ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · engineer
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد محمد مرسی عیسیٰ العیاط (1951ء–2019ء) مصری انجینئر، استادِ جامعہ اور اخوان المسلمین کے سیاست دان تھے۔ وہ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے صدر بنے، جون 2012ء کے صدارتی انتخاب میں 51.73 فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے اور مصر کے پانچویں صدر اور پہلے جمہوری طور پر منتخب سویلین سربراہِ مملکت بنے۔ 3 جولائی 2013ء کو وسیع احتجاج کے بعد فوج نے انہیں معزول کر دیا؛ باقی زندگی وہ حراست میں رہے اور 17 جون 2019ء کو قاہرہ میں عدالتی سماعت کے دوران وفات پا گئے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 8 اگست 1951ء کو مصر کے زیریں علاقے کے صوبہ شرقیہ کے گاؤں العدوان میں پیدا ہوئے؛ وہ پانچ بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور ان کے والد کسان تھے۔ اردو مقالہ بتاتا ہے کہ بچپن میں وہ گدھے پر سوار ہو کر اسکول جایا کرتے تھے۔ 1960ء کی دہائی میں وہ قاہرہ آئے، 1975ء میں جامعہ قاہرہ سے انجینئرنگ کی ڈگری لی، فوج کی کیمیائی جنگی یونٹ میں خدمات انجام دیں اور 1978ء میں جامعہ قاہرہ سے دھات کاری میں ماسٹرز کیا۔ اسکالرشپ پر امریکا گئے اور 1982ء میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے مادیات میں پی ایچ ڈی کی۔ وکی ڈیٹا میں ان کی پیدائش کی ایک دوسری قیمت، 20 اگست 1951ء، بھی درج ہے جس کی تائید کوئی مقالہ نہیں کرتا؛ یہ اختلاف ان کے ریکارڈ میں درج ہے۔ 1 3 4
تدریسی و سیاسی آغاز
1982ء تا 1985ء وہ کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی، نارتھریج میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے اور خلائی شٹل کے انجنوں پر کام کرنے والی ناسا کی ٹیم سے وابستہ رہے۔ 1985ء میں مصر واپس آ کر جامعہ زقازیق میں پروفیسر بنے اور بعد میں اس کے شعبۂ انجینئرنگ کے صدر ہوئے؛ 2010ء تک وہاں پڑھاتے رہے۔ صدر حسنی مبارک کے دور میں اخوان المسلمین پر امیدوار کھڑے کرنے کی پابندی تھی، اس لیے وہ 2000ء تا 2005ء آزاد رکن کی حیثیت سے مجلسِ عوام میں بیٹھے۔ 28 جنوری 2011ء کو انقلاب کے دوران وہ اخوان کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار ہوئے اور دو دن بعد وادی نطرون جیل سے فرار ہو گئے۔ 1 3
پارٹی کے صدر، پھر صدرِ مصر
2011ء میں اخوان نے فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی بنائی تو مرسی اس کے پہلے صدر بنے۔ وہ جماعت کے محفوظ امیدوار تھے اور خیرت الشاطر کی نااہلی کے بعد میدان میں آئے؛ جون 2012ء کے دوسرے مرحلے میں کامیاب ہو کر 30 جون کو منصب سنبھالا۔ ان کی صدارت میں عدلیہ اور فوج سے ٹکراؤ رہا: نومبر 2012ء میں انہوں نے ایک آئینی اعلان جاری کیا جس سے ان کے فیصلے عدالتی جائزے سے باہر ہو گئے، اور اسلام پسند اکثریت والی آئین ساز اسمبلی کا تیار کردہ آئین ریفرنڈم میں منظور ہوا۔ ان کے اقتدار کی سالگرہ پر بڑے احتجاج کے بعد 3 جولائی 2013ء کو فوج نے انہیں ہٹا دیا۔ مقالات یہی ترتیب بیان کرتے ہیں؛ عجائب گھر متنازع واقعات پر فیصلہ کیے بغیر مناصب اور تاریخیں درج کرتا ہے۔ 1 2
مقدمات اور وفات
حراست میں ان پر کئی مقدمات چلے۔ مئی 2015ء میں وادی نطرون جیل توڑنے کے مقدمے میں انہیں سزائے موت سنائی گئی؛ نومبر 2016ء میں عدالتِ نقض نے سزا کالعدم قرار دے کر دوبارہ سماعت کا حکم دیا۔ 17 جون 2019ء کو قاہرہ میں عدالتی سماعت کے دوران وہ گر پڑے اور وفات پا گئے، سرکاری طور پر دل کا دورہ سبب بتایا گیا؛ انہیں قاہرہ کے نصر سٹی میں اخوان کے دیگر رہنماؤں کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ مقالات میں مذکور ناقدین نے ان کی موت کو حراست کے حالات اور بگڑتی صحت سے جوڑا اور اخوان نے اسے دانستہ قتل کہا؛ دونوں موقف اپنے مصادر سے منقول ہیں اور یہیں اسی حیثیت میں درج ہیں۔ 1 3
ان کا مذہب، جیسا کہ مصادر دیتے ہیں
تینوں مقالات کی متون ان کی اخوان المسلمین سے وابستگی کی تصدیق کرتی ہیں۔ مسلک کے بارے میں وہ مختلف ہیں: عربی مقالے کا معلوماتی خانہ ان کا مذہب ”مسلم سنی“ دیتا ہے، اردو خانہ صرف اسلام لکھتا ہے، انگریزی مقالہ کوئی مسلک نہیں بتاتا، اور وکی ڈیٹا کی قیمت بھی عمومی اسلام ہے۔ اس عجائب گھر کے اصول کے تحت — مسلک اسی وقت درج ہوتا ہے جب دو آزاد مصادر اسے نام لیں، اور ایک معلوماتی خانہ ایک ہی مصدری خاندان ہے — ان کا مذہب ”نامعلوم“ درج ہے اور سنی قرأت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں بانی کے فیصلے کے لیے محفوظ ہے۔ 2 3 4
مصادر
- اوپر مذکور معرّف مصدری اکائیاں، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مقالے کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر حقیقت بدلنے والے مصدر کا نام لینا چاہیے۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ
ماخذ
- Mohamed Morsi — English Wikipedia
- Mohamed Morsi — Arabic Wikipedia
- Mohamed Morsi — Urdu Wikipedia
- Mohamed Morsi — Wikidata Q4631
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد مرسی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohamed-morsi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.