ایک نظر میں
- کردار
- sultan
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد جمال عالم دوم (1889ء – ستمبر 1924ء) برونائی کے چھبیسویں سلطان تھے، جنہوں نے 1906ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ ہاشم جلیل العالم اقام الدین کے بیٹے تھے، سترہ برس کی عمر میں مجلسِ وصایت کے تحت تخت نشین ہوئے اور 1918ء میں ان کی تاج پوشی ہوئی۔ وہ انگریزی بولنے والے پہلے برونائی سلطان تھے اور برونائی کے ایک غریب ترین دور میں طویل عرصہ مثالی حکمران سمجھے گئے؛ انہوں نے زراعت، طب اور تعلیم کی حوصلہ افزائی کی اور اسلامی تعلیم کو فروغ دیا۔ ان کے جانشین ان کے بڑے بیٹے احمد تاج الدین ہوئے۔ 1 2 3
تخت نشینی اور وصایت
وہ 1889ء میں استانہ کامپونگ آئر میں سلطان ہاشم اور پینگیران انق ستی فاطمہ کے ہاں پیدا ہوئے، اور 10 مئی 1906ء کو والد کی وفات پر جانشین ہوئے۔ چونکہ وہ سترہ برس کے تھے، ایک مجلسِ وصایت نے ان کی جگہ حکومت کی: مالے مضمون 1907ء میں تشکیل پانے والی دو امرا کی ریاستی مجلس بیان کرتا ہے جس نے 1918ء تک حکومت کی، اور عربی و اردو مضامین بھی کہتے ہیں کہ تاج پوشی تک وصایت کی مجلس نے سلطان کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کی تاج پوشی 15 مئی 1918ء کو ہوئی۔ دور کے آغاز میں انہیں قدامت پسند شاہی رشتہ داروں کی مخالفت کا سامنا ہوا جو برطانوی ریزیڈنسی کی اصلاحات کے مخالف تھے، جو انہی کی جانشینی کے سال قائم ہوئی تھی۔ 2 4 3 1
دور حکومت
برونائی کو 1906ء سے اپنا قومی پرچم ملا؛ 1911ء سے مالے اسکولوں نے تعلیمی نظام مضبوط کیا؛ انہوں نے 1921ء میں برونائی پولیس فورس قائم کی؛ اور 1922ء سے ترقیاتی کام — بندر برونائی کے لیے بجلی، ڈاک اور پانی کی خدمات — تیل کی تلاش کے ساتھ ساتھ آگے بڑھے، اور وہ استانہ کامپونگ آئر سے استانہ مجالس منتقل ہو گئے۔ 10 مئی 1922ء کو انہوں نے شہزادۂ ویلز، بعد کے ایڈورڈ ہشتم، کا لاپاؤ میں مکمل شاہی مراسم کے ساتھ استقبال کیا۔ انگریزی مضمون، معتمد تواریخ کے حوالے سے، انہیں ان کی ذہانت اور سفارتی طرز کی وجہ سے سراہا گیا ایک وفادار برطانوی حلیف بیان کرتا ہے جس نے معاشی زوال اور سماجی چیلنجوں میں برونائی کی رہنمائی کی۔ 2 1
وفات اور جانشینی
ان کی وفات ستمبر 1924ء میں استانہ مجالس میں ہوئی اور تدفین بندر سیری بیگاوان کے شاہی مزار میں ہوئی۔ تاریخ متنازع ہے: مالے مضمون اور وکی ڈیٹا 11 ستمبر 1924ء دیتے ہیں، انگریزی مضمون 19 ستمبر 1924ء؛ ریکارڈ مالے مضمون اور وکی ڈیٹا کی پیروی کرتا ہے اور دونوں قراءتیں نوٹ میں رکھتا ہے۔ عربی مضمون کے زمرے ان کی وفات کو 1343ھ کے سال میں اور ملیریا کی اموات میں درج کرتے ہیں۔ ان کے جانشین ان کے بڑے بیٹے احمد تاج الدین ہوئے، جن کا ابھی عجائب گھر میں کوئی ریکارڈ نہیں، اس لیے جانشینی صرف متن میں ہے؛ یہ ریکارڈ اپنے والد سے فرزندیت اور جانشینی دونوں رشتے رکھتا ہے، جو اسی بیچ میں بنائے گئے۔ 2 5 1 4
مذہب
ان کا مذہب نامعلوم درج ہے، اور معاملہ نشان زد ہے۔ مکتب کی قراءت صرف ایک خانے میں ہے: انگریزی مضمون کا خانہ ان کا دین «سنی اسلام» دیتا ہے۔ مالے مضمون کا خانہ عمومی اسلام دیتا ہے؛ عربی اور اردو مضامین کسی مذہب کا نام نہیں لیتے؛ انگریزی متن کسی مکتب کا نام نہیں لیتا؛ اور وکی ڈیٹا بغیر حوالوں کے صرف اسلام دیتا ہے۔ اسلامی تعلیم کا ان کا فروغ ریاستی سرپرستی ہے، ذاتی مکتب نہیں، اور سلطنت کی سربراہی بھی مکتب نہیں ہوتی؛ دو ماخذوں کی حد سے ایک خانہ خاندان کم ہونے پر سنی قراءت ریکارڈ کی نوٹ میں غیر محسوم کھڑی ہے۔ 1 2 4 5
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ کيانات، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی نظر ثانیوں کی تاریخ درج ہونی چاہیے، اور ہر تبدیلی شدہ واقعے کا ماخذ نامزد ہونا چاہیے۔
تعلقات
- Parent of
- احمد تاج الدین
- Predecessor of
- احمد تاج الدین
- Child of
- ہاشم جلیل العالم اقام الدین
- Successor of
- ہاشم جلیل العالم اقام الدین
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
عمر علی سیف الدین دوم· احمد تاج الدین· ہاشم جلیل العالم اقام الدین
ماخذ
- Muhammad Jamalul Alam II — English Wikipedia
- Muhammad Jamalul Alam II — Malay Wikipedia
- Muhammad Jamalul Alam II — Urdu Wikipedia
- Muhammad Jamalul Alam II — Arabic Wikipedia
- Muhammad Jamalul Alam II — Wikidata Q40110
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد جمال عالم دوم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-jamalul-alam-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.