نجیب فاضل قصاکورک

نجيب فاضل قصاكورك

–

إسطنبول

ترک شاعر، ناول نگار اور ڈراما نویس (1904–1983)، جدید ترکی میں اسلامی رجحان کے نمایاں نظریہ ساز۔ اپنے شعری مجموعے «قالدریملار» (فٹ پاتھ)، 1943 سے جاری کردہ مجلہ «بویوک دوغو» (مشرقِ عظیم) اور «اوپر سے اسلام کاری» کے نظریے کے لیے معروف؛ ان کی تحریروں نے ترک اسلام پسندوں کی نسلوں کو متاثر کیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الله الموسوي الشيرازي · الأكوع محمد بن علي · امادو ہامپاتے با · امین احسن اصلاحی

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد نجیب فاضل قصاکورک (26 مئی 1904 – 25 مئی 1983) ترک شاعر، ناول نگار اور ڈراما نویس تھے، اور جدید ترکی میں اسلامی رجحان کے نمایاں نظریہ ساز۔ انگریزی مضمون انہیں «اسلامی نظریہ ساز اور سازشی مفکر» کہتا ہے۔ 1 2

    وہ اپنے شعری مجموعے «قالدریملار» (فٹ پاتھ، 1928)، 1943 سے جاری اپنے مجلے «بویوک دوغو» (مشرقِ عظیم)، اور حکومت پر قبضے کے ذریعے «اوپر سے اسلام کاری» کے نظریے کے لیے معروف ہیں۔ 1970 کی دہائی کے اواخر سے وہ ترک اسلام پسندوں کے آئیکن بن گئے، اور رجب طیب ایردوان نے طالب علمی میں ان سے ملاقات کی اور اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں ان کے جنازے میں شرکت کی۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    قصاکورک استنبول کے چمبرلی تاش محلے میں ایک بڑی حویلی میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد قاضی تھے، والدہ کریٹ سے آئی ہوئی مہاجر، اور پرورش دادا کے گھر ہوئی، جن سے انہوں نے پانچ سال کی عمر میں پڑھنا لکھنا اور قرآن سیکھا۔ 1 2

    انہوں نے رابرٹ کالج اور بحری اسکول سمیت کئی اداروں میں تعلیم حاصل کی، 1921–1924 میں دارالفنون سے فلسفہ میں سند لی، اور ایک سال پیرس میں وظیفے پر رہے۔ پھر 1926 سے 1939 تک بینکوں میں ملازمت کی اور انقرہ و استنبول میں تدریس کی، بعد ازاں سرکاری ملازمت چھوڑ کر تحریر و صحافت کو ذریعہ معاش بنایا۔ 1

    صوفیانہ موڑ

    1934 میں ان کی ملاقات نقشبندی شیخ عبدالحکیم ارواسی سے ہوئی اور وہ 1943 میں شیخ کی وفات تک ان کے نمایاں مرید رہے؛ عربی مضمون اس ملاقات کو ان کی زندگی کا نقطۂ انقلاب کہتا ہے، اور اسی نسبت سے انہوں نے اپنی کتاب «او بن» (وہ اور میں) لکھی۔ 1 2

    مجلے اور مؤلفات

    1936 میں انہوں نے «آغاچ» (درخت) مجلہ نکالا، پھر 1943 میں «بویوک دوغو» کا آغاز کیا جو وقفوں سے جاری رہا اور جس میں سعید نورسی کے مضامین بھی شائع ہوئے؛ 1978 میں متنازع مضامین کی بنا پر ان پر مقدمہ چلا اور مجلہ بند ہو گیا۔ 1 2

    ان کی نمایاں کتب میں شعری مجموعے «اورومچک آغی» (1925)، «قالدریملار» (1928)، «چیلے» (اضطراب)، ڈرامے «بر آدم یاراتماق» اور «صبر تاشی» — جس نے 1947 میں CHP ڈراما مقابلے کا پہلا انعام جیتا — اور فکری کتب «ایدیولوژیا اورگوسو» (1968) اور «او بن» (1974) شامل ہیں۔ 1

    مؤلفات

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    إسطنبول
    Lived in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Necip Fazıl Kısakürek — English Wikipedia
    2. نجيب فاضل — ويكيبيديا العربية
    • Necip Fazıl Kısakürek — Wikidata Q469840
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “نجیب فاضل قصاکورک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/necip-fazil-kisakurek/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.