ایک نظر میں
- کردار
- sultan
- خطہ
- southeast-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
عمر علی سیف الدین دوم (وفات 18 نومبر 1852ء) برونائی کے تیئسویں سلطان تھے، جنہوں نے 1828ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ وہ محمد جمال عالم اول کے بیٹے تھے اور 1804ء میں والد کی وفات کے وقت چھوٹے بچے تھے؛ تخت ان کے دادا اور پھر چچا کے پاس گیا، جس کے بعد انہوں نے 1825ء میں اپنا حق طلب کیا۔ ان کے دور میں برونائی کے برطانیہ سے پہلے مسلسل روابط قائم ہوئے: جیمز بروک ساراواک کے راجا بنے، 1846ء میں لابوان برطانیہ کو دیا گیا، اور 1847ء میں دوستی و تجارت کا معاہدہ ہوا۔ ان کے جانشین ان کے بیٹے عبد المومن ہوئے۔ ان پر کوئی عربی یا اردو مضمون موجود نہیں؛ یہ مضمون انگریزی اور مالے مضامین اور وکی ڈیٹا سے لکھا گیا ہے۔ 1 2
پیدائش اور جانشینی کی کشمکش
ان کی تاریخ پیدائش متنازع ہے: وکی ڈیٹا ایک حوالے کے ساتھ 3 فروری 1799ء دیتا ہے، جبکہ مالے مضمون کا خانہ صرف سال 1804ء دیتا ہے؛ انگریزی مضمون کوئی تاریخ نہیں دیتا، صرف یہ کہتا ہے کہ جب ان کے والد محمد جمال عالم اول 1804ء میں فوت ہوئے تو وہ ابھی نابالغ تھے اور ان کے دائیں ہاتھ میں ایک زائد انگوٹھا تھا۔ اس کے بعد ان کے دادا محمد تاج الدین دوسری بار تخت پر بیٹھے، اور 1807ء میں ان کی وفات پر نائب السلطنت، ان کے چچا محمد کنز العالم، سلطان بنے اور اپنے بیٹے محمد عالم کو وارث نامزد کیا۔ 1825ء میں، بالغ ہونے پر، عمر علی سیف الدین نے اپنا حق طلب کیا۔ مالے مضمون ان کی تخت نشینی 18 دسمبر 1826ء بتاتا ہے، جبکہ اسی کا متن اور انگریزی مضمون حکومت کا آغاز محمد عالم کے بعد 1828ء سے بتاتے ہیں؛ یہ اختلاف فیصلہ کیے بغیر یہاں درج ہے۔ 3 2 1
دور حکومت
ان کے دور میں مغربی طاقتوں، جن میں برطانیہ اور امریکہ شامل تھے، نے برونائی کا دورہ کیا۔ برطانوی مہم جو جیمز بروک 1839ء میں ساراواک آئے اور 1842ء میں اس کے راجا بنائے گئے؛ 1845ء میں ان کی قیادت میں ایک فوج نے برونائی پر حملہ کیا۔ 1846ء میں سلطان نے لابوان کا جزیرہ برطانیہ کو دے دیا، اور 1847ء میں برطانویوں سے دوستی و تجارت کا معاہدہ کیا۔ 1 2
وفات اور جانشینی
ان کی وفات 18 نومبر 1852ء کو ہوئی — یہ وہ تاریخ ہے جو انگریزی مضمون 17 دسمبر 1852ء کے سنگاپور فری پریس سے لیتا ہے، اور مالے مضمون اس سے متفق ہے؛ صرف وکی ڈیٹا 20 نومبر دیتا ہے۔ مالے مضمون وفات کی وجہ منہ کا کینسر اور تدفین بندر سیری بیگاوان کے شاہی مزار (قبہ ماکام دیراجا) میں بتاتا ہے۔ ان کے جانشین ان کے بیٹے عبد المومن ہوئے، جنہیں دونوں مضامین میں جانشین نامزد کیا گیا ہے؛ عبد المومن کا ابھی عجائب گھر میں کوئی ریکارڈ نہیں، اس لیے جانشینی صرف متن میں درج ہے۔ ان کے بیٹے ہاشم جلیل العالم اقام الدین، جو اسی بیچ میں اس ریکارڈ کے ساتھ بنائے گئے، بعد میں پچیسویں سلطان بنے۔ 1 2 3
مذہب
ان کا مذہب نامعلوم درج ہے، اور معاملہ نشان زد ہے۔ مکتب کی قراءت صرف ایک خانے میں ہے: انگریزی مضمون کا خانہ ان کا دین «سنی اسلام» دیتا ہے۔ مالے مضمون کا خانہ عمومی اسلام دیتا ہے، انگریزی متن کسی مکتب کا نام نہیں لیتا، اور وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے۔ برونائی سلطنت کی سربراہی اور شاہی نسب ذاتی مکتب نہیں ہوتے؛ دو ماخذوں کی حد سے ایک خانہ خاندان کم ہونے پر سنی قراءت ریکارڈ کی نوٹ میں غیر محسوم کھڑی ہے۔ 1 2 3
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے معرّف ماخذ کيانات، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی نظر ثانیوں کی تاریخ درج ہونی چاہیے، اور ہر تبدیلی شدہ واقعے کا ماخذ نامزد ہونا چاہیے۔
تعلقات
- Parent of
- ہاشم جلیل العالم اقام الدین
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Omar Ali Saifuddien II — English Wikipedia
- Omar Ali Saifuddien II — Malay Wikipedia
- Omar Ali Saifuddien II — Wikidata Q40107
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عمر علی سیف الدین دوم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/omar-ali-saifuddien-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.