ایک نظر میں
- کردار
- lawyer · judge · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
shia-twelver (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
شیریں عبادی ایرانی وکیل، سابق جج، انسانی حقوق کی محافظ اور مصنفہ ہیں، جو 21 جون 1947 کو ہمدان میں پیدا ہوئیں۔ وہ ایران کی پہلی خاتون ججوں میں سے تھیں اور 1975 سے تہران کی سٹی کورٹ کی صدر رہیں۔ انہوں نے انسانی حقوق کے دفاع کا مرکز قائم کیا۔ انہیں 2003 میں نوبل امن انعام ملا «جمہوریت اور انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے حقوق کی جدوجہد پر» — وہ یہ انعام پانے والی پہلی ایرانی اور پہلی مسلم خاتون بنیں۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ ہمدان میں ایک علمی مسلم خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محمد علی عبادی شہر کے سرکاری رجسٹرار اور تجارتی قانون کے استاد تھے۔ خاندان ان کی عمر کے پہلے سال میں تہران منتقل ہو گیا۔ انہوں نے 1965 میں جامعہ تہران کے کلیۂ قانون میں داخلہ لیا، 1969 میں گریجویشن کی اور اسی سال جج بن گئیں، اور دورانِ ملازمت 1971 میں امتیاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ 3 2
عدلیہ سے اخراج اور وکالت
1975 میں وہ تہران سٹی کورٹ کی صدر بننے والی پہلی خاتون بنیں اور 1979 کے انقلاب تک اس عہدے پر رہیں۔ انقلاب کے بعد خواتین کو قضا کے لیے نااہل قرار دیا گیا؛ انہیں ان کی اپنی عدالت میں کلرک کے عہدے پر گرا دیا گیا، پھر احتجاج پر «ماہر» کا عہدہ ملا، جسے قبول نہ کرتے ہوئے انہوں نے استعفا دے دیا۔ آزاد وکالت کی درخواستیں برسوں مسترد ہوتی رہیں؛ اس دوران انہوں نے کتابیں اور مضامین لکھے، اور 1992 میں انہیں وکالت کا لائسنس ملا۔ 2 3
انسانی حقوق کا کام
انہوں نے 1994 میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کی انجمن اور 2001 میں انسانی حقوق کے دفاع کا مرکز قائم کیا۔ انہوں نے معروف مقدمات لڑے: مقتول مخالف رہنما داریوش فروہر اور ان کی اہلیہ کے خاندان کی نمائندگی، نو سالہ آریان گلشنی کے قتل کے بعد حضانت کے قوانین پر مہم — جس کے بعد طلاق یافتہ ماؤں کو سات سال تک دونوں جنسوں کے بچوں کی حضانت کا حق ملا — اور 2002 میں بچوں پر تشدد کے خلاف قانون کا مسودہ تیار کرنے میں حصہ، جسے پارلیمان نے منظور کیا۔ 2000 میں «شريط سازوں» کے مقدمے میں انہیں پانچ سال قید اور لائسنس کی معطلی کی سزا ہوئی، جو بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم کر دی۔ 2 3
نوبل انعام اور جلاوطنی
انعام کا اعلان 10 اکتوبر 2003 کو ہوا۔ ایران کے اندر قدامت پسند اخبارات نے اسے غیر ملکی دباؤ قرار دیا اور صدر محمد خاتمی نے اسے سیاسی اور غیر اہم کہا۔ دسمبر 2008 میں حکام نے ان کے مرکز کے دفتر پر چھاپہ مار کر اسے بند کر دیا۔ وہ جون 2009 سے لندن میں جلاوطن ہیں۔ ان کے مطابق حکام نے ان کا نوبل تمغہ بینک لاکر سے ضبط کیا، جس کی ناروے کے وزیرِ خارجہ نے مذمت کی اور ایران نے انکار کیا۔ 1 2 3
مواقف اور تنقید
اس حصے کو ماخذ میں منقول مختلف مواقف کی رپورٹ کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں۔
انہوں نے اپنی کتاب «ایران بیدار ہوتا ہے» میں لکھا کہ اسلام کی وہ تعبیر جو مساوات اور جمہوریت سے ہم آہنگ ہو ایمان کا حقیقی اظہار ہے، اور مذہب و ریاست کی علیحدگی کی وکالت کی۔ ابتدا میں انہوں نے انقلاب کی حمایت کی، پھر اسے اپنے لیے ذاتی شکست سمجھا۔ پہلے انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو قومی فخر قرار دیا، پھر 2012 میں کہا کہ عوام یورینیم کی افزودگی رکوانا چاہتے ہیں۔ 2018 میں انہوں نے اسلامی جمہوریہ کو ناقابلِ اصلاح قرار دے کر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا۔ گرفتار بہائی رہنماؤں کے دفاع پر سرکاری خبر رساں ادارے نے ان پر حملہ کیا اور ان کی بیٹی پر بہائی ہونے کا الزام لگایا، تو انہوں نے جواب دیا — جیسا کہ انگریزی مضمون نقل کرتا ہے: «مجھے یہ کہنے پر فخر ہے کہ میں اور میرا خاندان شیعہ ہیں۔» مارچ 2026 میں رضا پہلوی نے انہیں عبوری انصاف کے ضوابط کی مسودہ کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔ 2 3
کتابیں اور اعزازات
ان کی انگریزی کتابوں میں «ایران بیدار ہوتا ہے» (2006)، «ایران میں پناہ گزینوں کے حقوق» (2008)، «سنہرا پنجرہ» (2011) اور «حتیٰ کہ ہم آزاد ہوں» (2016) شامل ہیں۔ نوبل سے پہلے انہیں 2001 میں رافٹو انعام ملا، اور 2006 میں انہوں نے فرانس کا وسامِ جوقۂ شرف پایا اور نوبل خواتین اقدام کی مشترکہ بنیاد رکھی۔ 2
حوالہ جات
- اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - بعد کی ترمیمات اور تراجم کو واضح تواریخ کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزے کی ضرورت ہے۔
تعلقات
- Born in
- همدان
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
إرسال الأمير أبي الهيجاء إلى همذان· فتح همذان ووقعة واج روذ· ہمدان میں ابن سینا شمس الدولہ کے وزیر· اجتياح التتر بلاد الجبل وأذربيجان والكرج· عودة التتار إلى الرى وهمدان سنة 621· عارف قزوینی· مجد الدين أسعد الميهني· عين القضاة الهمذاني
ماخذ
- Shirin Ebadi — Nobel Prize facts page
- Shirin Ebadi — English Wikipedia
- شيرين عبادي — ويكيبيديا العربية
- Shirin Ebadi — Wikidata Q131152
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “شیریں عبادی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/shirin-ebadi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.