محمد یونس

محمد يونس

دكا

بنگلہ دیشی ماہرِ معاشیات اور بینکار، جو 1940 میں چٹاگانگ کے قریب پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1983 میں گرامین بینک قائم کر کے غریبوں کے لیے چھوٹے قرضوں (مائیکرو کریڈٹ) کی بنیاد رکھی، اور بینک کے ساتھ مشترکہ طور پر 2006 کا امن کا نوبل انعام پایا، جو کسی بنگلہ دیشی کے لیے پہلا تھا؛ پھر اگست 2024 سے فروری 2026 تک بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ بطور چیف ایڈوائزر رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
economist · banker · مدبر
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس حلمی ثانی · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد

مکان میں

دكا

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد یونس (پیدائش 28 جون 1940) بنگلہ دیشی ماہرِ معاشیات، بینکار اور سیاست دان ہیں، جو چٹاگانگ کے قریب گاؤں باتھوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے گرامین بینک قائم کیا، جس نے 1 اکتوبر 1983 کو مکمل بینک کے طور پر کام شروع کیا، اور غریبوں کے لیے چھوٹے قرضوں (مائیکرو کریڈٹ) کی بنیاد رکھی۔ انہیں اور بینک کو 2006 میں امن کا نوبل انعام ملا، «نچلی سطح سے معاشی و سماجی ترقی کی کوششوں پر»؛ وہ نوبل پانے والے پہلے بنگلہ دیشی بنے۔ جولائی 2024 کی بغاوت کے بعد وہ 8 اگست 2024 سے 17 فروری 2026 تک بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ بطور چیف ایڈوائزر رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ نو بچوں میں تیسرے تھے؛ ان کے والد حاجی محمد دولا میاں سوداگر جوہری تھے — جنہیں انگریزی ویکیپیڈیا «صوفی جوہری» کہتی ہے — اور والدہ صوفیہ خاتون تھیں، جن کی یہ عادت کہ وہ دروازے پر آئے کسی فقیر کو خالی نہ لوٹاتیں، یونس پر گہرا اثر رکھتی تھی، جیسا کہ عربی ویکیپیڈیا درج کرتی ہے۔ خاندان 1944 میں چٹاگانگ شہر منتقل ہوا۔ میٹرک میں وہ مشرقی پاکستان کے 39 ہزار طلبہ میں سولہویں نمبر پر آئے، اور بوائے اسکاؤٹ کے طور پر 1955 میں کینیڈا کے جمبوری میں شریک ہوئے۔ 1 3

    انہوں نے جامعہ ڈھاکہ سے 1960 میں بی اے اور 1961 میں ایم اے کیا، پھر فل برائٹ اسکالرشپ پر امریکہ جا کر 1969 میں وینڈربلٹ یونیورسٹی سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی، اور 1969 سے 1972 تک مڈل ٹینیسی اسٹیٹ یونیورسٹی میں معاون پروفیسر رہے۔ 1971 کی جنگِ آزادی کے دوران انہوں نے امریکہ میں بنگلہ دیش انفارمیشن سینٹر قائم کیا اور حمایت کے لیے «بنگلہ دیش نیوز لیٹر» نکالا۔ 1972 میں واپس آ کر وہ جامعہ چٹاگانگ کے شعبہ معاشیات کے سربراہ بنے، اور 1974 کے قحط کے بعد دیہی غربت کے خلاف عملی کام شروع کیا۔ 1

    گرامین بینک اور مائیکرو کریڈٹ

    1976 میں گاؤں جوبرا میں انہوں نے اپنے ذاتی پیسوں سے 27 ڈالر بانس کی دستکار 42 خواتین کو قرض دیے؛ دسمبر اسی سال انہوں نے جنتا بینک سے قرض لے کر تجربہ وسیع کیا، اور 1982 تک ارکان کی تعداد 28 ہزار ہو گئی۔ 1 اکتوبر 1983 کو یہ منصوبہ «گرامین بینک» کے نام سے مکمل بینک بن گیا۔ غور طلب ہے کہ عربی ویکیپیڈیا بینک کی بنیاد 1979 بتاتی ہے، جبکہ انگریزی ماخذ اور نوبل کا صفحہ مکمل بینکاری کارروائیوں کا آغاز 1983 بتاتے ہیں؛ عجائب گھر دونوں تاریخیں بغیر فیصلہ کیے پیش کرتا ہے۔ 1 2 3

    جولائی 2007 تک گرامین 74 لاکھ قرض داروں کو 6.38 ارب ڈالر دے چکا تھا، اس کے 94 فیصد سے زائد قرضے خواتین کو گئے، اور اس کا ماڈل تقریباً سو ممالک میں اپنایا گیا۔ 2008 میں انہوں نے ڈھاکہ میں یونس سینٹر قائم کیا۔ 1

    نوبل انعام اور عبوری حکومت

    یونس اور گرامین بینک کو مشترکہ طور پر 2006 کا امن کا نوبل انعام ملا۔ انہیں امریکی صدارتی تمغۂ آزادی (2009) اور کانگریسی طلائی تمغہ (2010) بھی ملا، اور وہ ان تینوں اعزازات کے حاصل کرنے والے دنیا کے صرف سات افراد میں شامل ہوئے۔ 2 1

    جنوری 2024 میں ڈھاکہ کی لیبر عدالت نے انہیں مزدور قانون کے ایک مقدمے میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی؛ ان کے حامی — جیسا کہ عربی ویکیپیڈیا درج کرتی ہے — اس مقدمے کو سیاسی محرکات کا حامل کہتے ہیں، اور باراک اوباما و بان کی مون سمیت 170 سے زائد عالمی رہنماؤں نے ان کی حمایت میں کھلا خط لکھا تھا۔ جولائی 2024 کی بغاوت اور شیخ حسینہ کی استعفے و روانگی کے بعد صدر محمد شہاب الدین نے انہیں عبوری حکومت کا چیف ایڈوائزر مقرر کیا؛ انہوں نے 8 اگست 2024 کو حلف اٹھایا۔ ان کی مدت 17 فروری 2026 کو ختم ہوئی، جب بارہویں قومی انتخابات میں بی این پی اتحاد کی فیصلہ کن جیت کے بعد طارق رحمان نے وزیرِ اعظم کا حلف اٹھایا۔ 3 1

    تصانیف

    ان کی کتابوں میں «بینکر ٹو دی پور» (Banker to the Poor)، «کریئٹنگ اے ورلڈ وِدآؤٹ پاورٹی» اور «اے ورلڈ آف تھری زیروز» شامل ہیں، جو مائیکرو کریڈٹ اور سماجی کاروبار پر ہیں۔ عجائب گھر میں ابھی ان کتابوں کے ریکارڈ نہیں، اس لیے وہ یہاں بغیر روابط کے درج ہیں۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    دكا

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ابو القاسم فضل الحق· عبد الحمید خان بھاشانی· فضل حسن عابد· فضل الرحمان خان· حسین شہید سہروردی· حسین محمد ارشاد· عیاض الدین احمد· جمیل الرضا چودھری

    ماخذ

    1. Muhammad Yunus — English Wikipedia
    2. Muhammad Yunus — Nobel Prize facts page
    3. محمد يونس — ويكيبيديا العربية
    • Muhammad Yunus — Wikidata Q43969
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد یونس”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-yunus/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ابو القاسم فضل الحق

    بنگالی مدبر (1873ء–1962ء) جو «شیر بنگال» کے لقب سے مشہور ہوئے، بنگال کے پہلے وزیر اعظم (1937ء–1943ء) اور 1940ء میں قراردادِ لاہور کے محرک۔ بیک وقت آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر اور انڈین نیشنل کانگریس کے جنرل سیکریٹری رہے؛ تقسیم کے بعد مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ، پاکستان کے وزیر داخلہ اور مشرقی پاکستان کے گورنر رہے، اور ڈھاکہ میں تین قائدین کے مزار میں دفن ہوئے۔