ایک نظر میں
- کردار
- حکمران · sultan
- خطہ
- persia-central-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
shia-twelver (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد خدا بندہ (پیدائش 1532ء؛ وفات 1595ء یا 1596ء) ایران کے چوتھے صفوی شاہ تھے، جنھوں نے 1578ء سے 1587ء میں اپنے بیٹے عباس اول کے حق میں معزولی تک حکومت کی۔ وہ شاہ طہماسپ اول کے بیٹے اور خاندان کے بانی اسماعیل اول کے پوتے تھے۔ آنکھوں کی بیماری کے باعث تقریباً نابینا ہونے کی وجہ سے 1576ء میں والد کی وفات پر ان کے چھوٹے بھائی اسماعیل دوم کو ان پر ترجیح دی گئی، اور وہ بھائی کے مختصر و خونیں عہد کے بعد ہی تخت پر آئے۔ 1
ابتدائی زندگی
وہ تبریز میں پیدا ہوئے — عربی مضمون اور وکی ڈیٹا ان کی پیدائش 1532ء کے بجائے 1531ء بتاتے ہیں، اور وکی ڈیٹا جائے پیدائش اردبیل لکھتا ہے۔ بچپن میں انھیں ہرات کا رسمی گورنر بنایا گیا، اور 1572ء میں شیراز کا گورنر مقرر ہوئے جہاں شہر کے شعرا و فنکاروں کی صحبت نصیب ہوئی۔ وہ خود بھی شاعر تھے اور «فہمی» تخلص کرتے تھے۔ 1 2 3
تخت نشینی
جب اسماعیل دوم 25 نومبر 1577ء کو اچانک فوت ہوئے تو قزلباش سرداروں نے پہلے ان کے شیرخوار بیٹے کو تخت پر بٹھانے پر غور کیا، پھر خدا بندہ پر اتفاق کیا: بوڑھے، تقریباً نابینا اور عیش پسند ہونے کی وجہ سے وہ ان کے موافق تھے جو ان کے نام پر حکومت کرنا چاہتے تھے۔ وہ 12 فروری 1578ء کو قزوین میں داخل ہوئے۔ اصل طاقت ابتدا میں ان کی توانا اہلیہ خیر النساء بیگم، مہدِ علیا، کے ہاتھ میں رہی، جنھوں نے ان کا تخت مستحکم کیا اور بڑے بیٹے حمزہ مرزا کو آگے بڑھایا — حتیٰ کہ 26 جولائی 1579ء کو قزلباش سازشیوں کے ایک گروہ نے ان کا گلا گھونٹ دیا۔ 1
کمزور ہوتا تاج
ان کا عہد صفوی دور کی دوسری خانہ جنگی سے عبارت تھا: قزلباش گروہوں کا دربار پر غلبہ رہا، انھوں نے 1583ء میں شاہ کو وزیر مرزا سلمان کے قتل پر مجبور کیا، اور حریف بیٹوں کو ولی عہد کے طور پر آگے کیا۔ ولی عہد حمزہ مرزا 6 دسمبر 1586ء کو قتل ہوئے۔ بیرونِ ملک عثمانی سلطان مراد سوم نے 1578ء میں جنگ شروع کی جو 1590ء تک جاری رہی؛ شیروان و جارجیا ہاتھ سے گئے، اور 1585ء میں ایک عثمانی فوج نے پرانا دار الحکومت تبریز لے لیا جو بیس سال عثمانیوں کے پاس رہا۔ 1
معزولی و وفات
جب ازبکوں نے خراسان پر حملہ کیا تو استاجلو سردار مرشد قلی خان اپنے زیرِ کفالت شہزادے عباس مرزا کو لے کر قزوین آئے، جہاں اکتوبر 1587ء میں عباس کو شاہ قرار دیا گیا۔ خدا بندہ نے مزاحمت کی کوئی کوشش نہ کی اور معزولی قبول کر لی۔ کچھ عرصہ دار الحکومت میں رہے، پھر کہا جاتا ہے کہ الموت کے قلعے میں جلاوطن کر دیے گئے۔ اسکندر بیگ منشی ان کی وفات قزوین میں 21 جولائی 1595ء سے 10 جولائی 1596ء کے درمیان درج کرتے ہیں؛ عربی مضمون اور وکی ڈیٹا جولائی 1595ء بتاتے ہیں۔ وہ کربلا میں روضۂ امام حسین میں دفن ہوئے۔ 1 2 3
مذہب
تعلقات
- Parent of
- عباس اول
- Child of
- طهماسب الأول
- Sibling of
- إسماعيل الثاني
- Born in
- تبريز
- Died in
- قزوين
- Buried in
- كربلاء
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
احمد شاہ قاجار· محمد علی شاہ قاجار· ملك البهلوان مدينة تبريز· معركة فجوة كربلاء· فتح قزوين وزنجان· هدم قبر الحسين· ملك جلال الدين أذربيجان· عود جلال الدين إلى تبريز وملكه كنجة
ماخذ
- Mohammad Khodabanda — English Wikipedia
- Mohammad Khodabanda — Arabic Wikipedia
- Mohammad Khodabanda — Wikidata (Q353091)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد خدا بندہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammad-khodabanda-safavi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.