ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- arabia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
تعلیم اور عسکری زندگی
محمد نے ابوظبی اور العین میں تعلیم حاصل کی اور 1979ء میں رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ وہ مسلح افواج میں شامل ہوئے، فضائیہ میں پائلٹ بنے اور 2005ء میں جنرل کے عہدے پر ترقی پائی۔ بچپن میں ان کے والد نے انجانے میں اخوان المسلمون کے ایک معزز رکن، عز الدین ابراہیم، کو ان کا استاد مقرر کیا تھا؛ انگریزی مقالہ بیان کرتا ہے کہ اس تلقین کی کوشش الٹ گئی اور جماعت سے ان کی دائمی بدظنی کی بنیاد بنی، جیسا کہ انہوں نے 2007ء میں امریکی سفارت کاروں سے کہا: «میں عرب ہوں، میں مسلم ہوں اور میں نماز پڑھتا ہوں۔ اور 1970ء کی دہائی اور 1980ء کی دہائی کے اوائل میں میں ان میں سے ایک تھا۔» 1 2
ولی عہد، عملی قائد، پھر صدر
2004ء میں والد کی وفات اور خلیفہ کے صدر بننے پر محمد ابوظبی کے ولی عہد بنے۔ جنوری 2014ء میں خلیفہ کو فالج ہونے کے بعد وہ امارات کے عملی قائد بن گئے اور خلیفہ کی بقیہ زندگی ریاست کے عوامی امور اور ابوظبی کے روزمرہ فیصلے چلاتے رہے۔ 13 مئی 2022ء کو خلیفہ کی وفات پر وہ ابوظبی کے حکمران بنے اور اگلے دن وفاقی سپریم کونسل نے انہیں صدر منتخب کیا۔ مارچ 2023ء میں انہوں نے اپنے صاحبزادے خالد بن محمد کو ابوظبی کا ولی عہد مقرر کیا۔ نیویارک ٹائمز نے 2019ء میں انہیں طاقتور ترین عرب حکمران قرار دیا، اور ٹائم میگزین نے انہیں اسی سال کی 100 بااثر ترین شخصیات میں شامل کیا۔ 1
خارجہ پالیسی
مصادر ایک مداخلت پسند خارجہ پالیسی بیان کرتے ہیں جس کی محرک اخوان المسلمون اور ایران و اس کے پراکسیوں کی مخالفت ہے۔ ان کی قیادت میں امارات نے عراق و شام میں داعش کے خلاف جنگ اور یمن میں سعودی قیادت والی مداخلت میں حصہ لیا — تاہم سعودی عرب سے یمنی جماعت الاصلاح کی حمایت پر اختلاف ہوا، جب کہ محمد جنوبی عبوری کونسل کی حمایت کرتے رہے — اور 2017ء کے قطر بحران کی قیادت کی، جس میں امارات، سعودی عرب، بحرین اور دیگر نے اخوان کی حمایت کے الزام پر قطر سے تعلقات قطع کیے۔ سوڈان کی خانہ جنگی میں مقالہ انہیں ریپڈ سپورٹ فورسز کا مرکزی حامی بتاتا ہے۔ اوباما انتظامیہ سے ایران جوہری معاہدے پر ان کے تعلقات کشیدہ ہوئے اور انہوں نے امریکی انخلا کی حمایت کی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلق رکھا، اور 2020ء میں امارات نے اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدوں پر دستخط کیے۔ یہ مواقف یہاں ویسے ہی نقل ہیں جیسے مصادر بیان کرتے ہیں، عجائب گھر کا تقویم نہیں۔ 1
ذاتی زندگی
محمد نے 1980ء میں شیخہ سلامہ بنت حمدان آل نہیان سے شادی کی؛ ان کے نو بچے ہیں، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں۔ وہ عمر بھر شکارِ باز کے شوقین رہے اور انہوں نے اپنے نام سے صقارہ اور صحرائی علوم کا ایک اسکول قائم کیا۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
- Successor of
- خلیفہ بن زاید آل نہیان
- Child of
- زاید بن سلطان آل نہیان
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Mohamed bin Zayed Al Nahyan — English Wikipedia
- Mohamed bin Zayed Al Nahyan — Arabic Wikipedia
- Mohamed bin Zayed Al Nahyan — Urdu Wikipedia
- Mohamed bin Zayed Al Nahyan — Wikidata Q1951896
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد بن زايد آل نہيان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohamed-bin-zayed-al-nahyan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.