ایک نظر میں
- کردار
- sultan
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ہاشم جلیل العالم اقام الدین (1825ء – 10 مئی 1906ء) برونائی کے پچیسویں سلطان تھے، جنہوں نے 1885ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ عمر علی سیف الدین دوم کے بیٹے تھے اور ان کا دور ساراواک سے چارلس بروک کی توسیع کے مقابل باقی ماندہ برونائی کو بچانے کی کوشش میں گزرا: انہوں نے برطانیہ سے تحفظ طلب کیا، 1888ء کا معاہدۂ تحفظ کیا، اور 1905ء–1906ء میں اضافی معاہدہ قبول کیا جس سے حکومت ایک برطانوی ریزیڈنٹ کے تحت آ گئی، سوائے اسلام اور مالے رسوم کے امور کے۔ ان کے جانشین ان کے بیٹے محمد جمال عالم دوم ہوئے۔ ان پر کوئی عربی یا اردو مضمون موجود نہیں؛ یہ مضمون انگریزی اور مالے مضامین اور وکی ڈیٹا سے لکھا گیا ہے۔ 1 2
ابتدائی زندگی
وہ 1825ء میں استانہ کامپونگ آئر میں پیدا ہوئے، سلطان عمر علی سیف الدین دوم کے بیٹے، ان کی والدہ توان زائدہ تھیں جو شاہی اہلیہ نہیں تھیں۔ تخت نشینی سے پہلے وہ پینگیران تیمنگونگ صاحب البحر پینگیران انق ہاشم کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انگریزی مضمون ان کے چچا زاد پینگیران مودا ہاشم سے بنداہارا کے لقب پر کشمکش بیان کرتا ہے، جو تخت کی طرف ایک لازم قدم تھا، اور اس میں جیمز بروک پہلے حلیف اور پھر پیچیدگی بنے۔ 1 2
تحفظ کا معاہدہ
سلطان ہاشم نے انیسویں صدی کے آخر میں راجا چارلس بروک کی علاقائی توسیع کو روکنے کے لیے برطانیہ سے مدد طلب کی۔ مالے مضمون ایک پہلا قدم درج کرتا ہے: 1887ء میں انہوں نے لمبانگ میں برطانوی ریزیڈنٹ کی درخواست لکھی، جو اخراجات کی وجہ سے مسترد کر دی گئی۔ 17 ستمبر 1888ء کو انہوں نے معاہدۂ تحفظ کیا، جس سے برونائی کے خارجی امور برطانوی انتظام کے تحت آ گئے۔ 1903ء میں، جب چارلس بروک 1890ء میں لمبانگ چھین چکے تھے، انہوں نے عثمانی سلطان عبد الحمید دوم کو مدد کے لیے خط لکھا؛ برطانویوں کو خط کا علم ہوا اور انہوں نے اسے بھیجے جانے سے پہلے ضبط کر لیا۔ اس خوف سے کہ وہ کسی اور غیر ملکی طاقت کی طرف رجوع کریں گے، برطانیہ نے 1904ء میں میلکم میک آرتھر کو بھیجا، جن کی رپورٹ نے تجویز دی کہ برونائی ساراواک میں ضم ہونے کے بجائے برطانوی تحفظ میں برقرار رہے۔ 3 دسمبر 1905ء کو ہاشم نے اضافی معاہدے پر دستخط کیے اور ریزیڈنسی نظام قبول کیا؛ انگریزی مضمون اس ترتیب کو 1905ء–1906ء بتاتا ہے اور لکھتا ہے کہ ریزیڈنٹ اسلام اور مالے رسوم سے متعلق امور کے سوا ہر معاملے میں مشورہ دیتا تھا۔ 2 1
وفات اور جانشینی
ان کی وفات 10 مئی 1906ء کو استانہ کامپونگ آئر میں ہوئی اور تدفین بندر سیری بیگاوان کے شاہی مزار (قبہ ماکام دیراجا) میں ہوئی؛ تینوں مآخذ تاریخ پر متفق ہیں۔ ان کے جانشین ان کے بیٹے محمد جمال عالم دوم ہوئے، جن کا ریکارڈ — جو اسی بیچ میں اس ریکارڈ کے ساتھ بنایا گیا — اپنے والد سے فرزندیت اور جانشینی دونوں رشتے رکھتا ہے؛ جبکہ خود ان کا اپنے والد سے فرزندیت کا رشتہ اس ریکارڈ میں درج ہے۔ 1 2 3
مذہب
ان کا مذہب نامعلوم درج ہے، اور معاملہ نشان زد ہے۔ مکتب کی قراءت صرف ایک خانے میں ہے: انگریزی مضمون کا خانہ ان کا دین «سنی اسلام» دیتا ہے۔ مالے مضمون کا خانہ عمومی اسلام دیتا ہے، انگریزی متن کسی مکتب کا نام نہیں لیتا، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے۔ برونائی سلطنت کی سربراہی اور شاہی نسب ذاتی مکتب نہیں ہوتے؛ دو ماخذوں کی حد سے ایک خانہ خاندان کم ہونے پر سنی قراءت ریکارڈ کی نوٹ میں غیر محسوم کھڑی ہے۔ 1 2 3
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ کيانات، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی نظر ثانیوں کی تاریخ درج ہونی چاہیے، اور ہر تبدیلی شدہ واقعے کا ماخذ نامزد ہونا چاہیے۔
تعلقات
- Child of
- عمر علی سیف الدین دوم
- Parent of
- محمد جمال عالم دوم
- Predecessor of
- محمد جمال عالم دوم
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Hashim Jalilul Alam Aqamaddin — English Wikipedia
- Hashim Jalilul Alam Aqamaddin — Malay Wikipedia
- Hashim Jalilul Alam Aqamaddin — Wikidata Q40101
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ہاشم جلیل العالم اقام الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hashim-jalilul-alam-aqamaddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.