مجرد حقوق کا عوض اور مال کے بدلے وظائف سے دست برداری

الاعتياض عن الحقوق المجردة والنزول عن الوظائف بمال

اصل حنفی مذہب میں مجرد حقوق، جیسے حقِ شفعہ یا بیوی کا باری کا حق، کا عوض لینا جائز نہیں، جس کا تقاضا یہ ہے کہ اوقاف کے وظائف، جیسے امامت اور خطابت، سے دست برداری پر مال نہ لیا جائے۔ ابن عابدین رد المحتار میں بتاتے ہیں کہ بہت سوں نے عرف کی بنا پر مال کے بدلے وظائف سے دست برداری کے جواز کا فتویٰ دیا، ان کی رائے میں جواز مذہب کے نظائر پر قائم ہے، مسئلہ ظنی ہے، اور بہتر ہے کہ اس کے بعد ابراءِ عام ہو۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

trade-and-financelaw-and-courts

خلاصہ

رد المحتار میں یہ مسئلہ ابن عابدین کے اپنے زمانے کا ایک عملی سوال ہے: کیا وقف کے کسی وظیفے، جیسے امامت، خطابت، اذان، فراشی یا دربانی، کا حامل مال کے بدلے کسی اور کے حق میں اس سے دست بردار ہو سکتا ہے؟ 1 وہ اسے ان عنوانات کے تحت بیان کرتے ہیں: «مجرد حقوق کا عوض جائز نہیں»، «وظائف کا عوض اور ان سے دست برداری»، اور «عرفِ خاص و عام»۔ 1

اصل: مجرد حق کا عوض نہیں

وہ البدائع سے نقل کرتے ہیں کہ مجرد حقوق تملیک کے قابل نہیں اور ان پر صلح جائز نہیں، اور اضافہ کرتے ہیں کہ ان کو ضائع کرنے پر ضمان نہیں؛ اور سرخسی کی شرح الزیادات سے نقل کرتے ہیں کہ مجرد حق کو ضائع کرنا ضمان واجب نہیں کرتا کیونکہ اس کا عوض لینا باطل ہے، سوائے اس کے کہ کوئی مؤکد حق فوت ہو۔ 1 الاشباہ کی مثالیں: اگر شفیع حقِ شفعہ پر مال لے کر صلح کرے تو باطل ہے؛ اگر شوہر اختیار دی گئی بیوی کو مال دے کہ وہ اسے اختیار کرے تو باطل ہے؛ اگر کسی بیوی کو اپنی باری چھوڑنے کے لیے مال دے تو لازم نہیں؛ اور اسی بنا پر اوقاف کے وظائف کا عوض جائز نہیں۔ 1 مستثنیٰ ہیں حقِ قصاص، نکاح کی ملکیت اور غلامی کا حق، جن کا عوض جائز ہے، جیسا کہ زیلعی نے ذکر کیا۔ 1

عرف اور فتویٰ کی تبدیلی

مذہب یہ ہے کہ عرفِ خاص معتبر نہیں، مگر بہت سوں نے اسے معتبر مان کر فتویٰ دیا، اور اسی بنا پر مال کے بدلے وظائف سے دست برداری کے جواز کا فتویٰ دیا جاتا ہے، جیسا کہ الاشباہ میں ہے۔ 1 وہ عینی کے فتاویٰ سے نقل کرتے ہیں کہ دست برداری کی کوئی قابلِ اعتماد بنیاد نہیں، لیکن علماء اور حکام نے ضرورت کی وجہ سے اسے نافذ کیا اور جھگڑے سے بچنے کے لیے ناظر کی منظوری کی شرط لگائی۔ 1 وہ حموی سے نقل کرتے ہیں کہ بعض نے دینی وظائف سے دست برداری کو بیوی کے اپنی باری سوکن کو دینے پر قیاس کیا، کیونکہ دونوں محض اسقاط ہیں۔ 1

ابن عابدین کی توجیہ

ابن عابدین کی رائے میں جواز عرفِ خاص کے اعتبار پر نہیں بلکہ مذہب کے ایسے نظائر پر مبنی ہے جو اس پر دلالت کرتے ہیں، اور حق کے عوض کی ممانعت مطلق نہیں۔ 2 وہ بیری سے ایک توجیہ نقل کرتے ہیں کہ حق کے اسقاط کے طور پر عوض لینا جائز ہے، جیسے کسی غلام کی خدمت کا موصیٰ لہ اس پر صلح کرے، یا ہزار پر پانچ سو کی صلح؛ اور شفعہ اور باری کا حق صرف ضرر دور کرنے کے لیے ہے، تو جب صاحبِ حق اسے چھوڑنے پر راضی ہو تو عوض کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا، بخلاف اس حق کے جو صاحب کو اصالتاً حاصل ہو۔ 2 وہ نقل کرتے ہیں کہ بعض نے جواز پر حسن بن علی کے عوض کے بدلے معاویہ کے حق میں خلافت سے دست برداری سے استدلال کیا، اور کہتے ہیں کہ یہ بھی واضح ہے۔ 2 وہ ایک عالم کی تحریر سے نقل کرتے ہیں کہ مفتی ابو السعود نے حقِ قرار و تصرف کا عوض لینے کے جواز اور رجوع کے درست نہ ہونے کا فتویٰ دیا۔ 2 آخر میں کہتے ہیں کہ مسئلہ ظنی ہے، نظائر ملتے جلتے ہیں اور بحث کی گنجائش ہے، اور بہتر وہ ہے جو صاحبِ النہر نے کہا کہ اس کے بعد ابراءِ عام ہونا چاہیے۔ 2

اگر جس کے حق میں دست برداری ہوئی اسے مقرر نہ کیا جائے

ابن عابدین کہتے ہیں کہ یہی بات زمینوں میں «مشد المسکہ» کے حقِ تصرف سے دست برداری اور زعیم کی اپنی تیمار سے دست برداری پر بھی صادق آتی ہے؛ اگر وہ کسی اور کے حق میں دست بردار ہو اور سلطان اسے اس شخص کے نام نہ کرے بلکہ پہلے کے پاس رہنے دے یا کسی تیسرے کو دے دے، تو جس کے حق میں دست برداری ہوئی وہ ادا کی گئی رقم واپس لے سکے، کیونکہ اس نے یہ رقم حق اپنے نام منتقل ہونے کے بدلے دی تھی؛ اسماعیلیہ اور حامدیہ فتاویٰ میں یہی فتویٰ ہے، ان کے برخلاف جنہوں نے رجوع نہ ہونے کا فتویٰ دیا۔ 2

دکانوں کا خلو

وہ الاشباہ سے نقل کرتے ہیں کہ اگر عرفِ خاص کو معتبر مانا جائے تو فتویٰ یہ ہونا چاہیے کہ قاہرہ کے بعض بازاروں میں دکانوں کا جو خلو رائج ہے وہ لازم ہے۔ 2 اس موضوع کا الگ مدخل ہے: خلو۔

وظیفے کی بیع

اسی سیاق میں وہ صاحبِ تنویر کا فتویٰ نقل کرتے ہیں جو «جامکیہ» کی بیع کے بارے میں ہے، یعنی بیت المال سے کسی شخص کا وظیفہ جس کی ادائیگی سے پہلے اسے نقد کی ضرورت ہو اور وہ اسے کم قیمت پر کسی اور کو بیچ دے: یہ درست نہیں، کیونکہ یہ مدیون کے سوا کسی اور کو دین کی بیع ہے۔ 1

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled on by
رد المحتار علی الدر المختار
Part of
الفقه

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)· بیعِ تعاطی (عملی لین دین سے بیع)· نقدی کا کساد اور قیمت کی تبدیلی· بغاۃ (امام کے خلاف خروج کرنے والے)· عتق (غلام کی آزادی)· کاری گروں کا ضمان (اجیرِ مشترک کی ذمہ داری)· ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ· ابن عابدين

ماخذ

  1. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد چہارم (بولاق، 1271ھ) , p.21
  2. ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، جلد چہارم (بولاق، 1271ھ) , p.22
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “مجرد حقوق کا عوض اور مال کے بدلے وظائف سے دست برداری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/nuzul-an-al-wazaif/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)

بیعِ استجرار یہ ہے کہ آدمی دکاندار سے عادت کے مطابق اپنی ضرورت کی چیز تھوڑی تھوڑی لیتا رہے، جیسے دال، نمک، تیل یا روٹی، اور بعد میں حساب کرے۔ ابن عابدین رد المحتار میں القنیہ سے اس کا جواز نقل کرتے ہیں اگرچہ یہ معدوم کی بیع کی صورت ہے، اور صاحبِ النہر اور حموی کا اعتراض بھی؛ ان کی اپنی رائے میں یہ مسئلہ استحسان پر مبنی ہے، اور وہ لیتے وقت معلوم قیمت والی اور نامعلوم قیمت والی چیزوں میں فرق کرتے ہیں۔