اورحان پاموک

أورخان باموق

إسطنبول

ترکی ناول نگار، جو 1952 میں استنبول میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تعمیرات کی تعلیم چھوڑ کر خود کو لکھنے کے لیے وقف کیا اور اپنے شہر میں مشرق و مغرب اور روایت و جدیدیت کے تصادم کو اپنے ناولوں کا موضوع بنایا؛ ان کی کتابیں تریسٹھ زبانوں میں ایک کروڑ تیس لاکھ سے زائد فروخت ہوئیں۔ انہیں 2006 میں ادب کا نوبل انعام ملا — وہ نوبل پانے والے پہلے ترک بنے — ارمنیوں اور کردوں کے قتل کے بارے میں بیانات پر ان پر وطن میں مقدمہ چلا پھر الزامات ختم ہوئے، اور وہ کولمبیا یونیورسٹی میں استاد اور استنبول میں حقیقی «معصومیت میوزیم» کے بانی ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
novelist
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فریت اورحان پاموک ترک ناول نگار، اسکرین مصنف اور ماہرِ تعلیم ہیں، جو 7 جون 1952 کو استنبول میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تعمیرات کی تعلیم چھوڑ کر ادب اختیار کیا اور اپنے ناولوں کو اپنی آبائی شہر میں مشرقی و مغربی اقدار کے درمیان شناخت کی تلاش پر استوار کیا۔ ان کی کتابیں 63 زبانوں میں تیرہ ملین سے زائد نسخے فروخت ہو چکے ہیں، جس سے وہ ترکی کے سب سے زیادہ بکنے والے مصنف بنے۔ 2006 میں انہیں ادب کا نوبل انعام ملا — وہ نوبل پانے والے پہلے ترک ہیں — اور سویڈش اکیڈمی نے کہا کہ انہوں نے «اپنے آبائی شہر کی اداس روح کی تلاش میں ثقافتوں کے تصادم اور باہمی جڑاؤ کی نئی علامتیں دریافت کیں»۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ استنبول کے نشانتاشی محلے میں ایک امیر مگر زوال پذیر بالائی طبقے کے خاندان میں پلے بڑھے؛ ان کی دادی چرکس تھیں۔ انہوں نے رابرٹ کالج میں تعلیم پائی، استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی میں تین سال تعمیرات پڑھی — سات سے بائیس سال کی عمر تک وہ مصور بننا چاہتے تھے — پھر اسے چھوڑ کر 1976 میں استنبول یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف جرنلزم سے فارغ التحصیل ہوئے اور کبھی صحافی کے طور پر کام نہیں کیا۔ بائیس سے تیس سال کی عمر تک وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہے، اپنا پہلا ناول لکھتے اور ناشر تلاش کرتے رہے۔ 2 3

    ادبی سفر اور اعمال

    انہوں نے 1974 سے باقاعدہ لکھنا شروع کیا۔ ان کا پہلا ناول «جودت بے اور اس کے بیٹے» (1982) تین نسلوں کی کہانی ہے اور اسے اورحان کمال انعام ملا۔ اس کے بعد «خاموش گھر» (1983)، «سفید قلعہ» (1985) اور «سیاہ کتاب» (1990) آئے، اور «نئی زندگی» (1994) اس وقت تک کی سب سے تیز فروخت ہونے والی ترک کتاب بنی۔ «میرا نام سرخ ہے» (1998) سولہویں صدی کے استنبول میں قتل کی پراسراریت، محبت اور فلسفیانہ معموں کا امتزاج ہے؛ اس کا 24 زبانوں میں ترجمہ ہوا اور اسے 2003 میں انٹرنیشنل ڈبلن لٹریری ایوارڈ ملا۔ «برف» (2002) سرحدی شہر قارص میں لکھی گئی اور نیویارک ٹائمز کی 2004 کی دس بہترین کتابوں میں شامل ہوئی۔ ان کی یادداشت «استنبول: یادیں اور شہر» 2003 میں آئی۔ نوبل کے بعد کے ناول «معصومیت کا عجائب گھر» (2008) کے لیے انہوں نے استنبول میں واقع ایک مکان میں حقیقی عجائب گھر بنایا، جسے 2014 میں یورپی عجائب گھرِ سال کا اعزاز ملا۔ بعد کے ناول: «میرے سر میں ایک عجیب پن» (2014)، «سرخ بالوں والی عورت» (2016) اور «طاعون کی راتیں» (2021)۔ 2

    تدریس اور نوبل انعام

    وہ 1985–88 میں کولمبیا یونیورسٹی میں وزٹنگ اسکالر رہے، وہیں «سیاہ کتاب» کا بڑا حصہ لکھا، اور آج وہاں روبرٹ یک فونگ تام پروفیسر آف ہیومینیٹیز ہیں۔ انہوں نے 2009 میں ہارورڈ کی نورٹن لیکچرز دیں اور 2018 میں امریکن فلاسفیکل سوسائٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہیں 2006 میں ادب کا نوبل انعام ملا؛ ان کا نوبل خطبہ «میرے والد کا سوٹ کیس» تھا۔ 1 2

    مقدمہ

    فروری 2005 میں انہوں نے ایک سوئس رسالے سے کہا: «یہاں تیس ہزار کرد مارے گئے اور دس لاکھ آرمینیائی۔ اور تقریباً کوئی اس کا ذکر کرنے کی جرأت نہیں کرتا۔ تو میں کرتا ہوں۔» وکیل کمال کرنچسز کی شکایت پر ان پر تعزیرات کی دفعہ 301 کے تحت «ترکیت کی توہین» کا مقدمہ چلا۔ نفرت انگیز مہم نے انہیں عارضی طور پر ملک چھوڑنے پر مجبور کیا؛ وہ 2005 کے آخر میں واپس آئے۔ مقدمہ 16 دسمبر کو شروع ہوا مگر وزارتِ انصاف کی منظوری نہ ہونے پر رک گیا؛ 29 دسمبر کو مسلح افواج کی توہین کا الزام ختم ہوا، اور 22 جنوری 2006 کو وزارت نے منظوری دینے سے انکار کر دیا، یوں الزامات ختم ہو گئے۔ ان کی کتابیں بیلیجک میں ایک قوم پرست ریلی میں جلائی گئیں۔ کرنچسز کی اپیل کے بعد معاملہ دوبارہ کھلا، اور 27 مارچ 2011 کو ایک دیوانی عدالت نے انہیں مجرم قرار دے کر پانچ افراد کو 6,000 لیرا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ مقدمے پر بین الاقوامی احتجاج ہوا: یورپی پارلیمنٹ نے مبصر وفد بھیجا، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دفعہ 301 ختم کرنے کا مطالبہ کیا، اور آٹھ عالمی ادیبوں — ساراماگو، گارسیا مارکیز، گراس، ایکو، فوینتس، گوئیتسولو، اپڈائک اور ورگاس یوسا — نے ان کی حمایت میں مشترکہ بیان جاری کیا۔ جنوری 2008 میں ترک حکام نے «ارگینیکون» نیٹ ورک کے تیرہ انتہا پسند قوم پرست گرفتار کیے؛ اطلاعات کے مطابق پاموک اس کے قتل کے اہداف میں شامل تھے اور پولیس نے آٹھ ماہ پہلے انہیں آگاہ کر دیا تھا۔ 2

    مواقف اور تنقید

    اس حصے کو ماخذ میں منقول مختلف مواقف کی رپورٹ کے طور پر پڑھا جائے، عجائب گھر کے فیصلے کے طور پر نہیں۔

    عربی مضمون کے مطابق وہ مسلم دنیا کے پہلے مصنف تھے جنہوں نے سلمان رشدی کے خلاف ایرانی فتوے کی عوامی مذمت کی۔ انہوں نے ترکی کے کردوں کے سیاسی حقوق کی حمایت کی اور 1995 میں ان مصنفین میں شامل تھے جن پر کردوں کے ساتھ سلوک پر تنقیدی مضامین پر مقدمہ چلا۔ انہوں نے خود کو «ثقافتی مسلمان» کہا ہے، جو اسلام سے تاریخی و ثقافتی طور پر جڑا ہے مگر خدا سے ذاتی تعلق پر یقین نہیں رکھتا؛ عربی مضمون بھی کہتا ہے کہ وہ خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتے اور خود کو صرف ثقافتی مسلمان سمجھتے ہیں۔ قوم پرست مؤرخ مراد بارداقچی نے انہیں سرقے اور جعلسازی کا الزام لگایا، اور دعویٰ کیا گیا کہ «سفید قلعہ» میں فواد جارم کے ناول کے حرفی پیرے ہیں؛ 2009 میں جب بوسٹن بک فیسٹیول میں ان سے جواب مانگا گیا تو انہوں نے کہا: «نہیں، میں نہیں چاہتا۔ اگلا سوال؟» بہت سے لوگ ان الزامات کو مابعد جدید ادب اور بین المتنیت کی تکنیک سے ناواقفیت کا نتیجہ سمجھتے ہیں، جسے پاموک اپنے ناولوں میں کھلے عام استعمال کرتے ہیں۔ 3 2

    ذاتی زندگی اور اعزازات

    ان کے بڑے بھائی شوکت پاموک بوغازیچی یونیورسٹی میں عثمانی اقتصادی تاریخ کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے 1 مارچ 1982 کو آئلین تورے گون سے شادی کی؛ ان کی بیٹی رویا 1991 میں پیدا ہوئی («میرا نام سرخ ہے» اسی کے نام منسوب ہے) اور 2002 میں طلاق ہو گئی۔ 2011 سے وہ اصلی آقیاواش کے ساتھ ہیں اور 2022 میں ان سے شادی کی۔ ان کے اعزازات میں جرمن کتاب تجارت کا امن انعام (2005)، «برف» پر پرکس میدیسی (2005)، ٹائم میگزین کی سو بااثر شخصیات کی فہرست (2006)، ڈنمارک کا سوننگ انعام (2012) اور فرانسیسی لیجن آف آنر (2012) شامل ہیں، اس کے علاوہ کئی اعزازی ڈاکٹریٹیں بھی ملیں۔ 2

    حوالہ جات

    • اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • عربی مضمون مقدمے کے خاتمے کو 2006 کے آخر میں رکھتا ہے جبکہ انگریزی مضمون وزارتِ انصاف کے انکار کو 22 جنوری 2006 قرار دیتا ہے؛ یہاں انگریزی تاریخ اپنائی گئی ہے اور فرق درج ہے۔ نوبل صفحہ «میرا نام سرخ ہے» کو 2000 (اس کا انگریزی ایڈیشن) بتاتا ہے جبکہ ترک اصل 1998 کا ہے، جو یہاں اپنایا گیا ہے۔
    • بعد کی ترمیمات اور تراجم کو واضح تواریخ کے ساتھ وقتاً فوقتاً جائزے کی ضرورت ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Lived in
    إسطنبول
    Authored
    ثلج

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Orhan Pamuk — Nobel Prize facts page
    2. Orhan Pamuk — English Wikipedia
    3. أورخان باموق — ويكيبيديا العربية
    • Orhan Pamuk — Wikidata Q241248
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “اورحان پاموک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/orhan-pamuk/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.