مجید مجیدی

مجيد مجيدي

ایرانی فلم ساز، فلم پروڈیوسر و منظر نویس، 1959 میں پیدا ہوئے اور تہران میں پلے بڑھے؛ اداکار کے طور پر آغاز کے بعد انھوں نے بچوں، خاندان اور غربت پر مرکوز انسان دوست فلمیں بنائیں، جن میں نمایاں ترین «آسمان کے بچے» (1997) ہے — اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی پہلی ایرانی فلم — اور «جنت کا رنگ» (1999)، «باران» (2001) اور «چڑیوں کا گیت» (2008) شامل ہیں؛ انھوں نے «محمد رسول اللہ ﷺ» (2015) بنائی، جو محمد کے بچپن پر ایک مہاکاوی فلم ہے جس میں ان کا چہرہ کبھی دکھایا نہیں گیا، اور وہ ایران کے سب سے زیادہ بین الاقوامی اعزاز یافتہ ہدایت کاروں میں سے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
film-director · screenwriter · producer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مجید مجیدی ایرانی فلم ساز و پروڈیوسر ہیں جن کی فلموں کے مرکزی کردار اکثر بچے یا نوجوان ہوتے ہیں اور جو بچپن کی معصومیت، خاندانی رشتوں، غربت، سماجی مسائل اور یکجہتی کو انسان دوست حساسیت کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ 1 ان کی «آسمان کے بچے» (1997) اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہونے والی پہلی ایرانی فلم تھی۔ 1 اس سجل کے لیے استعمال شدہ کوئی ماخذ ان کے کسی مخصوص ذاتی مذہب یا مکتب کی گواہی نہیں دیتا، اس لیے ان کے سجل میں ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور اداکاری

    مجیدی 17 اپریل 1959 کو پیدا ہوئے؛ ان کی جائے پیدائش مآخذ میں مختلف بیان ہوتی ہے — موجودہ انگریزی مضمون کا خانہ تالش بتاتا ہے، جبکہ ویکی ڈیٹا، آئی فلم اور کئی پرانی سوانح تہران بتاتی ہیں — اور تمام مآخذ اس پر متفق ہیں کہ وہ تہران میں ایک فارسی متوسط طبقے کے خاندان میں پلے بڑھے۔ 1 2 3 انھوں نے 14 برس کی عمر میں شوقیہ تھیٹر گروپوں میں اداکاری شروع کی، پھر تہران کے انسٹی ٹیوٹ آف ڈراماٹک آرٹس میں تعلیم حاصل کی۔ 1 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد انھوں نے کئی فلموں میں اداکاری کی، جن میں نمایاں ترین محسن مخملباف کی «بائیکاٹ» (1985) تھی، پھر مختصر فلمیں لکھنے اور بنانے لگے؛ ان کی پہلی فیچر فلم «بادوک» (1992) تھی، جس کے بعد «دی فادر» (1996) آئی۔ 1 3

    «آسمان کے بچے» اور مونٹریال کی فلمیں

    1997 میں مجیدی نے «آسمان کے بچے» بنائی، ایک بھائی اور بہن کی کہانی جو ایک جوڑا جوتے بانٹتے ہیں؛ اس نے مونٹریال میں گرینڈ پرکس ڈیز امیریکس جیتا اور بہترین غیر ملکی زبان فلم کے اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئی — اکیڈمی کی نامزدگی پانے والی پہلی ایرانی فلم — اور «لائف از بیوٹیفل» سے ہار گئی۔ 1 اس کے بعد انھوں نے «جنت کا رنگ» (1999)، ایک نابینا لڑکے کے بارے میں، اور «باران» (2001)، ایک نوجوان ایرانی مزدور اور افغان مہاجر لڑکی کے بارے میں، بنائیں، اور دونوں نے بھی مونٹریال میں گرینڈ پرکس ڈیز امیریکس جیتا۔ 1 انھوں نے دستاویزی فلم «بیئر فٹ ٹو ہرات» (2002) بنائی جو 2001 کے طالبان مخالف حملے کے دوران اور بعد میں افغان مہاجر کیمپوں کی زندگی بیان کرتی ہے، اور «دی ولو ٹری» (2005) بنائی جو بینائی لوٹنے والے نابینا شخص کے بارے میں ہے۔ 1

    «چڑیوں کا گیت»، «محمد» اور «سن چلڈرن»

    «چڑیوں کا گیت» (2008)، ایک شترمرغ پالنے والے کے بارے میں جو نوکری کھو کر تہران چلا جاتا ہے، وشاکھاپٹنم بین الاقوامی فلم فیسٹیول کی افتتاحی فلم تھی۔ 1 2008 میں مجیدی ان پانچ بین الاقوامی ہدایت کاروں میں سے ایک تھے جنھیں بیجنگ حکومت نے سمر اولمپکس کی تیاری میں بیجنگ کا تعارف کرانے والی مختصر دستاویزی فلم بنانے کی دعوت دی، «ویژن بیجنگ» منصوبے میں۔ 1 ان کی سب سے بڑی پروڈکشن «محمد رسول اللہ» (2015) محمد کے بچپن پر ایک مہاکاوی فلم ہے، جس میں ان کا چہرہ چھپا رہتا ہے اور پردے پر کبھی نظر نہیں آتا۔ 1 پھر انھوں نے ہندی زبان میں اپنی پہلی فلم «بیونڈ دی کلاؤڈز» (2017) بنائی اور «سن چلڈرن» (2020) سے محنت کش بچوں کے موضوع کی طرف لوٹے۔ 1

    ڈنمارک کے خاکوں پر احتجاج — منسوب

    2006 میں مجیدی نے ڈنمارک میں محمد کے طنزیہ خاکوں کی اشاعت کے احتجاج میں ایک ڈینش فلم فیسٹیول سے علیحدگی اختیار کی؛ انھوں نے کہا کہ وہ «کسی بھی مذہبی عقیدے یا علامت کی توہین کے احتجاج میں» دستبردار ہو رہے ہیں۔ 1 یہ بیان ان کا بیان کردہ موقف ہے جیسا کہ مضمون نقل کرتا ہے؛ عجائب گھر اسے ان کے موقف کے طور پر درج کرتا ہے اور اس سے ان کے ذاتی انتساب کے بارے میں کوئی نتیجہ نہیں نکالتا، جس کی یہاں استعمال شدہ کوئی ماخذ تصریح نہیں کرتا۔ 1 2

    اعزازات

    ان کے درج اعزازات میں مونٹریال ورلڈ فلم فیسٹیول میں 1997، 1999 اور 2001 کا گرینڈ پرکس ڈیز امیریکس، 1997 میں مونٹریال کا ایکیومینکل جیوری ایوارڈ، اور «آسمان کے بچے» پر اکیڈمی ایوارڈ کی نامزدگی شامل ہیں۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترامیم مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Directed
    محمد رسول الله
    Wrote the screenplay of
    محمد رسول الله

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    شبه الجزيرة العربية قبل الإسلام· محمد· مكة المكرمة· محمد رسول الله

    ماخذ

    1. Majid Majidi — English Wikipedia
    2. Majid Majidi — Wikidata Q81770
    3. Majid Majidi — iFilm
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مجید مجیدی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/majid-majidi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    شبه الجزيرة العربية قبل الإسلام

    The Arabian Peninsula and its neighbours in the generations before the revelation: trading towns, tribes, poetry, and Jewish, Christian and polytheist communities.