ایک نظر میں
- کردار
- شاعر · عالم
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
یحییٰ بن علی بن نصوح الرومی (1533–1599ء)، جو اپنے شعری لقب نوعی (نوعی آفندی) سے مشہور ہیں، عثمانی دیوان شاعر اور عالم تھے۔ وہ 940ھ (1533–34ء) میں مالقرہ میں پیدا ہوئے، استنبول میں تعلیم پائی، غالیبولی، ادرنہ اور استنبول کے مدارس میں پڑھایا، اور ان کا پیشہ ورانہ سفر سلطان مراد ثالث کے بیٹوں کے اتالیق بننے پر اختتام پذیر ہوا۔ 1 انگریزی مضمون انھیں اپنے قرن کے اہم ترین عثمانی شعرا میں شمار کرتا ہے اور ان کا لقب «اپنے زمانے کے عالم» نقل کرتا ہے۔ 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
ان کے والد پیر علی، نصوح خلیفہ کے بیٹے تھے — نصوح انقرہ سے آ کر مالقرہ میں بسے تھے — اور وہ ایک خلوتی شیخ تھے جو طورخان بے مسجد کے امام اور اس کے ابتدائی مکتب کے معلم رہے اور 952ھ (1545ء) میں وفات پائی؛ ان کی والدہ «المحمدیہ» کے مصنف یازجی اوغلو محمد کی نسل سے تھیں۔ نوعی نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، پھر 957ھ (1550ء) میں استنبول گئے، جہاں انھوں نے «الاخوین» کے نام سے مشہور دو بھائیوں کے دروس میں شرکت کی: قارامانی آخی زادہ احمد آفندی کے داود پاشا مدرسے میں اور محمد آفندی کے صحن میں، خواجہ سعد الدین اور شاعر باقی جیسے آئندہ ناموروں کے ساتھ۔ پھر وہ اپنے استاد آخی زادہ محمد آفندی کے ساتھ 962ھ (1555ء) میں ادرنہ گئے اور ان کے ساتھ استنبول کی سلیمانیہ واپس آئے اور 970ھ (1563ء) میں ملازم (عہدے کے امیدوار) بنے۔ 1
پیشہ ورانہ زندگی
973ھ (1566ء) میں انھیں غالیبولی کے بالابان پاشا اور مسیح پاشا مدارس میں مدرس بنا کر بھیجا گیا، اور 980ھ (1572ء) سے انھوں نے استنبول کے شاہ قولو، مراد پاشا، جعفر آغا اور مہرماہ سلطان مدارس میں پڑھایا؛ ان کا آخری طویل عہدہ چنارلی مدرسہ (1587–1590ء) تھا۔ 1590ء میں بغداد کے قاضی مقرر ہوئے مگر جانا نہ چاہا، تو مراد ثالث نے انھیں شہزادہ مصطفیٰ کا اتالیق بنا دیا، جن کے دروس میں شہزادے بایزید، عثمان اور عبد اللہ بھی شریک ہوئے؛ یہ اتالیقی 1003ھ (1595ء) میں شہزادوں کے قتل تک جاری رہی، جس کے بعد وہ قاضی عسکر درجے کی پنشن پر گزارا کرتے رہے۔ 1 انھوں نے 993ھ (1585ء) میں شادی کی، اور ان کے بیٹے نوعی زادہ عطائی خود بھی دیوان شاعر اور سوانح نگار بنے۔ 3
صوفیانہ تربیت
ایک شیخ والد کی آغوش میں پرورش پا کر انھوں نے دس برس کی عمر میں والد کی ہدایت پر ذکر شروع کیا، پہلے سرخوش بالی آفندی کے مرید ہوئے، پھر کرد محمد آفندی کے مرید بنے، اور بعد میں شیخ شعبان آفندی سے تربیت پائی؛ اس صوفیانہ پرورش کے آثار ان کی شاعری میں جھلکتے ہیں۔ 1 انگریزی مضمون ان کی الٰہیات کو اکبری روایت میں رکھتا ہے — ابن عربی کا مکتب، جن کی فصوص الحکم کا انھوں نے ترجمہ کیا۔ 2 1
تصانیف
ان کا دیوان، جو استنبول کے مخطوطات سے تنقیدی طور پر مرتب ہوا، 58 قصائد، 559 غزلوں اور بہت سی چھوٹی اصناف پر مشتمل ہے۔ 1 ان کی منظوم تصانیف میں «ترجمۂ حدیث اربعین» ہے — چالیس احادیث کا منظوم ترجمہ جو 977ھ (1569ء) میں غالیبولی میں لکھا گیا — اور «حسب حال»، تقریباً 800 اشعار کی مثنوی جو تصوف کی تشریح کرتی ہے، اپنے شیخ بالی آفندی کے اشارے پر لکھی گئی اور مراد ثالث کو پیش کی گئی۔ 1 نثر میں وہ «نتائج الفنون و محاسن المتون» کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں — بارہ علوم کی ایک مختصر موسوعہ جو مراد ثالث کو پیش کی گئی — اور «کشف الحجاب من وجہ الکتاب» کے لیے، جو ابن عربی کی فصوص الحکم کا ان کا ترجمہ ہے اور 1002ھ (1593ء) میں جندی، داؤد قیصری اور ملا جامی کی شرحوں کی مدد سے مکمل ہوا۔ 1 انگریزی مضمون ان کی ایک رسالے کا بھی ذکر کرتا ہے جس میں عقیدے کے اشعری اور ماتریدی مکاتب کے اختلافات بیان کیے گئے ہیں۔ 2 ان کے بیٹے نے ان کی تفسیر، کلام، تصوف، عقائد اور منطق میں تیس سے زائد تصانیف درج کیں، جن میں سے بیشتر ابھی تک دستیاب نہیں ہوئیں۔ 1
دین و مذہب
انگریزی مضمون، جبریل حداد کی کتاب «المدرسۃ الماتریدیہ» (2021ء)، ص 132 کے حوالے سے، نوعی کو سنی حنفی ماتریدی فقیہ و متکلم قرار دیتا ہے۔ 2 مگر ترکی موسوعۂ اسلام، جو مکمل پڑھی گئی، ان کے لیے کوئی فقہی مذہب یا عقیدہ نامزد نہیں کرتی، اور ویکی ڈیٹا صرف «اسلام» درج کرتا ہے۔ 1 3 اس لیے عجائب گھر حنفی ماتریدی شہادت کو اپنائے بغیر محفوظ رکھتا ہے؛ جو کچھ مستند ہے وہ ان کا علمی سفر اور ان کا صوفیانہ انتساب ہے جیسا کہ موسوعہ نے درج کیا ہے۔ 1
وفات
انھوں نے 30 ذی القعدہ 1007ھ (24 جون 1599ء) کو استنبول میں وفات پائی اور شیخ وفا مسجد کے احاطے میں اپنے شیخ شعبان آفندی کے پہلو میں دفن ہوئے۔ وہ جو مال بھی ان کے ہاتھ لگتا محتاجوں میں بانٹ دیتے تھے اور وفات کے وقت کچھ نہ چھوڑا، چنانچہ ان کے کفن دفن کے اخراجات سلطان نے برداشت کیے۔ 1
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- NEV'Î — TDV İslâm Ansiklopedisi
- Naw'i Efendi — English Wikipedia
- Naw'i Efendi — Wikidata (Q126365591)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “نوعی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/nawi-efendi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.