ایک نظر میں
- کردار
- mystic · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابتدائی زندگی
ان کے نانا غلام حسن چشتی آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے دوست اور روحانی مشیر تھے اور قلعہ لال میں آتے جاتے رہتے تھے؛ والدہ انھیں مغلیہ خاندان کی کہانیاں سناتی تھیں اور انھوں نے خود ظفر کی صاحبزادی کلثوم زمانی بیگم سے ملاقات کی تھی۔2 اردو مضمون کے مطابق انھوں نے کسی درس گاہ سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی، خود پڑھ کر عربی، فارسی اور اردو میں دسترس حاصل کی، اور ابتدا میں پرانی دہلی سے نئی دہلی پیدل جا کر کتابیں بیچا کرتے تھے۔1
تصانیف
انھیں پانچ سو سے زائد کتابوں کا مصنف قرار دیا جاتا ہے، جن میں 1857 کی بغاوت کے واقعات بھی شامل ہیں؛ ان کی مشہور کتابوں میں «بیگمات کے آنسو»، «غدر دلی کے افسانے»، «سیپارہ دل»، «کرشن کتھا» اور ان کی آپ بیتی شامل ہیں۔21 اردو مضمون ان کی تصانیف کی تعداد ایک قول پر چالیس اور ایک تحقیق پر تین سو کے لگ بھگ بتاتا ہے، اور ان کی صحافتی زندگی کا آغاز روزنامہ «رعیت» سے ذکر کرتا ہے۔1
تصوف اور مریدین
وفات
انھوں نے 31 جولائی 1955 کو دہلی میں وفات پائی اور بارگاہ حضرت نظام الدین اولیاء کے احاطے میں دفن ہوئے۔1
حوالہ جات
تعلقات
- Born in
- دلهي
- Died in
- دلهي
- Buried in
- دلهي
- Member of
- چشتیہ طریقہ
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
محمود حسن دیوبندی· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)· افتتاح القلعة الحمراء بدلهي
ماخذ
- Khwaja Hasan Nizami — Urdu Wikipedia
- Khwaja Hasan Nizami — English Wikipedia
- Khwaja Hasan Nizami — Arabic Wikipedia
- Khwaja Hasan Nizami — Wikidata Q20739148
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “خواجہ حسن نظامی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khwaja-hasan-nizami/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.