خواجہ غلام فرید

خواجة غلام فريد

–

پنجاب کے سرائیکی صوفی شاعر (1845ء–1901ء)، چاچڑاں شریف (ریاست بہاولپور) میں پیدا ہوئے، وہیں وصال ہوا اور کوٹ مٹھن میں مدفون ہیں۔ سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں اپنے بڑے بھائی خواجہ فخر جہاں سے بیعت ہوئے اور ان کے بعد سجادہ نشین بنے، اٹھارہ برس روہی (چولستان) میں رہے، اور سرائیکی کافیوں کا «دیوان فرید» اور فارسی نثری تصانیف چھوڑیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
mystic · شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: ابائی قنان باولی · عبد الرزاق البيطار · احمد عرابی · أحمد مدحت · عائشہ التیموریہ

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    خواجہ غلام فرید (25 نومبر 1845ء – 24 جولائی 1901ء) بہاولپور، پنجاب سے تعلق رکھنے والے انیسویں صدی کے صوفی شاعر تھے، جن کا تعلق سلسلہ چشتیہ نظامیہ سے تھا؛ ان کا زیادہ تر کلام مادری زبان سرائیکی میں ہے، تاہم انھوں نے پنجابی، اردو، پشتو، سندھی، ہندی اور فارسی میں بھی شاعری کی۔1 انگریزی مضمون ان کی تاریخ پیدائش تقریباً 1841/1845 بتاتا ہے۔2

    زندگی

    ان کا خاندان کوریجہ قریشی فاروقی تھا، جس کا سلسلہ نسب عمر فاروق تک جاتا ہے؛ ان کے بزرگ ابتدا میں سہروردی سلسلے سے وابستہ تھے اور بعد میں چشتیہ کی طرف منتقل ہوئے۔12 آٹھ برس کی عمر میں والد کا انتقال ہوا تو پرورش بڑے بھائی خواجہ فخر جہاں (فخر الدین) نے کی، اور نواب صادق محمد چہارم کے شاہی محل میں انھیں اساتذہ سے تعلیم ملتی رہی۔1 تیرہ برس کی عمر میں انھوں نے اپنے بڑے بھائی سے بیعت کی، اور ستائیس برس کی عمر میں مرشد و بھائی کے انتقال پر سجادہ نشین بنے۔1 انھوں نے 1875ء میں حج کیا اور پھر اٹھارہ برس روہی (چولستان) میں گزارے۔2

    تصانیف

    ان کی مشہور تصانیف میں «مثنوی معدنِ عشق» (1882ء)، «دیوان فرید» اور فارسی نثر کی «مناقبِ محبوبیہ» اور «فوائدِ فریدیہ» شامل ہیں۔1 ان کے سرائیکی دیوان میں 271 کافیاں ہیں، اور علم موسیقی میں انھیں 39 راگ راگنیوں پر عبور حاصل تھا اور ان سب میں انھوں نے کافیاں کہیں۔1

    وصال و اثرات

    ان کا وصال 24 جولائی 1901ء کو چاچڑاں شریف میں ہوا اور مزار کوٹ مٹھن میں ہے۔1 پاکستان اکادمی ادبیات ہر سال ان کے نام پر خواجہ غلام فرید ایوارڈ دیتی ہے، رحیم یار خان کی جامعہ خواجہ فرید ان کے نام پر ہے، اور ان کا مزار پاکستان کے دس سب سے زیادہ زیارت کیے جانے والے مزارات میں شمار ہوتا ہے۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    چشتیہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اشرف علی تھانوی· خواجہ حسن نظامی· محمود حسن دیوبندی· پیر مہر علی شاہ· محمد زکریا کاندھلوی· وارث علی شاہ· چشتیہ طریقہ

    ماخذ

    1. Khwaja Ghulam Farid — Urdu Wikipedia
    2. Khwaja Ghulam Farid — English Wikipedia
    3. Khwaja Ghulam Farid — Arabic Wikipedia
    4. Khwaja Ghulam Farid — Wikidata Q60803
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خواجہ غلام فرید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khwaja-ghulam-farid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اشرف علی تھانوی

    ہندوستانی حنفی عالم، دیوبندی بزرگ اور چشتی صوفی (1863ء–1943ء) جن کا تعلق تھانہ بھون سے تھا اور جو حکیم الامت کے لقب سے مشہور ہیں۔ دار العلوم دیوبند سے فارغ ہو کر انھوں نے کانپور میں چودہ برس پڑھایا، پھر اپنے مرشد امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ اپنے قصبے میں آباد کی اور مدرسہ اشرفیہ قائم کیا۔ ان کی تصانیف تقریباً آٹھ سو ہیں، جن میں «بیان القرآن» اور «بہشتی زیور» سب سے مشہور ہیں۔