غریب (فرد) حدیث

خیالات الفاظ

الحديث الغريب (الفرد)

ابن حجر کے نزدیک غریب وہ حدیث ہے جسے سند کے کسی بھی مقام پر ایک ہی شخص روایت کرے؛ اس کی دو قسمیں ہیں: فردِ مطلق، جب غرابت سند کی اصل میں ہو، اور فردِ نسبی، جب تفرد سند کے درمیان کسی خاص شخص کے لحاظ سے ہو؛ غریب اور فرد مترادف ہیں، مگر اہلِ اصطلاح مطلق کو زیادہ تر فرد اور نسبی کو غریب کہتے ہیں 1۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
global

scripture-and-its-sciences

خلاصہ

غریب ابن حجر کے نزدیک طرق کی تعداد کے لحاظ سے خبر کی چوتھی قسم ہے: جسے سند کے کسی بھی مقام پر ایک ہی شخص روایت کرے۔ 2 یہ، مشہور اور عزیز کے ساتھ، خبرِ واحد ہے، اور آحاد میں مقبول اور مردود دونوں ہیں۔ 3

مطلق اور نسبی

  • فردِ مطلق: غرابت سند کی اصل میں ہو، یعنی اس مقام پر جس پر سند گھومتی اور لوٹتی ہے، جو صحابی والا سرا ہے۔ 4 5 مثال: ولاء کی بیع اور ہبہ کی ممانعت کی حدیث، جسے صرف عبد اللہ بن دینار نے ابن عمر سے روایت کیا؛ تفرد مسلسل بھی ہو سکتا ہے، جیسے شعبِ ایمان کی حدیث، جسے صرف ابو صالح نے ابو ہریرہ سے اور صرف عبد اللہ بن دینار نے ابو صالح سے روایت کیا؛ بزار کی «مسند» اور طبرانی کی «المعجم الاوسط» میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں ہر کڑی پر تفرد ہے۔ 5 محقق مسلم کا قول نقل کرتے ہیں: «اس حدیث میں سب لوگ عبد اللہ بن دینار کے محتاج ہیں»۔ 5
  • فردِ نسبی: صحابی سے ایک سے زیادہ لوگ روایت کریں، پھر ان میں سے کسی ایک سے صرف ایک شخص روایت کرے؛ تفرد ایک خاص شخص کے لحاظ سے ہے، اگرچہ حدیث فی نفسہ مشہور ہو۔ 6

استعمال میں غریب اور فرد

ابن حجر کہتے ہیں کہ غریب اور فرد لغت اور اصطلاح میں مترادف ہیں، مگر اہلِ اصطلاح استعمال کی کثرت و قلت کے لحاظ سے فرق کرتے ہیں: فرد زیادہ تر مطلق کے لیے اور غریب نسبی کے لیے؛ فعل میں فرق نہیں کرتے، دونوں صورتوں میں کہتے ہیں «اس میں فلاں منفرد ہے»۔ 7 وہ اسے منقطع اور مرسل کے استعمال سے تشبیہ دیتے ہیں: اکثر محدثین اسم میں دونوں کو الگ رکھتے ہیں، مگر فعل میں دونوں کے لیے «ارسلہ» ہی کہتے ہیں، اسی لیے بعض نے سمجھا کہ وہ دونوں میں فرق نہیں کرتے۔ 7

غرابت اور صحت

ابن حجر کے نزدیک تفرد صحت کے منافی نہیں؛ اسی لیے انہوں نے اس قول کو رد کیا کہ راویوں کی تعداد صحیح کی شرط ہے، اور دلیل دی کہ «انما الاعمال بالنیات» — صحیح بخاری کی پہلی حدیث — کئی طبقات میں فرد ہے۔ 8 محقق بتاتے ہیں کہ محدثین فردِ مطلق کو «سند و متن دونوں میں غریب» بھی کہتے ہیں۔ 5

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Related to
شاذ حدیث· متابعت، شاہد اور اعتبار

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

علم مصطلح الحديث· شاذ حدیث· متابعت، شاہد اور اعتبار· منکر حدیث· زیادۃ الثقہ· الحديث النبوي· الشمائل المحمدية· الغنيمة

ماخذ

  1. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 45-52
  2. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 45
  3. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 46
  4. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 49
  5. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 51
  6. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 51-52
  7. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 52
  8. شرح نخبة الفكر: نزهة النظر في توضيح نخبة الفكر في مصطلح أهل الأثر — ابن حجر العسقلاني، تحقيق نور الدين عتر، مكتبة البشرى، كراتشي 1432هـ/2011م , p. 44
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “غریب (فرد) حدیث”. islam.museum، https://islam.museum/ur/concept/al-hadith-al-gharib/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

علم مصطلح الحديث

Mustalah al-hadith is the science of the states of chain and text — sahih, hasan, da'if; mawquf, marfu', maqtu'; muttasil, munqati', mu'dal, mursal — and the reconciliation and hidden defects of transmissions. It began in the early muhaddithun's obiter dicta, then gained its own manuals; the earliest surviving systematic statement is Muslim's introduction to his Sahih, later epitomised in works like Ibn al-Salah's Muqaddima.