پیر مہر علی شاہ

مهر علي شاه

–

پنجابی عالم، صوفی اور شاعر (1859ء–1937ء)، گولڑہ شریف میں پیدا ہوئے اور وہیں وصال ہوا۔ خواجہ شمس الدین سیالوی سے سلسلہ چشتیہ نظامیہ میں بیعت ہوئے اور خلافت سے نوازے گئے، حنفی عالم مانے جاتے تھے اور تحریکِ مخالفِ قادیانیت کے قائد تھے؛ ان کی مشہور تصانیف میں «سیفِ چشتیائی» اور «تصفیہ مابین سنی و شیعہ» شامل ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · mystic · شاعر
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرشید ابراہیم · اللہ دیا خان · جماعت علی شاہ · حاجی صاحب تورنگزئی · لیلیٰ ساز

کہانی میں مقام

    sufi (مستند) · sunni-hanafi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    پیر سید مہر علی شاہ (14 اپریل 1859ء – 11 مئی 1937ء) سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم روحانی بزرگ، عالم اور شاعر تھے، جو گولڑہ شریف میں پیدا ہوئے۔1 انگریزی مضمون انھیں چشتی سلسلے سے وابستہ حنفی عالم اور تحریکِ مخالفِ قادیانیت کا قائد بتاتا ہے۔2

    تعلیم و تربیت

    انھوں نے چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کیا، خانقاہ کی درسگاہ اور مقامی مدرسے سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر انگہ سے تکمیل کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لکھنؤ، رامپور، کانپور، علی گڑھ، بھوئی اور سہارنپور کا سفر کیا؛ علی گڑھ میں مولانا لطف اللہ کے مدرسے میں ڈھائی سال رہے۔12

    بیعت و خلافت

    انگہ کے قیام کے دوران وہ مولانا حافظ سلطان محمود کے ساتھ سیال شریف خواجہ شمس الدین سیالوی چشتی کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے؛ چنانچہ وہ سلسلہ چشتیہ نظامیہ سلیمانیہ میں شمس الدین سیالوی کے دست پر بیعت ہوئے اور خلافت سے نوازے گئے۔1 ان کی سوانح «مہرِ منیر» کے مطابق مکہ میں حاجی امداد اللہ نے بھی انھیں خلیفہ بنایا۔2

    خدمات و تصانیف

    آپ ایک پیر کامل، رہنما اور حنفی عالم مانے جاتے ہیں اور قادیانی فرقے کے سخت ترین مخالف تھے؛ انھوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کے مناظرے کے چیلنج کو قبول کیا، اور ختمِ نبوت کے دفاع میں «سیفِ چشتیائی» لکھی۔1 ان کی دیگر تصانیف میں «تحقیق الحق فی کلمۃ الحق»، «شمس الہدایہ»، «تصفیہ مابین سنی و شیعہ»، «فتاویٰ مہریہ» اور «ملفوظات مہر علی شاہ» شامل ہیں۔1

    وصال

    منگل کے دن 29 صفر المظفر 1356ھ بمطابق 11 مئی 1937ء کو ان کا وصال ہوا اور ان کا مزار شریف گولڑہ شریف میں ہے۔1 ان کا تین روزہ عرس ہر سال 27 تا 29 صفر منعقد ہوتا ہے؛ پاکستان پوسٹ نے 2013 میں ان کی یاد میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا اور راولپنڈی کی پیر مہر علی شاہ زرعی جامعہ ان کے نام پر ہے۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    چشتیہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اشرف علی تھانوی· خواجہ غلام فرید· خواجہ حسن نظامی· محمود حسن دیوبندی· محمد زکریا کاندھلوی· وارث علی شاہ· چشتیہ طریقہ

    ماخذ

    1. Meher Ali Shah — Urdu Wikipedia
    2. Meher Ali Shah — English Wikipedia
    3. Meher Ali Shah — Arabic Wikipedia
    4. Meher Ali Shah — Wikidata Q6809463
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “پیر مہر علی شاہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/meher-ali-shah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اشرف علی تھانوی

    ہندوستانی حنفی عالم، دیوبندی بزرگ اور چشتی صوفی (1863ء–1943ء) جن کا تعلق تھانہ بھون سے تھا اور جو حکیم الامت کے لقب سے مشہور ہیں۔ دار العلوم دیوبند سے فارغ ہو کر انھوں نے کانپور میں چودہ برس پڑھایا، پھر اپنے مرشد امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ اپنے قصبے میں آباد کی اور مدرسہ اشرفیہ قائم کیا۔ ان کی تصانیف تقریباً آٹھ سو ہیں، جن میں «بیان القرآن» اور «بہشتی زیور» سب سے مشہور ہیں۔