سعود الشریم

سعود الشريم

سعودی قارئ اور عالم، 1991 سے 2022 میں ریٹائرمنٹ تک مسجد حرام کے امام و خطیب رہے۔ 1966 میں ریاض میں پیدا ہوئے، جوانی میں قرآن حفظ کیا، انسیٹی ٹیوٹ آف جوڈیشری سے فقہ مقارن میں ماسٹرز اور جامعہ ام القریٰ سے ڈاکٹریٹ حاصل کی، مکہ کی بڑی شرعی عدالت کے جج اور ام القریٰ میں استاد و ڈین رہے، اور تقریباً پندرہ کتابیں لکھیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
reciter · عالم · teacher
خطہ
arabia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سعود ابراہیم الشریم (19 جنوری 1966) مفسر، قاریٔ قرآن اور فقیہ تھے۔ وہ 1991 سے 2022 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک مکہ مکرمہ کی مسجد حرام کے امام و خطیب رہے اور جامعہ ام القریٰ میں شریعت و اسلامی مطالعات کے پروفیسر اور شریعت فیکلٹی کے ڈین رہے۔12

    تعلیم

    اردو مقالے کے مطابق انہوں نے 1984 میں ربنا یونیورسٹی میں داخلہ لیا، کیونکہ وہ اسلامی شریعت کی تعلیم میں دلچسپی رکھتے تھے، اور ابتدائی دورانیے میں قراءت سے دور تھے؛ 1989 میں انہوں نے شریعت میں ڈگری تمام تقاضوں کے ساتھ حاصل کی۔ 1990 میں انہوں نے ہائر جوڈیشل انسٹی ٹیوٹ میں داخلہ لیا جہاں ان کی تعلیم دو حصوں پر مشتمل تھی، ابتدائی دورانیہ اور تقابلی فقہ، اور 1992 میں بدرجہ امتياز ماسٹرز کیا۔ 1995 میں انہوں نے جامعہ ام القریٰ سے پہلے درجے کے اعزاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ حاصل کیا؛ ان کا مقالہ مکنون البلوشی کی نگرانی میں کتاب «مناسک الحج» کی توضیح پر تھا۔ عربی مقالہ مزید بتاتا ہے کہ ان کے مقالے کی نگرانی عبد العزیز بن باز نے کی، اور انہوں نے فقہِ بیوع کی تعلیم صالح الفوزان سے بھی حاصل کی۔12

    مسجد حرام کی امامت

    اردو مقالے کے مطابق انہیں سعودی عرب کے بادشاہ فہد نے ان کی منفرد قراءت اور تلاوت کو سننے کے بعد مسجد حرام کا امام مقرر کیا۔ عربی مقالہ بتاتا ہے کہ مرسوم 1412ھ / 1991 میں جاری ہوا؛ 1414ھ میں انہیں حرم میں حدیث و فقہ کے درس کی ذمہ داری ملی، 1416ھ میں جامعہ ام القریٰ کی شریعت فیکلٹی میں تدریس شروع ہوئی جہاں وہ ڈین بنے، اور وہ 2022 میں ریٹائرمنٹ تک امام و خطیب رہے۔ عبد الرحمٰن السدیس کے ساتھ تراویح کی امامت کی وجہ سے یہ جوڑی «حرم کے جڑواں» کہلائی۔12

    ان کی سیرت پر کتابیں بھی لکھی گئی ہیں؛ اردو مقالہ اسماعیل کامل کی کتاب «قراۃ الشیخ سعود الشریم» اور «المسالک فی المناسک» کا ذکر کرتا ہے۔1

    ایمانی ریکارڈ

    عجائب گھر ان کا مذہب نامعلوم درج کرتا ہے۔ انگریزی خانہ معلومات ان کا فرقہ سنی، عقیدہ اثری، فقہ حنبلی اور تحریک سلفی دیتا ہے؛ اردو خانہ فقہ حنبلی اور مکتب سلفی دیتا ہے؛ فرانسیسی خانہ سنی و سلفی دیتا ہے؛ عربی خانہ عقیدہ «اہل السنہ والجماعہ» دیتا ہے اور فقہ کی خانہ خالی چھوڑتا ہے، اور اس کے زمرے انہیں حنبلی علماء میں رکھتے ہیں؛ وکی ڈیٹا صرف اسلام دیتا ہے۔ کوئی مقالہ متن میں ان کے لیے کوئی مکتب نامزد نہیں کرتا؛ ان کی حنبلی تشکیل اور حنبلی فقہ کی اجازتیں تعلیم ہیں، شہادت نہیں، اور ان کی امامت منصب تھی۔ خانے اور زمرے ایک ہی منظم روایت ہیں، دو آزاد شہادتیں نہیں۔123

    ماخذ

    • اوپر مذکور متعین ماخذ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعہ بدلنے والے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Studied under
    صالح فوزان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    بدر المشاری· صالح فوزان

    ماخذ

    1. Saud Al-Shuraim — Urdu Wikipedia
    2. Saud Al-Shuraim — Arabic Wikipedia
    3. Saud Al-Shuraim — Wikidata Q270540
    • Saud Al-Shuraim — English Wikipedia
    • Saud Al-Shuraim — French Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سعود الشریم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/saud-al-shuraim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    بدر المشاری

    سعودی اسلامی مبلغ اور ریاض میں نیشنل گارڈ کی حطین مسجد کے امام، جو 1973 میں ریاض میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی کے کالج آف شریعہ سے گریجویشن کیا، عبد العزیز بن باز اور محمد بن صالح العثیمین سمیت دیگر علما سے علم حاصل کیا، اور بداية اور اقرأ چینلوں پر اپنی ٹیلی ویژن درسی سلسلوں اور ریکارڈ شدہ لیکچرز اور دروس کے لیے جانے گئے۔