العُجب

العُجب

Self-admiration is taking pride in one's own deed, knowledge or opinion. Al-Sallabi quotes Ali: self-admiration is a plague of minds, and cites Ibn Taymiyya that it is the associating of the self, where show is the associating of creatures 1.

گہرائی

ایک نظر میں

دور
عصر الخلفاء الراشدين
خطہ
global
جائزہ
مسودہ تکمیل 1/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

ethics-and-characterspirituality-and-sufism

موجز

عُجب یہ ہے کہ آدمی اپنے عمل، علم یا رائے کو بڑا سمجھے اور فضیلت کو اپنی طرف منسوب کرے۔ الصلابی اسے علی کے اُن اقوال کے سیاق میں پیش کرتے ہیں جو ان آفات کے بارے میں ہیں جو اعمال کو خراب کرتی ہیں 2۔

علی کا قول

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «عُجب عقلوں کی آفت ہے»، اور کتاب بیان کرتی ہے کہ یہ ان آفات میں سے ہے جو اعمال کو بگاڑتی اور بندوں کو ہلاک کرتی ہیں، ایک ایسا مرض جو اخلاص کے منافی اور اس کا مخالف ہے 2۔

اس کے اسباب اور علاج

الصلابی علماء کے اقوال پیش کرتے ہیں: عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ عُجب یہ ہے کہ تم اپنے اندر ایسی چیز دیکھو جو دوسروں کے پاس نہیں، اور ابن تیمیہ نے «إياك نعبد» اور «إياك نستعين» کے الفاظ میں ریاء اور عُجب میں فرق کیا 1۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ غزالی نے عُجب کو تکبر اور نفس کے دھوکے کی جڑ شمار کیا، اور قرافی نے اس کی ممانعت میں اللہ کے ساتھ ادب کی کمی دیکھی 1۔ کتاب دو اسباب بیان کرتی ہے: اللہ کے حق سے جہالت اور اس کی قدر نہ پہچاننا، اور نفس کی حقیقت اور اس کے عیوب سے غفلت 1۔ وہ اس کے علاج کے لیے شافعی، نووی، ابن القیم اور ابن الجوزی کے اقوال پیش کرتی ہے، جن میں اللہ کے احسان اور اپنی کوتاہی کو یاد رکھنا اور نفس کا محاسبہ شامل ہے، اور اس میں ابن حزم کا قول بھی ہے کہ نفس میں اپنے عیوب تلاش کیے جائیں 3۔

ابن القیم کی حکمت

کتاب ابن القیم سے نقل کرتی ہے کہ جب اللہ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے اس کی عبادتوں کو دیکھنا بھلا دیتا ہے اور اس کا گناہ اس کی آنکھوں کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور یہ اس کے حق میں رحمت ہے؛ جبکہ وہ نیکی جس پر بندہ فخر کرے اس کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے 4۔

کتاب کا مطالعہ

الصلابی اس مواد کو ایک تربیتی اور عقیدتی تنبیہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، اور علماء کے اقوال پر انحصار کرتے ہیں بغیر کوئی نیا فیصلہ شامل کیے 4۔ (دیکھیے ریا)۔

شیخ عمر عبدالکافی کے درس سے: الدین القیم

شیخ بصرہ کے ایک استاذ کا واقعہ بیان کرتے ہیں جن کے درس میں پانچ سو طالب علم آتے تھے، اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں ان میں عُجب نہ آ جائے (needs_source: واقعے کی تفصیل) 5۔ شیخ اپنی ذاتی رائے کے طور پر کہتے ہیں کہ اطاعت عمل پر ناز میں بدل سکتی ہے، عمل میں بھی خطرہ ہوتا ہے، اور بندے کی اللہ کی بخشش کی امید اس کی عمل کی امید سے بڑھ سکتی ہے 6۔

وہ کہتے ہیں کہ نیکیوں پر خوش ہونا جائز ہے کیونکہ اللہ نے ان کی توفیق دی، مگر تکبر سے بچنا ضروری ہے (needs_source) 7۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Related to
ریا

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

التبتل والعزوف عن الدنيا· الشُّكْر· اللہ کے ساتھ حسن ظن اور امید (حسن الظن باللہ)· خوفِ خدا (خوف)· ریا· أداء الدين· أداء الشهادة· الأدب النبوي

ماخذ

  1. أسمى المطالب في سيرة علي بن أبي طالب: شخصيته وعصره — الجزء الأول , p. 263
  2. أسمى المطالب في سيرة علي بن أبي طالب: شخصيته وعصره — الجزء الأول , p. 262
  3. أسمى المطالب في سيرة علي بن أبي طالب: شخصيته وعصره — الجزء الأول , p. 264
  4. أسمى المطالب في سيرة علي بن أبي طالب: شخصيته وعصره — الجزء الأول , p. 265
  5. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Dinu Al Qayem، قسط 11, 00:31:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  6. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Dinu Al Qayem، قسط 4, 00:51:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
  7. أرشيف Assabile لدروس عمر عبد الكافي (صوت وفيديو) , Al Dinu Al Qayem، قسط 12, 01:03:30 پر · آرکائیو میں اس وقت سے سنیں
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “العُجب”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/ujb/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

التبتل والعزوف عن الدنيا