ایک نظر میں
- کردار
- عالم · teacher · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
سنی (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ابو عمار یاسر قاضی پاکستانی نژاد امریکی عالم و مبلغ ہیں، جو 30 جنوری 1975 کو ہیوسٹن، ٹیکساس میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ہیوسٹن سے کیمیکل انجینئرنگ، جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے حدیث و اسلامی الہیات پڑھے، اور ییل یونیورسٹی سے ابن تیمیہ کی تحریروں پر مقالے کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی۔ وہ دی اسلامک سیمنری آف امریکہ کے ڈین، پلانو، ٹیکساس کے ایسٹ پلانو اسلامک سینٹر کے مقیم عالم، اور فقہ کونسل آف نارتھ امریکہ کے چیئرمین ہیں، اور باقاعدگی سے «مسلم 500» میں شامل ہوتے ہیں۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ ہیوسٹن میں کراچی سے آئے پاکستانی مہاجر والدین کے یہاں پیدا ہوئے؛ ان کے والد ڈاکٹر اور داعی تھے جنہوں نے علاقے کی پہلی مسجد کے قیام میں مدد کی۔ پانچ برس کی عمر میں خاندان جدہ، سعودی عرب منتقل ہوا، جہاں انہوں نے پندرہ برس کی عمر تک قرآن حفظ کیا اور کلاس میں اول آ کر اسکول مکمل کیا۔ 1 2
امریکہ واپس آ کر انہوں نے یونیورسٹی آف ہیوسٹن سے کیمیکل انجینئرنگ میں بی ایس سی کیا اور ڈاؤ کیمیکل میں مختصر ملازمت کے بعد 1996 میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، جہاں حدیث میں بیچلر اور اسلامی الہیات میں ماسٹرز کیا۔ پھر ییل یونیورسٹی سے الہیات میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ 1 2
کام
انہوں نے میمفس کے روڈز کالج کے شعبۂ مطالعۂ مذاہب میں پڑھایا اور المغرب انسٹی ٹیوٹ کے ڈینِ تعلیمی امور رہے۔ 2019 کے اوائل میں وہ ڈیلاس منتقل ہوئے اور ایسٹ پلانو اسلامک سینٹر کے مقیم عالم بنے۔ وہ پی بی ایس کے پروگرام «فائنڈنگ یور روٹس» میں بھی بطور مہمان آئے۔ 1
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔
سلفیت سے وسطیت تک۔ ان کی ابتدائی تربیت سلفی روایت میں ہوئی: مدینہ میں تعلیم اور المغرب انسٹی ٹیوٹ میں پندرہ برس ڈین رہے۔ 11 ستمبر کے بعد اور ییل میں ڈاکٹریٹ کے دوران (2005–2013) انہوں نے سلفیت کے منہجی جمود پر نظرثانی شروع کی اور 2010 کی دہائی کے وسط تک وہ اس سے الگ ہو کر سنی اسلام کے اندر «وسطی» رویہ اختیار کر چکے تھے، جیسا کہ وہ خود اور علمی مطالعات بیان کرتے ہیں۔ 1
2001 کے بیانات اور رجوع۔ ٹیلی گراف نے 2010 میں رپورٹ کیا کہ 2001 کی ایک تقریر میں انہوں نے ہولوکاسٹ کو جھوٹ قرار دیا تھا۔ قاضی نے 2008 ہی میں اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے مختصر عرصے تک ہولوکاسٹ کے بارے میں غلط خیالات رکھے: «میں مانتا ہوں کہ یہ غلطی تھی»، اور وہ اسے بیسویں صدی کے انسانیت کے خلاف بدترین جرائم میں سے مانتے ہیں۔ جولائی 2010 میں وہ آٹھ ائمہ و یہودی رہنماؤں کے سرکاری وفد کے ساتھ آشوٹز و ڈاخاؤ گئے، اور وفد نے یہود دشمنی کی مذمت اور ہولوکاسٹ کے انکار کو اسلام کی اخلاقیات کے خلاف قرار دینے والا مشترکہ بیان جاری کیا۔ 1
احرف و قراءات (2020)۔ جون 2020 میں محمد حجاب سے گفتگو میں انہوں نے قرآن کے حفظ سے متعلق «معیاری بیانیے میں سقم» کی بات کی؛ بعد میں وضاحت کی کہ ان کی مراد قراءات و احرف کا حفظ تھا، اور 2024 میں اپنی آراء کتاب میں شائع کیں۔ اپریل 2016 میں داعش کی مجلہ «دابق» نے انہیں اور دیگر مغربی علماء کو مرتد قرار دے کر قتل کی دھمکی دی تھی، ان کی داعش کی مذمت کی وجہ سے۔ 1
کتابیں
اثر و رسوخ
ان کے یوٹیوب چینل کے تقریباً 732 ہزار سبسکرائبر اور 128 ملین ویوز ہیں — یہ پلیٹ فارم کے اعداد ہیں جن کی تاریخ 23 جنوری 2026 ہے۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Lived in
- جدة
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الموطأ 398 — بلاغ: ابن عباس يقصر فيما بين مكة والطائف وعسفان وجدة· عبد الله بن بيه· ابو بکر الشاطری· احمد شقیری· علي الجفري· علی عبداللہ جابر· فضل الرحمان خان· عیدی امین
ماخذ
- Yasir Qadhi — English Wikipedia
- ياسر قاضي — ويكيبيديا العربية
- Yasir Qadhi — Wikidata Q4670065
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “یاسر قاضی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/yasir-qadhi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.