ایک نظر میں
- کردار
- عالم · writer
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
جاوید احمد غامدی پاکستانی عالم اور فلسفی ہیں، جو 18 اپریل 1951 کو ضلع پاکپتن کے گاؤں جیون شاہ میں پیدا ہوئے۔ وہ لاہور میں المورد انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنسز کے بانی صدر ہیں اور امریکا کے شہر ڈیلاس میں غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ کے پرنسپل ریسرچ فیلو اور چیف پیٹرن ہیں۔ 1 2 مرکز کے یوٹیوب چینل (@GhamidiCIL) کے اکتوبر 2026 میں بانی کے چینل سروے کے مطابق 366,000 سبسکرائبر تھے۔ 3
ابتدائی زندگی اور تعلیم
غامدی کا پیدائشی نام محمد شفیق تھا؛ وہ کاکازئی خاندان سے ہیں، ان کے والد محمد طفیل جنیدی تصوف کے پیرو تھے، اور آبائی گاؤں ضلع سیالکوٹ کا داؤد تھا۔ انہوں نے «غامدی» کی نسبت اپنے دادا نور الٰہی کی «مصلح» والی شہرت سے اخذ کی۔ 1 4 انہوں نے پاکپتن کے اسلامیہ ہائی اسکول سے میٹرک کیا، 1967 میں لاہور آئے اور 1972 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب اور فلسفے میں بی اے آنرز کیا؛ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم ضلع ساہیوال کے گاؤں نانگ پال میں مولوی نور احمد سے حاصل کی۔ 1 4
1973 سے وہ مدرسۂ فراہی کے مفسّر امین احسن اصلاحی کے شاگرد رہے؛ اس سے قبل وہ ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعتِ اسلامی سے وابستہ تھے، جہاں سے 1977 میں انہیں نکال دیا گیا۔ 1 2
کام اور منصوبے
غامدی نے 1979 سے 1991 تک لاہور کی سول سروسز اکیڈمی میں اسلامی علوم پڑھائے۔ 1 انہوں نے 1983 میں لاہور میں المورد فاؤنڈیشن برائے اسلامی تحقیق و تعلیم اور اس کی ذیلی تنظیم دانش سرا قائم کی، اور اردو ماہنامہ «اشراق» (1985 سے) اور انگریزی ماہنامہ «رینائسنس» جاری کیے۔ 1 4 وہ 28 جنوری 2006 کو اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بنے اور ستمبر 2006 میں حدود قوانین کی ترمیم کے تنازع کے دوران مستعفی ہو گئے۔ 1 2009 میں انہیں ستارۂ امتیاز دیا گیا۔ 1
وہ ٹیلی ویژن پر باقاعدگی سے آتے رہے اور ان کے دروس یوٹیوب پر بھی شائع ہوتے ہیں۔ 1 اپنے کام کی مخالفت اور جان کو خطرات کے باعث، اور قریبی ساتھیوں محمد فاروق خان اور ڈاکٹر حبیب الرحمن کے قتل کے بعد، غامدی نے 2010 میں پاکستان چھوڑ دیا؛ وہ ملیشیا میں رہے اور جولائی 2019 میں امریکا منتقل ہوئے تاکہ ڈیلاس میں غامدی سنٹر آف اسلامک لرننگ کے قیام میں معاونت کریں۔ 1
کتابیں
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔
فراہی ـ اصلاحی مکتب کے وارث کے طور پر غامدی کا منہج قرآن کو «میزان» اور فرقان قرار دیتا ہے، فقہ (انسانی فہم) کو شریعت سے الگ کرتا ہے، حدیث کو قرآن کے دائرے میں پڑھتا ہے اور مسلح جہاد کو صرف قائم شدہ ریاست کا حق سمجھتا ہے۔ 1 ان کے خلاف مکمل کتابیں لکھی گئیں، جن میں حافظ صلاح الدین یوسف اور محمد رفیق کی «فتنۂ غامدیت» پر کتابیں اور ڈاکٹر محمد مشتاق کا تنقیدی جائزہ شامل ہے۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Lived in
- لاهور
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· عبد الرحمٰن چغتائی· عبد السلام· ابو الاعلیٰ مودودی· اعصام الحق قریشی· الطاف حسین حالی· امین احسن اصلاحی
ماخذ
- Javed Ahmad Ghamidi — English Wikipedia
- Javed Ahmad Ghamidi — Arabic Wikipedia
- Ghamidi Center Of Islamic Learning — official YouTube channel (@GhamidiCIL)
- Javed Ahmad Ghamidi — Urdu Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “جاوید احمد غامدی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/javed-ahmad-ghamidi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.