عبد اللہ خان دوم

عبد الله خان الثاني

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

سمرقند → بخارى

بخارا کے شیبانی خان (خانِ اعلیٰ 1583–1598ء)، اسکندر خان کے بیٹے۔ انھوں نے شیبانی ریاستوں کو دوبارہ متحد کیا، 1557ء میں بخارا لیا، بلخ، تاشقند، فرغانہ، بدخشاں، خراسان اور خوارزم فتح کیے، سکوں کی اصلاح کی اور سمرقند میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1475عیسوی1500عیسوی1525عیسوی1550عیسوی1575عیسوی1600عیسوی1625عیسوی1650عیسوی تقریباً
الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك · إمبراطوريات البارود · العصر المغولي وما بعده ہم عصر: علاء الدين التبريزي · نوعی · صادقی بیگ افشار · شاه سليمان نوري · محمد خدا بندہ

مکان میں

سمرقندبخارى

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد اللہ خان دوم (1533/4–1598ء)، جو ’’خانِ بزرگ‘‘ یعنی عظیم خان کے نام سے جانے جاتے ہیں، بخارا کی خانیت کے ازبک حکمران اور بخارا کے آخری بلا مقابلہ شیبانی خان تھے، جنھوں نے 1583ء سے اپنی وفات تک حکومت کی۔ 1 وہ اسکندر خان کے بیٹے تھے اور اپنے والد کے دور میں اصل اقتدار انھی کے ہاتھ میں تھا۔ 1 2

    پیدائش اور عروج

    وہ دریائے زرافشاں کے ایک جزیرے پر واقع آفرینکینت میں پیدا ہوئے؛ انگریزی مضمون ان کی پیدائش 1533ء یا 1534ء بتاتا ہے، جبکہ موسوعۂ ایرانیکا ’شرفنامۂ شاہی‘ کی پیروی میں اسے اژدھے کے سال 1532–33ء میں رکھتا ہے۔ 1 2 کرمینے کے حاکم کی حیثیت سے انھوں نے تاشقند کے خان کے خلاف مزاحمت کی قیادت کی، 1557ء میں جویباری شیوخ کی مدد سے بخارا لیا، اور 1561ء میں اپنے والد اسکندر کو خانِ اعلیٰ قرار دلوایا جبکہ امورِ سلطنت اپنے ہاتھ میں رکھے۔ 1 2

    اتحاد اور توسیع

    انھیں 1582ء تک چاروں شیبانی ریاستوں — بخارا، سمرقند، تاشقند اور بلخ — کو ایک ریاست میں متحد کرنے میں وقت لگا، اور 1583ء میں والد کی وفات پر وہ خان قرار پائے۔ 1 پھر انھوں نے بدخشاں (1584ء) اور خراسان (1588ء سے) لیے، 1593–94ء میں خوارزم فتح کیا، مراحل میں سکوں کی اصلاح کی، اور مغل ہندوستان، سلطنتِ عثمانیہ اور روس سے تعلقات رکھے، جن میں اکبر سے عدم جارحیت کا معاہدہ بھی شامل تھا۔ 1 2

    سرپرستی

    انھوں نے وسیع تعمیرات کیں — مدرسے اور خانقاہیں، بازار، کارواں سرائے، حوض اور پل — جن میں بخارا کی کوش مدرسہ بھی شامل ہے، اور اپنے گرد علما، شعرا اور مؤرخین کو جمع کیا؛ خود بھی ’عوض غازی‘ کے قلمی نام سے شعر کہے۔ 1

    وفات

    اپنے بیٹے عبد المؤمن کی بغاوت سے فائدہ اٹھانے والے قازاقوں سے جنگ کی تیاری کے دوران وہ 1598ء میں — موسوعۂ ایرانیکا کے مطابق سمرقند میں — وفات پا گئے اور بخارا کے قریب بہاؤالدین نقشبندی کے مزار پر دفن ہوئے۔ 1 2 3

    مذہب

    پڑھے گئے کسی ماخذ نے ذاتی طور پر ان کا کوئی مسلک نہیں بتایا: عربی مضمون کے خانے میں ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ درج ہے اور باقی مضامین کوئی مذہب نہیں بتاتے۔ ان کا دربار سنی شیبانی حکمرانی کا مرکز تھا جسے جویباری نقشبندی شیوخ کی قریبی حمایت حاصل تھی، اور ان کا ریکارڈ مذہب کو اسی دستاویزی سطح پر رکھتا ہے۔ 4 2 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    سمرقند
    Buried in
    بخارى

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    سمعانی کا طلبِ حدیث کا پہلا بڑا سفر، 529-538ھ/1135-1143ء· سمعانی کا تیسرا سفر بیٹے عبدالرحیم کے ساتھ ماوراء النہر، 549-552ھ/1154-1157ء· البيروني يلجأ إلى بخارى· مقتل السلطان ألب أرسلان وقيام ملكشاه· امام بخاری کی پیدائش بخارا میں، شوال 194ھ/810ء· بخاری کا پہلا سماعِ حدیث بخارا میں، 205ھ/820ء· فتح بخارى· وفاة قثم بن العباس بسمرقند

    ماخذ

    1. Abdullah Khan II — English Wikipedia
    2. Encyclopaedia Iranica — ʿAbdallāh Khan b. Eskandar (Bregel)
    3. Abdullah Khan II — Wikidata
    4. Abdullah Khan II — Arabic Wikipedia
    • Abdullah Khan II — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد اللہ خان دوم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdullah-khan-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    سمعانی کا طلبِ حدیث کا پہلا بڑا سفر، 529-538ھ/1135-1143ء

    سمعانی نے تیس برس سے پہلے اور بعد میں خراسان، اصفہان، عراق، حجاز، شام، طبرستان اور ماوراء النہر کا سفر کیا ۔ پہلے بڑے سفر (529-538ھ/1135-1143ء) میں وہ اصفہان اور ہمدان سے بغداد اور اس کے نواح، مکہ اور مدینہ، دمشق اور بیت المقدس گئے — جس کی زیارت 536ھ/1141ء میں ہوئی جب وہ 42 برس سے صلیبیوں کے قبضے میں تھا — اور شمال و مشرق میں خوارزم، سمرقند، بخارا، بلخ اور ہرات گئے ۔