیز برسوں میں جماعت کو منظم کیا، کئی بار قید کاٹی، اور مجیب کو جماعت کو سیکولر سیاسی قوت کے طور پر ازسرنو تشکیل دینے میں مدد دی۔ 1

    عبوری حکومت

    25 مارچ 1971ء کو پاکستانی فوج کی کارروائی کے بعد تاج الدین ہندوستان روانہ ہو گئے۔ مجیب کی قید میں، انھوں نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا آغاز کیا اور 17 اپریل 1971ء سے اس کے وزیر اعظم کی حیثیت سے جلاوطنی سے جنگی کوششیں منظم کیں، سیکٹر کمانڈر مقرر کیے اور بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ بنگلہ پیڈیا بھی درج کرتا ہے کہ وہ مجیب نگر میں جلاوطن حکومت کے وزیر اعظم بنے اور جنگ آزادی کو منظم کیا۔ 1 2

    وزیر خزانہ، استعفیٰ اور موت

    آزاد بنگلہ دیش میں تاج الدین جنوری 1972ء سے اکتوبر 1974ء تک مجیب کی کابینہ میں وزیر خزانہ، پھر وزیر خزانہ و منصوبہ بندی رہے، اور آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے رکن بھی رہے۔ انھوں نے 1974ء میں کابینہ سے استعفیٰ دے کر گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ 15 اگست 1975ء کو مجیب کے قتل کے بعد انھیں گھر میں نظر بند کیا گیا اور پھر ڈھاکہ مرکزی جیل منتقل کیا گیا، جہاں 3 نومبر 1975ء کو حراست میں عوامی لیگ کے تین دیگر سینئر رہنماؤں سمیت انھیں قتل کر دیا گیا — یہ واقعہ بنگلہ دیش میں «جیل قتل» کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 1 2

    ماخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ وحدتیں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہونی چاہیے اور ہر تبدیل شدہ حقیقت کا ماخذ نامزد ہونا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری

    ماخذ

    1. Tajuddin Ahmad — English Wikipedia
    2. Tajuddin Ahmad — Banglapedia
    • Tajuddin Ahmad — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “تاج الدین احمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/tajuddin-ahmad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔