ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ

القضاء باليمين مع الشاهد

یہ کہ قاضی مدعی کے حق میں فیصلہ کرے جب وہ ایک گواہ لائے اور اس کے ساتھ قسم کھائے۔ امام شافعی کتاب الام میں ابن عباس کی حدیث سے، کہ نبی نے اس پر فیصلہ کیا، اسے ثابت کرتے ہیں، اور اسے اموال اور ان کے ہم معنی امور تک محدود رکھتے ہیں؛ چنانچہ نکاح، طلاق، عتق، حدود، قصاص، وصایت اور وکالت میں اس پر فیصلہ نہیں ہوتا، اور مدعی دو عورتوں کے ساتھ قسم نہیں کھاتا۔ وہ اس کے مخالفین کا رد کرتے ہیں اور ان کے دلائل نقل کرتے ہیں: کہ یہ کتاب اللہ کے خلاف ہے، اس کی حدیث مرسل ہے، اور زہری نے اس کا انکار کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

متنازع فیہ: اس مضمون میں ایسے امور شامل ہیں جن پر علماء کا اختلاف ہے۔ شیخ کی آراء ان کی اپنی قرار دی گئی ہیں، اور دیگر آراء پر، جہاں ابھی حوالہ موجود نہیں، نشان لگایا گیا ہے۔

law-and-courts

خلاصہ

ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ یہ ہے کہ قاضی مدعی کے حق میں فیصلہ کرے جب وہ ایک گواہ لائے اور اس کے ساتھ اپنے حق پر قسم کھائے۔ امام شافعی الام میں کتاب الدعویٰ و البینات کا آغاز اسی سے کرتے ہیں، بتاتے ہیں کہ کن مسائل میں اس پر فیصلہ ہوتا ہے اور کن میں نہیں، پھر «ایک گواہ کے ساتھ قسم میں اختلاف» کا باب قائم کرتے ہیں۔ 1 2

کن مسائل میں فیصلہ ہوتا ہے اور کن میں نہیں

امام شافعی کی رائے میں نبی نے ایک گواہ اور قسم پر صرف اس میں فیصلہ کیا جو ایسی ملکیت ہو جو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہوتی ہے، جیسے وہ مال جو ایک فریق کا ہو اور دوسرے کو منتقل ہو۔ 3 اس لیے مدعی دو عورتوں کے ساتھ قسم نہیں کھاتا، کیونکہ ان کے نزدیک عورتوں کی گواہی مرد کے ساتھ ہی قبول ہے سوائے ان امور کے جن پر مرد مطلع نہیں ہوتے، اور قسم کھانے والا گواہ نہیں۔ 1 نہ وہ شخص گواہ کے ساتھ قسم کھاتا ہے جو کسی عورت سے نکاح کا دعویٰ کرے، کیونکہ شوہر عورت کی ذات کا اس طرح مالک نہیں جیسے مال کا، بلکہ نکاح سے صرف وہ مباح ہوتا ہے جو حرام تھا؛ نہ وہ عورت جو اپنی طلاق پر ایک گواہ لائے؛ نہ وہ غلام جو گواہ لائے کہ مالک نے اسے آزاد کیا یا مکاتب بنایا، کیونکہ وہ اپنی ذات میں اس چیز کا مالک نہیں جس کا اس کا مالک تھا۔ 1 3 یہی حکم حدود اور قصاص کا ہے، اور اس کا جو گواہ لائے کہ وہ وصی یا وکیل ہے، کیونکہ وصایت اور وکالت سے وہ کسی چیز کا مالک نہیں بنتا۔ 3 4 البتہ جو کسی ایسے شخص کے خلاف، جس کے قبضے میں غلام ہو، گواہ لائے کہ غلام اس کا ہے، وہ قسم کھا کر اس کا حق دار ہو جاتا ہے؛ اور اسی طرح جو گواہ لائے کہ کسی نے اس کی ام ولد اور اس کا بچہ غصب کیا۔ 2 5

اختلاف

امام شافعی ثابت ہونے کے باوجود اسے رد کرنے کو ایسا اختلاف کہتے ہیں «جس میں اس نے اپنے اوپر زیادتی کی»، کیونکہ اس نے سنت کو رد کیا اور ایسی آراء کو قبول کیا جن کا رد کرنا اس کے لیے ہلکا ہوتا۔ 2 وہ دلیل دیتے ہیں کہ مخالف بیچنے والے سے قطعی قسم لیتا ہے کہ اس نے غلام کو بھاگنے کی عادت سے پاک بیچا، حالانکہ بیچنے والا یہ صرف غالب گمان سے جانتا ہے؛ تو جو کچھ وہ قسموں اور گواہیوں میں جائز رکھتا ہے وہ اس سے آگے ہے جس کا وہ انکار کرتا ہے۔ 6

متعلقہ مداخل

سوال پر آراء

سوال: کیا مدعی کے حق میں ایک گواہ اور اس کی قسم پر فیصلہ ہو سکتا ہے، اور کن حقوق میں؟

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · Sunni — اہل سنت، شافعیہ: امام شافعیبنیادی حوالہ

ایک گواہ کے ساتھ قسم نبی سے ابن عباس کی حدیث سے ثابت ہے، کسی مرسل روایت سے نہیں، اور اس کے ساتھ دوسری روایات بھی ہیں جو اسے تقویت دیتی ہیں؛ یہ اموال تک محدود ہے کیونکہ عمرو بن دینار نے کہا کہ نبی نے اموال میں یہ فیصلہ کیا، اور جعفر نے دین میں کہا؛ حقوق میں اصل دو گواہ ہیں، اور ایک گواہ کے ساتھ قسم اسی میں اصل ہے جس میں اس پر فیصلہ ہوا اور جو اس کے ہم معنی ہو۔ 5
مزید آراء (1)

مخالفین، جیسا کہ امام شافعی نقل کرتے ہیں («بعض لوگ») نقطۂ نظردیگر رائے

انہوں نے اسے رد کیا اور کہا کہ یہ کتاب اللہ کے خلاف ہے، صرف مرسل مروی ہے، اور زہری نے اس کا انکار کیا؛ ان میں سے ایک نے کہا: اگر تم اپنی کسی ایسی رائے سے فیصلہ کرو جسے ہم حق نہیں سمجھتے تو ہم اسے رد نہیں کریں گے، لیکن اگر ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرو تو رد کر دیں گے۔ 2 5 6 امام شافعی پڑھے گئے صفحات میں ان کا نام نہیں لیتے، اور ان کا قول ان کی اپنی کتابوں سے نقل نہیں ہوا (needs_source)۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Ruled on by
کتاب الام
Part of
الفقه

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

کاری گروں کا ضمان (اجیرِ مشترک کی ذمہ داری)· بغاۃ (امام کے خلاف خروج کرنے والے)· بیعِ استجرار (کھاتے پر خریداری)· بیعِ تعاطی (عملی لین دین سے بیع)· عتق (غلام کی آزادی)· نقدی کا کساد اور قیمت کی تبدیلی· مجرد حقوق کا عوض اور مال کے بدلے وظائف سے دست برداری· کتاب اختلاف العراقیین

ماخذ

  1. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.5
  2. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.15
  3. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.6
  4. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.7
  5. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.16
  6. امام شافعی، الام، جلد ہشتم (تحقیق رفعت فوزی عبد المطلب، دار الوفاء 2001ء) , p.19
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/al-qada-bil-yamin-maa-al-shahid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

کاری گروں کا ضمان (اجیرِ مشترک کی ذمہ داری)

مسئلہ: اگر درزی، دھوبی، رنگریز وغیرہ کے پاس سامان ان کی کسی زیادتی کے بغیر ضائع ہو جائے تو کیا وہ ضامن ہیں؟ امام شافعی «اختلاف العراقیین» میں نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ انہیں صرف اس کا ضامن ٹھہراتے ہیں جو ان کے ہاتھوں سے خراب ہو، ابن ابی لیلیٰ انہیں ضامن ٹھہراتے ہیں، اور ابو یوسف ضامن ٹھہراتے ہیں سوائے اس کے کہ کوئی غالب آفت آ جائے؛ امام شافعی کی رائے میں اس میں دو ہی قول درست ہو سکتے ہیں: یا تو جو اجرت لے وہ ضامن ہے، یا امانت کی طرح کسی حال میں ضامن نہیں؛ اور وہ بتاتے ہیں کہ علی اور عمر سے تضمین کی روایات اہلِ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں۔