یوسف رضا گیلانی

يوسف رضا غيلاني

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

ملتان

پاکستانی سیاست دان (پیدائش 1952ء)، مارچ 2008ء سے جون 2012ء تک پاکستان کے وزیرِ اعظم، قومی اسمبلی کے اسپیکر (1993ء–1997ء)، 2024ء سے سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین، اور ملک کے پہلے سرائیکی وزیرِ اعظم، جن کا تعلق ملتان کے گیلانی خاندان سے ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

ملتان

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    یوسف رضا گیلانی (پیدائش 9 جون 1952ء) پاکستانی سیاست دان ہیں جو مارچ 2008ء سے جون 2012ء تک پاکستان کے سولھویں وزیرِ اعظم رہے اور 2024ء سے سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین ہیں۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے اس رہنما نے بینظیر بھٹو کی حکومتوں میں وزارتیں سنبھالیں، 1993ء سے 1997ء تک قومی اسمبلی کے اسپیکر رہے، مشرف دور میں تقریباً چھ سال قید رہے، اور بطور وزیرِ اعظم معزول چیف جسٹس کی بحالی اور اٹھارویں آئینی ترمیم کی نگرانی کی، پھر 2012ء میں سپریم کورٹ نے انہیں توہینِ عدالت میں سزا دے کر نااہل قرار دیا۔ وہ ملک کے پہلے اور واحد سرائیکی وزیرِ اعظم ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 9 جون 1952ء کو ملتان، پنجاب میں ایک سرائیکی سادات صوفی خاندان میں پیدا ہوئے؛ ویکی ڈیٹا اس کے بجائے کراچی کو ان کی جائے پیدائش بتاتا ہے اور دونوں ماخذ میں اتفاق نہیں۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے صحافت میں بی اے (1970ء) اور جامعہ پنجاب سے سیاسی صحافت میں ایم اے (1976ء) کیا۔ ان کے والد مخدوم سید علمدار حسین گیلانی قراردادِ پاکستان کے دستخط کنندگان میں سے تھے۔ مضمون ان کے خاندان کا نسب سنی عالم عبدالقادر جیلانی اور صوفی بزرگ موسیٰ جیلانی سے منسوب بتاتا ہے — یہ نسب کا بیان ہے، ان کی ذاتی وابستگی کا نہیں۔ 1 2

    سیاسی زندگی اور قید

    وہ 1978ء میں مسلم لیگ سے سیاست میں آئے، 1983ء میں ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین اور 1985ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اور 1988ء میں پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔ بینظیر بھٹو کی حکومتوں میں وزیرِ سیاحت اور وزیرِ بلدیات رہے اور 1993ء سے 1997ء تک اسپیکر قومی اسمبلی رہے۔ 11 فروری 2001ء کو فوجی حکومت کے نیب نے انہیں اسپیکر کے دور میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا؛ ایک فوجی افسر کی سربراہی والی انسدادِ بدعنوانی عدالت نے انہیں سزا دی اور وہ اکتوبر 2006ء میں رہائی تک تقریباً چھ سال اڈیالہ جیل میں رہے۔ مضمون کے مطابق ان کارروائیوں کو بڑے پیمانے پر سیاسی انتقام سمجھا گیا۔ 1

    وزارتِ عظمیٰ

    وہ 24 مارچ 2008ء کو 264 کے مقابلے میں 42 ووٹوں سے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔ ان کی حکومت کو مارچ 2009ء میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی اور 2010ء کی اٹھارویں ترمیم کا سہرا دیا جاتا ہے۔ 3 ستمبر 2008ء کو راولپنڈی کے قریب ان کے قافلے پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ محفوظ رہے۔ 26 اپریل 2012ء کو سپریم کورٹ نے صدر زرداری کے خلاف مقدمات کھولنے سے انکار پر انہیں توہینِ عدالت میں سزا دی — عہدے پر رہتے ہوئے سزا پانے والے پہلے وزیرِ اعظم — اور 19 جون 2012ء کو انہیں سزا کی تاریخ سے نااہل قرار دے کر عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی نااہلی اپریل 2017ء میں ختم ہوئی۔ وہ 2021ء میں سینیٹر منتخب ہوئے، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف رہے، اور 2024ء میں چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے اور صدر کی غیر موجودگی میں بارہا قائم مقام صدر کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔ 1

    مذہب کے بارے میں ماخذ

    ماخذ ان کی ذاتی وابستگی کا فیصلہ نہیں کرتے اور ان میں موجود اشارے مختلف سمتوں میں جاتے ہیں۔ ویکی ڈیٹا کی واحد مذہبی قدر «شیعہ اسلام» ہے — ایک واحد ساختی قدر۔ انگریزی مضمون اس کے بجائے انہیں «پاکستانی سنی مسلمان» کے زمرے میں رکھتا ہے، جو درجہ بندی ہے، شہادت نہیں، اور اس کا متن ان کی کوئی وابستگی نہیں بتاتا: اس کا مذہبی مواد ان کے خاندان کے ایک سنی عالم اور ایک صوفی بزرگ سے منسوب نسب کے بارے میں ہے، جو نسب و خاندان ہے، اور ان کے خاندان کو صوفی سادات کہنے کے بارے میں ہے، جو خاندانی پس منظر ہے۔ اس لیے ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف درج ہے۔ 2 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    ملتان
    Lived in
    ملتان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    فتح الملتان وبيت الذهب· انضمام الحق· سکندر حیات خان· ملتان

    ماخذ

    1. Yusuf Raza Gilani — English Wikipedia
    2. Yusuf Raza Gilani — Wikidata Q152052
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “یوسف رضا گیلانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/yousaf-raza-gillani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    فتح الملتان وبيت الذهب

    Across the Bayas, Multan's folk fought — Za'ida ibn Umayr al-Ta'i excelled — then shut themselves in. The Muslims ate their donkeys till a protected man showed the water-intake — the spring al-Balah fed from Basmad's river — and cut it, they yielded on terms: the fighters slain, six thousand temple sadins and offspring enslaved, and gold heaped in a ten-by-eight cubit house filled through a roof hole — whence 'Multan, Faraj Bayt al-Dhahab', the frontier of the House of Gold. Its budd drew offerings and vows; Sind's pilgrims shaved heads and beards there and claimed its idol was the prophet Ayyub.