کیا قرآن میں عربی کے علاوہ دوسری زبانوں کے الفاظ ہیں؟

خیالات الفاظ

هل في القرآن ألفاظ من غير لغة العرب؟

قرطبی کے نزدیک اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قرآن میں غیر عرب اسالیب پر مرکب کلام نہیں اور اس میں اسرائیل اور جبریل جیسے عجمی اعلام ہیں؛ اختلاف اعلام کے سوا مفرد الفاظ میں ہے: باقلانی اور طبری ان کا انکار کرتے اور انہیں زبانوں کا اتفاق قرار دیتے ہیں، دوسرے چند الفاظ مانتے ہیں جو قرآن کو عربی ہونے سے خارج نہیں کرتے، اور ابن عطیہ انہیں اصلاً عجمی مانتے ہیں جنہیں عربوں نے معرب کر لیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

خطہ
andalus-europe

scripture-and-its-sciences

خلاصہ

قرطبی نے اپنی تفسیر کے مقدمے میں «کیا قرآن میں عرب کی زبانوں سے باہر کے کلمات آئے ہیں یا نہیں» کے عنوان سے باب باندھا ہے۔ 1 وہ اس میں بیان کرتے ہیں کہ امت میں اس پر اختلاف نہیں کہ قرآن میں غیر عرب اسالیب پر مرکب کلام نہیں، اور اس میں ان لوگوں کے اعلام ہیں جن کی زبان عربی نہ تھی، جیسے اسرائیل، جبریل، عمران، نوح اور لوط؛ اختلاف صرف ان مفرد الفاظ میں ہے جو اعلام نہیں۔ 1

ابن عطیہ کی دلیل

ابن عطیہ، جیسا قرطبی نقل کرتے ہیں، استدلال کرتے ہیں کہ کوئی عرب ان میں سے کسی لفظ سے ناواقف ہو سکتا ہے جیسے کسی دوسری بولی کے صاف الفاظ سے، جیسے ابن عباس «فاطر» کا معنی نہیں جانتے تھے یہاں تک کہ دو بدوؤں سے سنا۔ 2

اختلاف اور آراء

محققین کے لیے نوٹ

  • باب میں دوسری زبانوں کی طرف منسوب الفاظ کی مثالیں قرآنی آیات سے ہیں؛ ان کے الفاظ یہاں نقل نہیں کیے گئے۔

سوال پر آراء

سوال: قرآن میں معرب الفاظ

پہلی رائے · اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · أهل السنة / اہلِ سنت: باقلانی اور طبریبنیادی حوالہ

کوئی عجمی لفظ نہیں؛ زبانیں متفق ہو گئیں 1۔
مزید آراء (2)

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · أهل السنة / اہلِ سنت: بعض علماءبنیادی حوالہ

دوسری زبانوں کے چند الفاظ موجود ہیں 1 2۔

اہل سنت کی روایت (عجائب گھر کا بنیادی ڈھانچہ) · أهل السنة / اہلِ سنت: ابن عطیہ، جیسا قرطبی نقل کرتے ہیںبنیادی حوالہ

اصلاً عجمی اور معرب؛ اتفاق نادر ہے 2۔

تعلقات

تعلقات دریافت کریں

Subject of
الجامع لاحکام القرآن (تفسیرِ قرطبی)
Mentions
الجامع لاحکام القرآن (تفسیرِ قرطبی)· المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز (تفسیر ابن عطیہ)

وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

جامع البیان عن تاویل آی القرآن (تفسیرِ طبری)· احرفِ سبعہ· التفسير بالرأي· الجامع لاحکام القرآن (تفسیرِ قرطبی)· المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز (تفسیر ابن عطیہ)· ابن عطیہ اندلسی· فتح القدیر (شوکانی کی تفسیر)· وضع الحديث

ماخذ

  1. الجامع لاحکام القرآن — قرطبی، تحقیق عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی (مؤسسۃ الرسالہ، 2006ء)، جلد اول , p.110
  2. الجامع لاحکام القرآن — قرطبی، تحقیق عبد اللہ بن عبد المحسن الترکی (مؤسسۃ الرسالہ، 2006ء)، جلد اول , p.111
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “کیا قرآن میں عربی کے علاوہ دوسری زبانوں کے الفاظ ہیں؟”. islam.museum، https://islam.museum/ur/questions/does-the-quran-contain-non-arabic-words/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-04.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · مکمل کرنے میں مدد کریں · JSON

پہلو

خیالات

عقائد، تصورات، علوم اور مکاتبِ فکر، سادہ زبان میں۔
متعلقہ

جامع البیان عن تاویل آی القرآن (تفسیرِ طبری)

ابو جعفر محمد بن جریر طبری (224–310ھ) کی قرآن کی آیت بہ آیت تفسیر، صحابہ و تابعین سے سند کے ساتھ مروی روایات پر قائم، لغت، نحو، فقہ اور قراءات کی بحثوں کے ساتھ؛ اس میں مجاہد، ضحاک، عطیہ عوفی، عطاء، قتادہ، ربیع بن انس وغیرہ کی تفسیروں سے متعین سندوں کے ذریعے، اور فراء، اخفش اور ابن قتیبہ کی کتابوں سے لیا گیا ہے؛ یہ 854 مقامات پر قراء کے اختلاف پر رکتی ہے، اور قرطبی، ابن کثیر، شوکانی، مکی، ابن زنجلہ اور نحاس اس سے نقل کرتے ہیں۔