سلامہ موسیٰ

سلامة موسى

–

القاهرة

مصری صحافی، ادیب اور مفکر (1887-1958)، مصر میں اشتراکیت کے اولین علم برداروں میں سے اور ایک اعلانیہ سیکولر، جنہوں نے مصری قارئین کو ڈارون، نطشے اور فرائڈ سے متعارف کرایا۔ انہوں نے «المستقبل» اور «المجلۃ الجدیدہ» رسالے نکالے، تقریباً پینتالیس کتابیں لکھیں جن میں ان کی خود نوشت «تربیۃ سلامہ موسیٰ» بھی ہے، اور نوجوان نجیب محفوظ کے استاد رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · فلسفی · activist
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد الحمید خان بھاشانی · مولوی عبد الحق · عبد المعز

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سلامہ موسیٰ (4 فروری 1887 – 4 اگست 1958) مصری صحافی، ادیب اور مفکر تھے، مصر میں اشتراکیت کے اولین علم برداروں میں سے اور ایک اعلانیہ سیکولر، جنہوں نے مصری قارئین کو ڈارون، نطشے اور فرائڈ سے متعارف کرایا۔ انہوں نے مؤثر رسالے نکالے، تقریباً پینتالیس کتابیں لکھیں جن میں ان کی خود نوشت «تربیۃ سلامہ موسیٰ» بھی ہے، اور نوجوان نجیب محفوظ کے استاد رہے، جنہوں نے انہیں اپنا روحانی باپ کہا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ 4 فروری 1887 کو زقازیق کے قریب گاؤں بہنبای میں ایک قبطی خاندان میں پیدا ہوئے، جس کا اصل وطن اسیوط کا گاؤں البیاضیہ تھا؛ ان کے والد سرکاری ملازم تھے اور ان کے بچپن میں وفات پا گئے۔ انہوں نے قبطی اور سرکاری مدارس میں تعلیم پائی، پھر 1903 میں قاہرہ جا کر خدیویہ اسکول میں داخل ہوئے، جہاں فرح انطون، جرجی زیدان اور احمد لطفی سید کی تحریروں سے واقف ہوئے، جن کے فکری قرض کا انہوں نے بعد میں اقرار کیا۔ 2 1 3

    یورپ کے برس

    1907 میں وہ فرانس گئے، جہاں اشتراکیت اور ارتقا کا مطالعہ کیا اور فرانسیسی سیکھی؛ 1909 میں انگلستان جا کر کچھ عرصہ قانون پڑھا اور فیبیئن سوسائٹی کے رکن بنے۔ عربی مقالے کے مطابق انگلستان میں وہ جمعیۃ العقلیین میں بھی شریک ہوئے اور جارج برنارڈ شا سے ملے۔ 1 2

    صحافت اور جماعتیں

    مصر واپس آ کر انہوں نے 1910 میں اپنی پہلی کتاب «مقدمۃ السوبر مان» شائع کی اور 1913 میں فرح انطون اور یعقوب صروف کے ساتھ ہفت روزہ «المستقبل» نکالا، جسے حکام نے سولہ شماروں کے بعد بند کر دیا۔ 1920 کی دہائی میں انہوں نے ایک اشتراکی جماعت بنائی جو حکومتی دباؤ سے جلد تحلیل ہو گئی، اور علمی تعلیم کی ایک اکیڈمی قائم کی جو دس برس بعد بند کر دی گئی۔ وہ 1925 سے 1927 تک «کل شے» کے مدیر رہے اور 1929 میں «المجلۃ الجدیدہ» نکالا جو 1944 تک چلا۔ 1935 میں انہوں نے گاندھی کے خود کفالت کے خیال سے متاثر ہو کر «جمعیۃ المصری للمصری» بنائی۔ 1946 میں بادشاہت پر تنقید کے الزام میں قید ہوئے، اور 1952 کے انقلاب کے بعد «اخبار الیوم» کے سائنسی حصے کے نگران رہے یہاں تک کہ وفات پائی۔ 1 2

    افکار

    انہوں نے سیکولر ازم، جمہوریت، لبرل ازم اور خواتین کی آزادی کی وکالت کی، نظریۂ ارتقا کو مقبول بنایا اور کہا کہ مصر کو یورپی فکر اپنا کر موروثی مذہبی روایات و رسوم ترک کر دینی چاہئیں۔ عربی مقالہ ان کی کتابوں کے خلاصے میں — جن میں 1912 کی «نشوء فکرۃ اللہ» بھی ہے — ان کا یہ موقف نقل کرتا ہے کہ مذہب انسان کی پیداوار ہے اور اس میں کوئی شے مقدس نہیں، اور ساتھ یہ بھی درج کرتا ہے کہ انہوں نے خدا اور کائنات کی فطری وحدت کی تبلیغ کی اور نطشے کے «خدا کی موت» کے قول کو رد کیا۔ 1 2

    وفات اور آثار

    ان کا انتقال 4 اگست 1958 کو قاہرہ میں ہوا۔ انہوں نے تقریباً پینتالیس کتابیں لکھیں یا ترجمہ کیں، جن میں «الاشتراکیہ» (1913)، «حریۃ الفکر» (1927)، «تربیۃ سلامہ موسیٰ» (1947)، «هؤلاء علموني» (1953) اور «المرأۃ ليست لعبۃ الرجل» (1956) شامل ہیں، اور ان کی تحریریں مصر میں آج بھی اثر رکھتی ہیں۔ 1 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Influenced by
    احمد لطفی سید
    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    احمد لطفی سید· القاهرة· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608

    ماخذ

    1. Salama Moussa — English Wikipedia
    2. Salama Moussa — Arabic Wikipedia
    3. Salama Moussa — French Wikipedia
    4. Salama Moussa — Wikidata Q368209
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “سلامہ موسیٰ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/salama-moussa/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    احمد لطفی سید

    مصری مفکر اور سیاست دان (1872-1963)، اخبار «الجریدہ» اور حزب الامہ (1907) کے بانی، دار الکتب مصریہ کے سربراہ اور مصری جامعہ کے پہلے صدر۔ انہیں «استادِ نسل» کہا جاتا ہے اور وہ مصری قومیت اور لبرل ازم کے نمایاں نظریہ ساز تھے۔