خلیفہ بن زاید آل نہیان

خليفة بن زايد آل نهيان

–

متحدہ عرب امارات کے دوسرے صدر اور ابوظبی کے حکمران (2004ء–2022ء)، زاید بن سلطان آل نہیان کے بڑے صاحبزادے۔ 1948ء میں العین میں پیدا ہوئے، اپنے والد کے نمائندے برائے مشرقی علاقہ رہے، 1969ء سے ابوظبی کے ولی عہد، نائب وزیرِ اعظم اور نائب سپریم کمانڈر رہے، اور 1990ء کی دہائی کے آخر سے عملی طور پر صدارت کے بعض امور انجام دیتے رہے، حتیٰ کہ 2 نومبر 2004ء کو والد کے جانشین بنے اور اگلے دن صدر منتخب ہوئے۔ ان کے دور میں امارات علاقائی اقتصادی قوت بنی، اتحاد ایئرویز اور لوور ابوظبی قائم ہوئے اور 2010ء میں برج خلیفہ ان کے نام سے منسوب ہوا۔ 2014ء میں فالج کے بعد ان کے سوتیلے بھائی محمد بن زاید روزمرہ امور چلاتے رہے۔ 13 مئی 2022ء کو وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
arabia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علی حسن موینی · علی خامنہ ای · علي يافعي · کولیت خوری · طاہر عثمان باؤچی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعلیم اور ابتدائی عہدے

    خلیفہ نے بچپن کا بیشتر حصہ العین میں گزارا؛ ابتدائی تعلیم میں ایک دینی معلم (مطوع) سے اسلام کے مبادی سیکھے، پھر والد کے مرتب کردہ اسکول میں پڑھے، اور بعد میں برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہوئے۔ 1966ء میں اٹھارہ برس کی عمر میں وہ مشرقی علاقے میں حکمران کے نمائندے مقرر ہوئے، 1969ء میں ابوظبی کے ولی عہد بنے، 1971ء میں ابوظبی کے وزیرِ اعظم، 1973ء میں امارات کے نائب وزیرِ اعظم اور 1976ء میں مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر بنے۔ 1990ء کی دہائی کے آخر سے، والد کی علالت کے باعث، وہ عملی طور پر صدارت کے بعض امور انجام دیتے رہے۔ 1 2

    صدارت: 2004ء–2022ء

    خلیفہ 2 نومبر 2004ء کو والد کے جانشین کے طور پر ابوظبی کے حکمران بنے اور اگلے دن وفاقی سپریم کونسل نے انہیں صدر منتخب کیا۔ ان کے دور میں لوور ابوظبی، نیویارک یونیورسٹی ابوظبی اور سوربون یونیورسٹی ابوظبی جیسے ادارے قائم ہوئے اور اتحاد ایئرویز کی بنیاد پڑی؛ امارات علاقائی اقتصادی قوت بنی اور اس کی غیر تیل معیشت بڑھی۔ 2008ء کے مالیاتی بحران میں انہوں نے دبئی کو اربوں ڈالر کی ہنگامی امداد دی، اور 4 جنوری 2010ء کو دنیا کی بلند ترین عمارت کا نام برج دبئی سے بدل کر ان کے اعزاز میں برج خلیفہ رکھا گیا۔ 1

    آخری ایام اور وفات

    جنوری 2014ء میں خلیفہ کو فالج ہوا اور سرجری کے بعد ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔ اس کے بعد وہ عوامی زندگی سے پیچھے رہے اور صدارت کے رسمی اختیارات ان کے پاس رہے، جب کہ ان کے سوتیلے بھائی محمد بن زاید ریاست کے عوامی امور اور ابوظبی کے روزمرہ فیصلے چلاتے رہے۔ فوربز نے 2018ء میں انہیں دنیا کی طاقتور ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا۔ 13 مئی 2022ء کو ان کی وفات پر محمد بن زاید جانشین بنے۔ 1 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Successor of
    زاید بن سلطان آل نہیان
    Child of
    زاید بن سلطان آل نہیان
    Predecessor of
    محمد بن زايد آل نہيان

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد بن زايد آل نہيان· زاید بن سلطان آل نہیان

    ماخذ

    1. Khalifa bin Zayed Al Nahyan — English Wikipedia
    2. Khalifa bin Zayed Al Nahyan — Urdu Wikipedia
    3. Khalifa bin Zayed Al Nahyan — Wikidata Q1059948
    • Khalifa bin Zayed Al Nahyan — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خلیفہ بن زاید آل نہیان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khalifa-bin-zayed-al-nahyan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد بن زايد آل نہيان

    متحدہ عرب امارات کے تیسرے صدر اور 2022ء سے ابوظبی کے حکمران، زاید بن سلطان آل نہیان کے تیسرے صاحبزادے۔ 1961ء میں پیدا ہوئے، 1979ء میں رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہوئے، مسلح افواج میں خدمات انجام دے کر جنرل بنے، 2004ء میں ابوظبی کے ولی عہد ہوئے، اور 2014ء میں اپنے سوتیلے بھائی خلیفہ کو فالج ہونے کے بعد ریاست کی عملی قیادت سنبھالی؛ مئی 2022ء میں خلیفہ کی وفات پر جانشین بنے اور 14 مئی 2022ء کو صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے مداخلت پسند خارجہ پالیسی کی قیادت کی: داعش کے خلاف جنگ، یمن میں مداخلت، 2017ء میں قطر سے تعلقات کی قطع، 2020ء میں اسرائیل کے ساتھ ابراہیمی معاہدے، اور 2019ء میں جزیرہ نما عرب کی پہلی پوپ کی آمد۔ وہ اخوان المسلمون اور ایران کے کھلے مخالف ہیں۔