محمد شیاع السودانی

محمد شياع السوداني

بغداد

محمد شیاع صبار السودانی (پیدائش 4 مارچ 1970ء) ایک عراقی سیاست دان ہیں جو 27 اکتوبر 2022ء سے 14 مئی 2026ء تک مصطفى الکاظمی کے جانشین کے طور پر عراق کے وزیرِ اعظم رہے۔ وہ زرعی انجینئر ہیں، میسان کے ایک خاندان سے ہیں جن کے والد کو 1980ء میں حزب الدعوۃ کی رکنیت پر پھانسی دی گئی؛ وہ 2009ء–2010ء میں گورنر میسان، 2010ء–2014ء میں وزیرِ انسانی حقوق اور 2014ء–2018ء میں وزیرِ محنت و سماجی امور رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

مکان میں

بغداد

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی

    السودانی 4 مارچ 1970ء کو بغداد میں جنوبی صوبے میسان سے تعلق رکھنے والے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد زرعی تعاونی بینک کے ملازم تھے۔ جب وہ تقریباً دس برس کے تھے تو ان کے والد اور خاندان کے پانچ دیگر افراد کو اس وقت کی ممنوعہ حزب الدعوۃ الاسلامی کی رکنیت پر پھانسی دی گئی۔ انہوں نے بغداد یونیورسٹی سے زرعی سائنس میں بیچلر اور پراجیکٹ مینیجمنٹ میں ماسٹر کیا، اور 1997ء سے میسان کے محکمہ زراعت میں کام کر کے اس کے شعبہ زرعی پیداوار کے سربراہ بنے اور ایف اے او کے قومی تحقیقی پروگرام کے نگران انجینئر رہے۔ 1

    سیاسی زندگی

    2003ء کے حملے کے بعد السودانی حزب الدعوۃ میں شامل ہوئے، 2004ء میں عمارہ کے میئر مقرر ہوئے، میسان صوبائی کونسل کے رکن بنے اور 2009ء میں گورنر میسان بنے۔ وہ 2010ء سے 2014ء تک وزیرِ انسانی حقوق اور 2014ء سے 2018ء تک وزیرِ محنت و سماجی امور رہے اور کئی دیگر وزارتیں قائم مقام کے طور پر بھی سنبھالیں، جن میں صنعت، تجارت، مالیات اور زراعت شامل ہیں۔ 2019ء میں انہوں نے دعوۃ پارٹی چھوڑ کر فراتین تحریک بنائی۔ ان کے نام کا جزو «شیاع» ان کے والد کا ذاتی نام ہے، کوئی مذہبی لقب نہیں۔ 1 2

    وزارتِ عظمیٰ

    رابطہ فریم ورک کے نامزد اور صدر عبد اللطیف رشید کے مقرر کردہ السودانی نے 27 اکتوبر 2022ء کو منصب سنبھالا۔ ان کی حکومت کو «صدی کی چوری» کے نتائج کا سامنا کرنا پڑا، یعنی ان کے پیش رو کے دور میں ٹیکس رقوم کے تقریباً 2.5 ارب ڈالر کا غائب ہونا۔ 2025ء میں «مسلم 500» نے انہیں بااثر ترین مسلم سیاست دانوں میں شمار کیا۔ ان کی مدت 14 مئی 2026ء کو ختم ہوئی اور علی الزيدی ان کے جانشین بنے۔ 1

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔ انگریزی مقالہ کہتا ہے کہ وہ ایک شیعہ عرب خاندان میں پیدا ہوئے، جو ان کی سرکاری سوانح سے ماخوذ خاندانی پس منظر ہے؛ عربی معلوماتی خانے کے مذہب و فرقے کے خانے اور اس کی شیعہ زمرہ بندی ایک ہی معلوماتی خاندان ہے؛ ویکی ڈیٹا اسلام عمومی دیتا ہے؛ اور ان کی دعوۃ پارٹی رکنیت حزبی وابستگی ہے۔ کوئی دو آزاد متن ان کا ذاتی مکتب نہیں بتاتے۔ 1 2 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    بغداد
    Successor of
    مصطفی الکاظمی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    مصطفی الکاظمی· بغداد· المدرسة النظامية ببغداد· بيت الحكمة (خزانة الحكمة)· البيمارستان العضدي· المارستان المقتدري· مارستان السيدة· دار العلم ببغداد (دار العلم السابورية)

    ماخذ

    1. Mohammed Shia' al-Sudani — English Wikipedia
    2. Mohammed Shia' al-Sudani — Arabic Wikipedia
    3. Mohammed Shia' al-Sudani — Wikidata Q3700793
    • Mohammed Shia' al-Sudani — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد شیاع السودانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammed-shia-al-sudani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    مصطفی الکاظمی

    مصطفى عبد اللطیف مشتت الغریباوی، معروف بہ مصطفى الکاظمی (پیدائش 5 جولائی 1967ء)، ایک آزاد عراقی سیاست دان ہیں جو 7 مئی 2020ء سے 27 اکتوبر 2022ء تک عراق کے وزیرِ اعظم رہے۔ وہ 2016ء سے 2022ء تک عراقی قومی انٹیلی جنس سروس کے سربراہ رہے، اس سے پہلے صحافی اور عراق میموری فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر تھے، اور نومبر 2021ء میں ڈرون قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔